کیسا رشتہ ہے تعلق ہے یہ کیسا جانی؟
مخلصی ہے نہ کوئی پیار و محبت جانی
کب تلک بوجھ اُٹھائیں گے یونہی مر مر کے
قصہ کر ختم یہ بے سود بے لذت جانی
وقت رکتا ہے کہاں کس کے لئے سادہ دل
رائیگاں کر رہے ہو زیستُ صباحت جانی
جب دِل و جان نہیں ایک تو رشتہ کیسا
طوق کو نام نہ دے قُرب و رفاقت جانی
شہر آرا ہے خلوص اور وفا سے سارا
پر نہیں تجھ میں محبت کی جسارت جانی
توڑتے قید کی زنجیر نہیں کیوں آخر؟
ہر گھڑی مار رہی ہے یہ اذیت جانی
عزت و آبرو کا خطرہ جہاں ہو زیدؔی
ربط رکھنے کی وہاں کر نہ حماقت جانی

0
19