یہ کیسی بے قراری ہے
عجب وحشت سی طاری ہے
میں اپنے آپ میں ہُوں یا
تُو نے مستی اُتاری ہے
سبب آخر ہے کیا اس کا
طلب سب کو تمھاری ہے
سخن دِل کرنا چاہے پر
زباں کمبخت بھاری ہے
نکال اس کرب سے مجھ کو
خلش یا رب یہ کاری ہے
الجھ نا پیار میں زیدؔی
کہ تم پر ذمہ داری ہے

17