Circle Image

سیدمبشرعباس زیدؔی

@Zaidi

صدائیں تھی آہ و بُکا کربلا میں
ستم کی ہوئی انتہا کربلا میں
جسے خود نبیﷺ نے کہا تُو ہے مجھ سے
کٹا ہے اُسی کا گَلا کربلا میں
پرائے نہ تھے کلمہ گو تھے نبیﷺ کے
وہی قتل جن نے کیا کربلا میں

16
کل تلک جس کے لئے تھے یار ہم
آج ہیں اس کے لئے اغیار ہم
چھوڑ دی دِل نے تمنا جینے کی
زندگی سے ہوگئے بیزار ہم
کر خدا آسانیاں پیدا کہ اب
اور اُٹھا سکتے نہیں یہ بار ہم

0
18
ہاتھ بے ساختہ سینے پہ چلا جاتا ہے
آپ گردن مری تعظیم میں جھک جاتی ہے
ہے اثر نامِ محمدﷺ میں کچھ ایسا زیدؔی
جب بھی لیتا ہُوں تو جنت کی مہک آتی ہے

0
14
جینا عذاب ہوگا مرنا عذاب ہوگا
اس طرح بھی ہمارا خانہ خراب ہوگا
سوچا نہ تھا محبت میں ہوگی حالت ایسی
ہم بھی کباب ہوں گے دِل بھی کباب ہوگا
جائیں گے چوری چوری اس کی گلی میں ہم بھی
زائل یہ عقل ہوگی دِل یوں بے تاب ہوگا

0
15
پھیلی ہے روح تک یوں تاثیر مصطفٰیﷺ کی
جاں سے عزیز تر ہے توقیر مصطفٰیﷺ کی
یہ جسم و جان تو کیا سارا جہان واروں
کرنے نہ دُوں کسی کو تحقیر مصطفٰیﷺ کی
آئین جو ملا ہے جینے کا آج ہم کو
عمر اس پہ صرف ہے میرے پیرمصطفٰیﷺ کی

0
19
کرم اتنا کر اپنے بیمار پر
بُلا قبلِ رحلت درِ یار پر
تجھے دیکھنے کی طلب ہے بڑی
عیاں جلوہ کر مجھ خطا کار پر
وہ گلیاں، شہر، راستے دیکھوں میں
جہاں اُترا حق تیرے دلدار پر

0
36
اک وبا جو نفرتوں کی آئی ہے
موت شاید الفتوں کی آئی ہے
کس طرف جاؤں بتا مولا مِرے
ہر طرف شاہی بُتوں کی آئی ہے
عقل و دِل اک دوسرے سے لڑتے ہیں
جب سے منزل وحشتوں کی آئی ہے

0
22
رات اس نے مجھے چھپکے سے گھر اپنے بلا کر
آئی میں۔ ” کہا چھت پہ بس امی کو سُلا کر “
شب بھر رہا اک معرکہ مجھ سے مِرے دِل کا
غائب رہی ارمان وہ کمبخت جگا کر
جب وقتِ سَحر آیا تو آئی منہ اُٹھا کر
کہنے لگی ماں سو گئی تھی کُنڈی لگا کر

0
24
عشق سے، پیار سے، غم سے بیزار کا
اِک نظر دیکھ لے جلوہ تو یار کا
مسکراتے نہیں دیکھا۔ مدت ہوئی۔
مان کہنا دِلِ غم گرفتار کا
نازنیں، گلبدن، مثلِ حور و پری
رکھ بھرم کچھ خدا کے لئے پیار کا

0
26
شب میں گو شمع کہ جل جاتی ہے
عمر ترقُب میں یوں ڈھل جاتی ہے
خواہشیں پوری نہیں ہوتی سب
اک نہ اک خاک میں مِل جاتی ہے
ہو نہ مایوس اے بندہ پرور
قِسمتیں پل میں بدل جاتی ہیں

0
27
جاں بلب ہوتے مشالوں کی آبرو رکھ لی
سَحَر نے غمزدہ حالوں کی آبرو رکھ لی
امیدِ جلوہ ئے جاناں سے دِل شکستہ تھا
خُدا نے پھر مِرے نالوں کی آبرو رکھ لی
مِرے حبیب تجھے رحم آ گیا کیسے؟
کیوں آج درد نِہالوں کی آبرو رکھ لی

0
45
بہانے کرتے ہو تم کیوں مدام اے ساقی
پِلا کبھی تو نگاہوں سے جام اے ساقی
نہ مار ڈالے یہ اندازِ عاشقی تیرا
نظر جھکا کے نہ ہو ہم کلام اے ساقی
حَسین رُت ہے لُطف زندگی کا لینے دو
شراب و حُسن کا کر اہتمام اے ساقی

0
20
کر گیا وقت یہ کرم کیسے
لوٹ کر آگئے ہو تم کیسے
رشتہ تو توڑ کر گئے تھے تم
ہوگئے اب بتا ندم کیسے
کیا ہُوا ہے تپاک کو تیرے
ٹوٹا مغرور یہ مَنم کیسے

0
33
دیکھ تو ہو گئے سِتم کیسے
کھو گئے خاک میں صنم کیسے
ایک دھوکہ ہے زندگی تُو تو
تجھ سے دِل کو لگائیں ہم کیسے
خواب رنگین مت دِکھا مجھ کو
میں اُٹھاؤں گا بارِ غم کیسے

0
25
ایک ہنگامہ جو برپا کر دے
کارنامہ تُو کچھ ایسا کر دے
عزم کو رکھنا بُلند اتنا کہ رب
تُو جو چاہے وہی تیرا کر دے
حوصلہ دے وہ جگر کو پیارے
جو چٹانوں کو بھی ریزہ کر دے

0
44
تم دِل نواز ڈھونڈتے رہنا میں میری جاں
بارِ غمِ حیات اُٹھانے سے تو گیا

0
18
وہ شخص اب تلک ہے انا پر اَڑا ہُوا
ہُوں جس کے در پہ سر کو جھکا کر کھڑا ہُوا
چلتا رہا گر ایسا محبت کا سلسلہ
عاشق مرے گا تیرا یہ خوں تھوکتا ہُوا
تجھ کو تِرا غرور لے ڈوبے گا ایک دن
پھر دربدر پھرے گا مجھے ڈھونڈتا ہُوا

0
29
حوصلہ دِل کا بڑھانا چاہئے
بارِ غم ہر حال اُٹھانا چاہئے
روتے پر ہنستی ہے دنیا۔ آپ کو
درد میں بھی مسکرانا چاہئے
لمحہ لمحہ قیمتی ہے زندگی
خوشگوار اس کو بنانا چاہئے

0
44
ملی جب سے تری قربت نہیں ہے
جی میں تب سے کوئی حسرت نہیں ہے
فقط تنہائیاں ہیں اور میں ہُوں
شریکِ عالمِ وحشت نہیں ہے
نہیں ایسا کہ یہ دنیا ہے خالی
بس اب کے پیار کی طاقت نہیں ہے

0
28
گلہ کیا کریں بے وفائی کا اُن سے
وہ خوش ہے بہت دِل کو میرے جلا کے
دعا ہے خدا خوش رکھے اُس کو ہر پل
جی لیں گے ہم ارمان دِل میں دبا کے
کہیں کل نہ تہمت محبت کو دے وہ
یہی سوچ کر چل دئے رخت اُٹھا کے

0
33
ہمیں خدا کے غضب سے ڈرا کے بیٹھے ہیں
اور آپ حُسن کی محفل سجا کے بیٹھے ہیں
بتاؤ شیخ ذرا تو یہ ماجرا کیا ہے؟
یہ لوگ کیوں وعظ اپنی بھُلا کے بیٹھے ہیں
گناہ میں ہے سرور ایسا کچھ ضرور کہ یاں
جوان و پیر سب ایماں لُٹا کے بیٹھے ہیں

0
57
اور کچھ بھی طلب نہیں مِری مولا محض
ماں باپ کا سایہ سر پہ قائم رکھنا

0
22
گریباں چاک ہے دِل کو جلا کے بیٹھے ہیں
تمھارے عشق میں خود کو لُٹا کے بیٹھے ہیں
ستم ظریف جگہ رحم کو بھی دے جی میں
مُحِب تمام تِرے منہ بنا کے بیٹھے ہیں
دِلِ حزیں کی تمنا کھبی تو کر پوری
نہ جانے کب سے خرابوں میں آ کے بیٹھے ہیں

0
24
آپ کا راستہ ہم نے دیکھا بہت
شکر ہے آ گیا رونقِ بزم تُو

0
11
راستہ دیکھتے رہنا تم
حسرتِ دل چلے ہم تو اب

0
27
اجڑ جائے جو اِک دفعہ محبت میں
کہاں آباد ہوتی ہے وہ بستی پھر
جسے کھا جائے دیمک بدگمانی کی
بڑا نقصان اُٹھاتی ہے وہ ہستی پھر
نہیں جچتی کوئی بھی شے نگاہوں کو
بھلے آئے جواں عمری و مستی پھر

0
24
سَراب و سحر و حظ کا قافلہ ہے
بقا کیا ہے؟ فقط اِک مشغلہ ہے
بسا دِل میں نہ اتنی بھی یہ دنیا
اجل کا پیش آنا مرحلہ ہے
ذرا فکر و تدبر سے تو لے کام
جہاں کُل عبرتوں سے ہی بھرا ہے

0
33
زخموں پہ ڈال کر وہ نمک زور سے ہنسے
زیدؔی مِرے جِگؔر کی بھی عادت عجیب ہے

0
20
جو پیکر ہے سراپا رہنمائی کا
وہی ہے نُور ذاتِ کبریائی کا
پکڑ کے رکھنا۔ دامن مصطفی کا ہی
وسیلہ ہے خدا سے آشنائی کا

0
26
جس کے سبب ہماری طبیعت عجیب ہے
اس شخص کی بھی یار رفاقت عجیب ہے
رکھتے ہو اس سے پیار کی امید اب بھی تم
اے سادہ دل تمھاری بھی چاہت عجیب ہے
تلوار اپنے ہاتھوں سے دے کر اسے تم اب
کہتے ہو نا مُراد کی فطرت عجیب ہے

0
23
فلک سے کر رہے ہو کیوں تماشہ اے مِرے پرور
اُتر کے دیکھ یہ کھیل آپ نے ہی تو رچایا ہے

0
26
آنکھ میں کب تلک نمی ہوگی؟
عمر بھر کیا تِری کمی ہوگی؟
مرتے دم تک خوشی کو ترسوں گا؟
یعنی ہونٹوں پہ خامشی ہوگی؟
ظلمتوں میں بجائے دیپک کے
دل جلا نے سے روشنی ہوگی؟

0
28
چاہتا تھا وہ فرشتوں سا صنم
سو گنہگاروں پہ کیا کرتا کرم
بد نصیبوں کے مقدر میں کہاں
جلوہ ئے حُور و پری باغِ اِرَم
خاک کرتا عشق ہم سے وہ حسیں
آسماں تھے اس کے آگے سرِ خم

0
35
تجھ کو ہے خو ئے بدگمانی کیوں؟
چھیڑ دی بات پھر پرانی کیوں؟
کیا کہا؟ تیرے دِل سے اُترا ہوں
کر رہی ہو غلط بیانی کیوں؟
گر محبت نہیں رہی مجھ سے
پاس رکھی ہے یہ نشانی کیوں؟

0
39
کیسا رشتہ ہے تعلق ہے یہ کیسا جانی؟
مخلصی ہے نہ کوئی پیار و محبت جانی
کب تلک بوجھ اُٹھائیں گے یونہی مر مر کے
قصہ کر ختم یہ بے سود بے لذت جانی
وقت رکتا ہے کہاں کس کے لئے سادہ دل
رائیگاں کر رہے ہو زیستُ صباحت جانی

0
24
یہ کیسی بے قراری ہے
عجب وحشت سی طاری ہے
میں اپنے آپ میں ہُوں یا
تُو نے مستی اُتاری ہے
سبب آخر ہے کیا اس کا
طلب سب کو تمھاری ہے

23
مجھے ہر اذیت گوارا ہے لیکن
بچھڑنا گوارا نہیں تم سے یارا
تو جس حال میں بھی رکھے گا رہوں گی
مگر ایک پل تیرے بن نا جئوں گی
خدا کے لئے ترک کر یہ ارادہ
نہ کر جانِ جاں انفصالِ کنارا

0
47
سکت اب نہیں مجھ میں باقی
کہ گھاؤ سہوں اور تمھارے
یہ عالم ہے اب بے بسی کا
کہ دِل موت پر بھی ہے راضی
سمجھ میں نہیں آ رہا کچھ
غمِ زندگی کیا کروں میں

0
39
ڈرا ہجر کے خوف سے اس قدر تھا
کہ سب جانتا تھا مگر چپ رہا میں

0
66
چراغاں ایسے ہی ظلمت نہیں ہوتی
یہ شاہِ آسماں کی کن ادائی ہے
نہ روکو آج مجھ کو حظ اٹھانے دو
مِرے گھر میں خدا کی رحمت آئی ہے

0
24
رہتے ہو میرے دل میں ایسے تم
جیسے مومن کے دل میں ہو یزداں

0
47
اے دِل خدارا ضد نہ کر منانے کی
طویل عرصہ ہو گیا جدا ہوۓ
تو جس کے ہجر میں ہے بے قرار وہ
کسی کے ہو گا عشق میں پڑے ہوۓ
نہیں ہے اب وہ مخلصی زمانے میں
نبھاتے تھے جو رشتوں کو۔ بِدا ہوۓ

0
38
مجھے یہ غم کہ مجھے وہ نہیں ملا
اسے یہ غم کہ اسے وہ نہیں ملا
یہی غم کھا گیا ہم دونوں کو زیدؔی
نہیں ملا کہ مجھے وہ نہیں ملا

0
6
74
دور ایسا دور ہے یہ دور میاں کیا میں کہوں
نا نگاہوں میں حیا ہے نا کہیں دل میں قدر

0
38
چلو مانا کہ محبت نہیں اچھی
مگر اس کے سوا اور دنیا میں کیا ہے

0
22
ہاتھ ترے بعد بڑھایا بہت لوگوں نے
دل یہ کسی سے لگا پھر نہ سکا میں کھبی

0
21
اگر جینا بھی دشوار کرنا تھا
کی پھر ممنوع کیوں خود کشی مولا

0
21
جب مرے دل کی بھٹی جلتی ہے
درد کو پھر ہوا میں دیتا ہوں
گرمیِ عشق لاوا اگلے جب
شاعری تب میں زیدؔی کرتا ہوں

0
56
زمانہ ہو مخالف تو مخالف ہی سہی زیدی
کھبی گھبرا کہ تو پرواز میں اپنی کمی نا کر

0
58
اس جہاں میں فقط تمہی ہو کیا؟
حق کسی اور کا نہیں مجھ پر؟

0
29
درد کی آغوش میں
دم یہ نکلے نا کہیں

0
32
توجہ نہ دے اس پر اے دل
نہیں حاصلِ عشق کچھ بھی

0
28
فقط ایک تم ہی نہیں میرے حق میں
کھڑا ہے زمانہ مرے ساتھ باقی

0
49
گلے سے لگایا مجھے چاند نے جب
کئی ٹوٹے تارے جگر آسماں سے

0
32
دکاں میں رکھی کوئی گڑیا نہیں ہوں
کہ حاصل کرے کوئی دولت سے مجھ کو
مجھے کرنا حاصل نہیں اتنا آساں
کروگے طلب دستِ قدرت سے مجھ کو
انا ہے یہ تیری محبت نہیں ہے
اگر تم کو ہوتی محبت ذرا بھی

0
107
کسی طرح کر حفاظت اس کی تو ہی وگرنہ
یہ دِل محبت میں ڈوب جائے گا میرے مولا

0
75
تری خاطر میں سب کچھ ہار بیٹھا ہوں
نہ ملا تو تو پھر ڈھانی قیامت ہے

0
83
پری زادوں سے ہُوا کر نہ شکیبا زیدؔی
نہیں ممکن یہ وفا اب کے حُسن والوں سے

0
34
غمِ ہجر سے ڈر گیا ہے وگرنہ
دھڑکتا تھا زیدؔی یہ دل پہلے پہلے

0
47
تو غم نہ کر بارِ ارتقا میں جہاں کہیں بھی اتار لوں گا
دو چار دن ہیں کسی طرح بھی بغیر تیرے گزار لوں گا

0
51
نہ مرنے کا ڈر ہے نہ جینے کی چاہت
مجھے چاہئے تیری بانہوں میں راحت
بھلے سر ازالے میں دینا پڑے بھی
کروں گا میں حاصل یہ تیری صباحت
نہ کر فکر تُو میں تمھارے لئے جاں
سبھی سے رکھوں گا طریقِ فکاہت

0
55
گزارنی تھی جس کے ساتھ زندگی
اسے وداع کیا ہے اپنے ہاتھ سے

0
60
شبِ غم ہوتی یا روزِ قیامت ہوتا
ہر لحظہ تازہ دم وہ سر او قامت ہوتا
اس کو میں یوں ہی تو ربیل نئیں کہتا تھا
ریزاں رُت میں گل اندام سلامت ہوتا

0
73
تیرگی میں کسی جلتی شمع بے دم کی طرح
تیرے بن عید گزاری ہے محرم کی طرح

0
75
نہ بجھا پائی جسے اشکوں کی طغیانی بھی
وہ آگ مِرے اندر لگا رکھی ہے تو نے

0
55
تیری تعظیم میں اتنا میں جھک گیا
ہوگئی خاک آلود پگڑی مِری

0
76
یہ عقیدوں کے نابینا لوگ
بینائی کمال کی رکھتے ہیں

28
یوں تو وہ کالج کی چشمش لڑکی تھی
پر مثلِ شاہین تھی نظر رکھنے میں

0
143
وقت تو وقت ہے وقت رکتا نہیں
خوش نہ ہو سال یہ بھی گزر جائے گا
خوف کھا،رب سے ڈر نیکیاں کچھ کما
وقت کے ساتھ تُو بھی گزر جائے گا

0
92
جا رہی تھی مریضوں کی دوا کرنے
پر معالج ہی خود بیمار ہوگئ

0
47
جشن ہر سال نئے سال کا مناتے ہیں
اور نیا سال پھر آفات نئے لاتا ہے

0
27
محبت فقط وہ نبھاتا مجھی سے
وہ تھا ہم نوا دل لگاتا مجھی سے
مجھی پر لٹاتا وہ تن من بھی زیدؔی
وہ لڑتا جھگڑتا بھی تو بس مجھی سے
مگر موہ پر داغ لگنے نہ دیتا
بھلے عمر بھر دُکھ میں رہتا مجھی سے

0
51