Circle Image

سید مبشر عباس زیدؔی

@Zaidi

ڈرا ہجر کے خوف سے اس قدر تھا
کہ سب جانتا تھا مگر چپ رہا میں

0
4
چراغاں ایسے ہی ظلمت نہیں ہوتی
یہ شاہِ آسماں کی کن ادائی ہے
نہ روکو آج مجھ کو حظ اٹھانے دو
مِرے گھر میں خدا کی رحمت آئی ہے

0
2
رہتے ہو میرے دل میں ایسے تم
جیسے مومن کے دل میں ہو یزداں

0
16
اے دِل خدارا ضد نہ کر منانے کی
طویل عرصہ ہو گیا جدا ہوۓ
تو جس کے ہجر میں ہے بے قرار وہ
کسی کے ہو گا عشق میں پڑے ہوۓ
نہیں ہے اب وہ مخلصی زمانے میں
نبھاتے تھے جو رشتوں کو۔ بِدا ہوۓ

0
5
مجھے یہ غم کہ مجھے وہ نہیں ملا
اسے یہ غم کہ اسے وہ نہیں ملا
یہی غم کھا گیا ہم دونوں کو زیدؔی
نہیں ملا کہ مجھے وہ نہیں ملا

0
6
49
دور ایسا دور ہے یہ دور میاں کیا میں کہوں
نا نگاہوں میں حیا ہے نا کہیں دل میں قدر

0
9
چلو مانا کہ محبت نہیں اچھی
مگر اس کے سوا اور دنیا میں کیا ہے

0
4
ہاتھ ترے بعد بڑھایا بہت لوگوں نے
دل یہ کسی سے لگا پھر نہ سکا میں کھبی

0
5
اگر جینا بھی دشوار کرنا تھا
کی پھر ممنوع کیوں خود کشی مولا

0
4
جب مرے دل کی بھٹی جلتی ہے
درد کو پھر ہوا میں دیتا ہوں
گرمیِ عشق لاوا اگلے جب
شاعری تب میں زیدؔی کرتا ہوں

0
7
زمانہ ہو مخالف تو مخالف ہی سہی زیدی
کھبی گھبرا کہ تو پرواز میں اپنی کمی نا کر

0
27
اس جہاں میں فقط تمہی ہو کیا؟
حق کسی اور کا نہیں مجھ پر؟

0
9
درد کی آغوش میں
دم یہ نکلے نا کہیں

0
4
توجہ نہ دے اس پر اے دل
نہیں حاصلِ عشق کچھ بھی

0
7
فقط ایک تم ہی نہیں میرے حق میں
کھڑا ہے زمانہ مرے ساتھ باقی

0
10
گلے سے لگایا مجھے چاند نے جب
کئی ٹوٹے تارے جگر آسماں سے

0
5
دکاں میں رکھی کوئی گڑیا نہیں ہوں
کہ حاصل کرے کوئی دولت سے مجھ کو
مجھے کرنا حاصل نہیں اتنا آساں
کروگے طلب دستِ قدرت سے مجھ کو
انا ہے یہ تیری محبت نہیں ہے
اگر تم کو ہوتی محبت ذرا بھی

0
55
کسی طرح کر حفاظت اس کی تو ہی وگرنہ
یہ دِل محبت میں ڈوب جائے گا میرے مولا

0
28
تری خاطر میں سب کچھ ہار بیٹھا ہوں
نہ ملا تو تو پھر ڈھانی قیامت ہے

0
37
پری زادوں سے ہُوا کر نہ شکیبا زیدؔی
نہیں ممکن یہ وفا اب کے حُسن والوں سے

0
18
غمِ ہجر سے ڈر گیا ہے وگرنہ
دھڑکتا تھا زیدؔی یہ دل پہلے پہلے

0
20
تو غم نہ کر بارِ ارتقا میں جہاں کہیں بھی اتار لوں گا
دو چار دن ہیں کسی طرح بھی بغیر تیرے گزار لوں گا

0
15
نہ مرنے کا ڈر ہے نہ جینے کی چاہت
مجھے چاہئے تیری بانہوں میں راحت
بھلے سر ازالے میں دینا پڑے بھی
کروں گا میں حاصل یہ تیری صباحت
نہ کر فکر تُو میں تمھارے لئے جاں
سبھی سے رکھوں گا طریقِ فکاہت

0
15
گزارنی تھی جس کے ساتھ زندگی
اسے وداع کیا ہے اپنے ہاتھ سے

0
16
شبِ غم ہوتی یا روزِ قیامت ہوتا
ہر لحظہ تازہ دم وہ سر او قامت ہوتا
اس کو میں یوں ہی تو ربیل نئیں کہتا تھا
ریزاں رُت میں گل اندام سلامت ہوتا

0
20
تیرگی میں کسی جلتی شمع بے دم کی طرح
تیرے بن عید گزاری ہے محرم کی طرح

0
50
نہ بجھا پائی جسے اشکوں کی طغیانی بھی
وہ آگ مِرے اندر لگا رکھی ہے تو نے

0
22
تیری تعظیم میں اتنا میں جھک گیا
ہوگئی خاک آلود پگڑی مِری

0
43
اجڑ جائے جو اک دفعہ محبت میں
کہاں آباد ہوتی ہے وہ بستی پھر
جسے کھا جائے دیمک بدگمانی کی
بڑا نقصان اُٹھاتی ہے وہ ہستی پھر
نہیں جچتی کوئی بھی شے نگاہوں کو
بھلے آئے جواں عمری و مستی پھر

0
31
یہ عقیدوں کے نابینا لوگ
بینائی کمال کی رکھتے ہیں

15
یوں تو وہ کالج کی چشمش لڑکی تھی
پر مثلِ شاہین تھی نظر رکھنے میں

0
36
وقت تو وقت ہے وقت رکتا نہیں
خوش نہ ہو سال یہ بھی گزر جائے گا
خوف کھا،رب سے ڈر نیکیاں کچھ کما
وقت کے ساتھ تُو بھی گزر جائے گا

0
50
جا رہی تھی مریضوں کی دوا کرنے
پر معالج ہی خود بیمار ہوگئ

0
26
جشن ہر سال نئے سال کا مناتے ہیں
اور نیا سال پھر آفات نئے لاتا ہے

0
10
محبت فقط وہ نبھاتا مجھی سے
وہ تھا ہم نوا دل لگاتا مجھی سے
مجھی پر لٹاتا وہ تن من بھی زیدؔی
وہ لڑتا جھگڑتا بھی تو بس مجھی سے
مگر موہ پر داغ لگنے نہ دیتا
بھلے عمر بھر دُکھ میں رہتا مجھی سے

0
29