مجھے ہر اذیت گوارا ہے لیکن
بچھڑنا گوارا نہیں تم سے یارا
تو جس حال میں بھی رکھے گا رہوں گی
مگر ایک پل تیرے بن نا جئوں گی
خدا کے لئے ترک کر یہ ارادہ
نہ کر جانِ جاں انفصالِ کنارا
جئیں گے مریں گے تو اک ساتھ دونوں
ذرا یاد کر عہد تو نے کیا تھا
نہ شرمندہ کرنا محبت کو پیارے
بھرم رکھ وفا کا مِرے دل کے دارا

0
42