Circle Image

Amr Ali

@AmrAlvi

ہم خیالوں کی لاج رکھ لیتا
خستہ حالوں کی لاج رکھ لیتا
جاتے جاتے پکار ہی لیتا
جانے والوں کی لاج رکھ لیتا
مے کدے میں تو ساتھ ہوتے تھے
ہم پیالوں کی لاج رکھ لیتا

0
1
یہ تیرہ بختی مرے واسطے تو نعمت ہے
کہ منہ لگاتا ہے کوئی نہ لگنا پڑتا ہے

0
5
دونوں عالم کا نور پردے میں
حسن کا ہے سرور پردے میں
کس پہ سب کی نگاہیں ٹھہری ہیں
کون رہتا ہے دور پردے میں
بے حسی کی دبیز تہہ اندر
سو رہا ہے شعور پردے میں

0
7
دیکھیے اس کا چناؤ سر ہے یا دستار ہے
پشت پر دیوار جس کے سامنے تلوار ہے

0
4
میں باپ دادا سے واقف ہوں اہلِ کوفہ سے
کسی کا خط ہو مجھے اعتبار کیا کرنا

0
5
عکسِ عالی صفات دے دیتا
فہمِ موت و حیات دے دیتا
اِس حیاتِ طویل کے بدلے
کوئی رمزِ حیات دے دیتا
میں نے مانگا نہیں فقیر ترا
مٹھی بھر کائنات دے دیتا

0
17
زندگی ایک نئی دین کو بخشی تو نے
لاج ناناﷺ سے کیے عہد کی رکھی تو نے
قل انا صلاتی جو کہا سرورِ دیں نے
واہ کیا خوب یہ آیت بھی ہے سمجھی تو نے
ایک اپنی، بہتر کی علی بابا کی
رب بھی نازاں ہے نماز اب جو ادا کی تو نے

0
6
بات میری قبول ہے کوئی
تیرے دکھ پر ملول ہے کوئی
خاک آکاش سے نہیں ملتی
دل لگی کا اصول ہے کوئی
گلِ لالہ ہو یا کوئی گل رخ
فرق ان میں قبول ہے کوئی

0
16
مجھ پر نوازشات کی برسات ہو گئی
اس ہجرِ نامراد کی بھی رات ہو گئی
جن اور ملائکہ سے تو جیتا ہوں میں مگر
اپنے سے اک بشر سے مجھے مات ہو گئی
کچھ اس ادا سے اس نے کہا تھا میں ایک ہوں
دل پر ازل سے نقش یہی بات ہو گئی

0
17
اس نے پوچھا تھا
کیسی لگتی ہوں؟
میں نے بتلایا ساری اچھی ہو
اس نے ہنس کر کہا
امر علوی!
یار تم بھی غضب کے

0
12
یہ سلطنت کا جو اک دم نظام بیٹھ گیا
ضرور تخت پہ کوئی غلام بیٹھ گیا
سحر سے چلتا ہوا شمس شام بیٹھ گیا
ہمارے ساتھ ہی وہ خوش خرام بیٹھ گیا
کسی فقیر کی نظروں کا بوجھ اس پر ہے
کہ خامشی سے دلِ بے لگام بیٹھ گیا

0
21
کتنے ہی سایہ دار شجر اب کے کٹ گئے
جو علم و فضل کے تھے سمندر سمٹ گئے
ساقی میں اب عطا کا جنوں وہ نہیں رہا
یا بادہ خوار آپ ہی در سے پلٹ گئے
یوں دورِ انتظار کٹا اس کی چاہ میں
چھتیس سال عمر کے  جھٹ پٹ نبٹ گئے

16
آپ کو آپ سا ملا کوئی
ہم نے پایا نہ دوسرا کوئی
اس روانی سے حادثات ہوئے
خواب کا جیسے سلسلہ کوئی
مصلحت بیں سبھی یہاں ٹھہرے
شہر میں آئینہ ملا کوئی

0
11
ناحق آوازے کستے ہیں
پھر دکھ ہی جھولی پڑتے ہیں
بیلی! تم نے بھائی بولا
اب دل کو لاحق خدشے ہیں
ماں کے لقمے گننے والے
رسوا ہو کر ہی مرتے ہیں

0
13
عکس دل پر اتارنا ہے ابھی
اپنا چہرہ سنوارنا ہے ابھی
ایک عرصہ گزار آئے ہیں
ایک لمحہ گزارنا ہے ابھی
زندگی مشکلوں سے جیتا ہوں
اور سہولت سے ہارنا ہے ابھی

0
25
غزل غزال پہ کہتا ردیف کیا رکھتا
خیال بحر میں جڑتا ردیف کیا رکھتا
مری گرفت میں آیا نہ قافیہ کوئی
زمین سامنے رکھتا ردیف کیا رکھتا
خیال، لفظ، زمیں، بحر، قافیہ، بندش
کمال رنگ میں بھرتا ردیف کیا رکھتا

0
13
آج پھر دل کے دھڑکنے کا ہے انداز وہی
آج ملنے مجھے لگتا ہے کہ امر آیا ہے

0
13
کتنے ہی زاویوں میں، میں تقسیم ہو گیا
اسرار تیری ذات کے لیکن نہ کھل سکے

0
11
جب بھی جھانکا تو نظر یار کی صورت آئی
لوگ کہتے ہیں دلوں میں تو خدا رہتا ہے

0
18
ایک آدھا ہابیل ہوتا ہے
سارے بھائی قابیل تھوڑی ہیں

0
14
اس کے چہرے کا نور دیکھا
اور دل مانند طور دیکھا
ہر ایک شے دسترس میں پائی
آنکھ اٹھا کر جو دور دیکھا
تم نے کاری گری دکھائی
ہم نے اپنا قصور دیکھا

0
20
کربِ ہجراں سے سو نہیں سکتے
اتنا دکھ ہے کہ رو نہیں سکتے
داغ ایسا لگا محبت کا
ست سمندر بھی دھو نہیں سکتے
مرثیہ بھی کہا نہیں جاتا
دلِ مردہ کو رو نہیں سکتے

32
نہ ہو بلبل تو خوشبو کا نگر اچھا نہیں لگتا
تمہارے بن ہمیں اپنا بھی گھر اچھا نہیں لگتا
تمہارے سنگ کانٹوں پر بھی چلنا اچھا لگتا تھا
تمہارے بعد تاروں کا سفر اچھا نہیں لگتا
سلگتی دھوپ بھی منظور ہے گر ساتھ تیرا ہو
مہکتا ہجر بھی تیرا مگر اچھا نہیں لگتا

24
کچھ آرزوئے بتاں شاملِ خمیر بھی ہے
یونہی چراغ پہ تھوڑی پتنگ آتے ہیں

22
زندگی اپنی وہ بھی جیتی ہے
قسم ہے صبح سانس لیتی ہے
آپ کیوں زرد پڑ گئے صاحب
یہ فقط میری آپ بیتی ہے
امنِ عالم کا خون کرتی ہے
ایسی ڈائن یہ راج نیتی ہے

29
شمار ہوتے رہے عمر بھر گناہ و ثواب
کہیں نہ درج ہوئے دکھ، نہ آگہی کے عذاب
جی ان کی چاہ میں یوں راستوں پہ نقش رہے
کہ جیسے میلوں مسافت کے دشت میں ہوں سراب
ہمیں اگر نہ یہ دو چار اہل دل ملتے
قسم اے زندگی کر دیتے تیرا خانہ خراب

1
40
دل کی مٹی کو کسی کام میں لایا جائے
پیڑ ممکن جو نہیں جھاڑ اگایا جائے
بنتِ حوا سے ہے عالم میں ترنم کا سماں
ابنِ آدم بھی دھنک رنگ بتایا جائے
ہاں اسی شہر میں رہتی ہے وہ خوابوں والی
اب ٹھکانہ یاں فی الفور لگایا  جائے

52
حصار ذات سے باہر نکل کے دیکھیے تو
حضور خود کو بھی تھوڑا بدل کے دیکھیے تو
قسم خدا کی ہے دنیا بڑی حسین بلا
اور اس کے سحر زدہ لوگ ،چل کے دیکھیے تو
دو سہ پہر ہی سورج کا ذکر ہوتا ہے
یقیں نہ آئے، کسی روز ڈھل کے دیکھیے تو

42
اب خدا سے تری خاطر نہیں الجھا جاتا
اب میں تھک جاتا ہوں مجھ سے نہیں جاگا جاتا
چاند یہ کہتا ہوا بامِ فلک آیا ہے
چڑھتے سورج کو اے لوگو نہیں پوجا جاتا
ویسے وہ اسم مرے وردِ زباں رہتا ہے
مسئلہ یہ ہے کہ دل پر نہیں لکھا جاتا

53
جی نہیں لگتا کسی شے میں یہاں کوچ کریں
مل ہی جائے گی کوئی جائے اماں کوچ کریں
ڈھونڈ لیتے ہیں کوئی اور زمیں اپنے لیے ہم
کھوج لیتے ہیں کوئی اور جہاں کوچ کریں
عمر جب اپنے سہارے ہی بتانی ہے ہمیں
فرق کیسا جو یہاں ہوں یا وہاں کوچ کریں

51