جاں بلب ہوتے مشالوں کی آبرو رکھ لی
سَحَر نے غمزدہ حالوں کی آبرو رکھ لی
امیدِ جلوہ ئے جاناں سے دِل شکستہ تھا
خُدا نے پھر مِرے نالوں کی آبرو رکھ لی
مِرے حبیب تجھے رحم آ گیا کیسے؟
کیوں آج درد نِہالوں کی آبرو رکھ لی
بہک گیا تھا جوانی کے جوش میں آ کر
مگر پھر اپنے خصالوں کی آبرو رکھ لی
جب آئی بات بزرگوں کی لاج پر۔ کٹ کے
ہمی نے اُن کی مثالوں کی آبرو رکھ لی
نہ تھا تُو تو کھبی قائل شکستہ شیشوں کا
کیوں آج ٹوٹے پیالوں کی آبرو رکھ لی
خدا دراز کرے عمر جانِ زیدؔی تری
کہ تو نے چاہنے والوں کی آبرو رکھ لی

0
42