نہ مرنے کا ڈر ہے نہ جینے کی چاہت
مجھے چاہئے تیری بانہوں میں راحت
بھلے سر ازالے میں دینا پڑے بھی
کروں گا میں حاصل یہ تیری صباحت
نہ کر فکر تُو میں تمھارے لئے جاں
سبھی سے رکھوں گا طریقِ فکاہت
کرے جتنی بھی کوششیں یہ زمانہ
کھبی جیتے گی نا یہ اُن کی کراہت
ملی ہے کسے نفرتوں میں فلاحی
کی حاصل ہے کس نے انا میں وجاہت
تخیل بڑھا عقل کو وسعتیں دے
نہ بھر پاؤگے خسروانِ سفاہت
سدھر جا اے زیدؔی نہ کر باؤلا پن
تِرے فیصلے میں چھپے ہیں جراحت

0
46