سکت اب نہیں مجھ میں باقی
کہ گھاؤ سہوں اور تمھارے
یہ عالم ہے اب بے بسی کا
کہ دِل موت پر بھی ہے راضی
سمجھ میں نہیں آ رہا کچھ
غمِ زندگی کیا کروں میں
کوئی ایسا رستہ دکھا دے
جہاں بار دل کا اتاروں
کوئی تو میرا درد بانٹے
کہیں پل سکوں کے گزاروں
کر اتنا کرم تو خدارا
کہ اور نا جلوں اندروں میں
غمِ زندگی کیا کروں میں
غمِ زندگی کیا کروں میں

0
36