Circle Image

Nasir Aziz

@nasiraziz

جشن نور مبارکمجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ اس مرتبہ دیوالی بڑے جوش و خروش سے منائی جارہی ہے اور لوگوں میں ایک نئے قسم کی امنگ نظر آتی ہے جو پچھلے دو سال سے مفقود تھی ۔ پچھلے دو سالوں میں انتہائی درجے کی تباہی و بربادی ، بیماری ، ہلاکت، اقتصادی بحران کو دیکھ کر لوگ اتنے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ لوگ گھروں سے نکل نہ پاتے تھے لیکن تقریبا پانچ ماہ سے کورونا کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی اموات میں بہت کمی آئی اور جیسے جیسے کورونا کا اثر کم‌ہوا لوگوں نے بھی دبے رکے  ہوئے قدم اٹھانے شروع کیے،  کچھ ملنا جلنا شروع کیا ۔ حکومتوں نے بھی بازار، سنیما، تفریح گاہیں کھو لیں ۔ چہل پہل بازاروں میں واپس لوٹی اور نومبر آتے آتے جو خدشات تھے اللہ کے فضل سے وہ ظہور میں نہیں آئے اور اس لئے ماحول جشن کا ماحول بن گیا  اللہ اس کو دائم و قائم رکھے لوگوں کو ان کی خوشی وا پس ملے, لوگوں کو ان کے روزگار واپس ملیں , کاروبار پھر سے چلنے لگے اور یہ دنیا پھر وہی جو تھرکتی دنیا تھی، جو لہکتی دنیا تھی ،جو مہکتی دنیا تھی ، واپس ویسی ہی ہو جاۓ جہاں کوئی بیر نہ ہو ، کسی بھی قسم کی نفرت نہ ہو ، بس انسا

6
رات کو سوۓ صبح کو جاگے ایک خزانہ ہاتھ لگا
خواب میں دیکھے دوست پرانے ، گیا زمانہ ہاتھ لگا
ساتھ میں سب کے چھت پر پہنچے عید کا چاند نظر آیا
اس کی دید کا یارو ہم کو خوب بہانہ ہاتھ لگا
سردی گزری الماری میں کوٹ کو ٹانگ کے بھول گیے
سردی آیی کوٹ نکالا شعر پرانا ہاتھ لگا

0
3
کاش پھر خدا ہم کو رہنمائے یکتا دے
کاش پھر سے پیدا ہو ہم میں کوئی سر سید
کاش پھر کوئی ہم کو علم‌کی ردا بخشے
کاش کوئی ہو ہم میں پھر سے عالمِ جید

0
5
اس سے ملنے کی توقع گرچہ اب معدوم ہے
دل ہمارا اب بھی محو ِسعییِ نا معلوم ہے
مٹ چکے سارے نشاں اس کے ہمارے ذہن سے
نام اب بھی جادۂ ِ دل پر مگر مرقوم ہے
ہر بدی سے ہو بدی اور نیکیوں سے نیکیاں
یہ نتیجہ تو ابد سے لازم و ملزوم ہے

0
10
اپنی جڑوں سے کٹ کے کہیں کے نہیں رہے 
ہم دائروں میں بٹ کے کہیں کے نہیں رہے 
گو دور ہی سہی وہاں اس کامکاں تو تھا 
ہم اس گلی سے ہٹ کے کہیں کے نہیں رہے 
وعدہ نبا ہتے تھے تو نورِ نظر تھے ہم
وعدے سے یوں پلٹ کے کہیں کے نہیں رہے 

0
29
گفتگو میں نہ لفظِ تو رکھیے
اعلیٰ معیارِ گفتگو رکھیے
اس کے مصحف کی دید سے پہلے
اپنی آنکھوں کو با وضو رکھیے
مجھ کو پڑھیے ذرا سلیقے سے
میرے چہرے کی آبرو رکھیے

0
22
عشق وشق اور قسمیں وعدے اپنے بس کی بات نہیں
بھلے ہی کوئی اور نبھا دے اپنے بس کی بات نہیں
اس کو لبھا ئیں پینگ بڑھائیں عشق لڑائیں نا ممکن
ہم ٹھہرے بس سیدھے سادے اپنے بس کی بات نہیں

0
15
خون کا اپنے چھینٹا مارتے ہیں
عارضِ زندگی نکھارتے ہیں
اس کی یادوں کے پھول مہکا کر
اس کی خوشبو میں دن گذارتے ہیں
دل کے جلتے چراغ کی لَو سے
آرتی تیری ہم اتارتے ہیں

0
14
تقلید و پیروی میں بھلے آنکھ بند کر
اپنے حقوق کے لیے آواز تو اٹھا
بے جا تو اور لوگوں پہ مت اعتراض کر
جانا تجھے جدھر ہے بھلے ہی ادھر تو جا
جس بات پر سبھی کو بہت ہی ملال ہے
کیسی عجیب بات ہے اس پر تو خوش ہوا

0
35
تنہائی کے وبال سے تنگ آگئے ہیں ہم
محرومیِ وصال سے تنگ آگئے ہیں ہم
اس بار جو ملا تو لگے گا وہ کیا گلے
اس بے تکے خیال سے تنگ آگئے ہیں ہم
ہم کو ندامتوں کے بھنور میں پھنسا دیا
اس خوۓ ارتجال سے تنگ آگئے ہیں ہم

0
30
ایک فرعون کی رضا کے لیے
مت خدا کہہ اُسے خدا کے لیے
ہم نے کھوۓ ہیں قیمتی رشتے
ایک بیکار سی انا کے لیے
ہم پیٔے جا رہے ہیں زہرِ حیات
اے خدا بس تری رضا کے لیے

25
مری ان بند آنکھوں میں مناظر رقص کرتے ہیں
کہ جیسے خانقاہوں میں مجاوِر رقص کرتے ہیں
ذرا نزدیک جانے پر یہ پاؤ گے کہ بھوکے ہیں
وہ بچّے شاہ راہوں پر بظاہر رقص کرتے ہیں
اسے اقدار و احساسات کا ہی فرق سمجھیں گے
میں جن باتوں پہ شرمندہ ، معاصر رقص کرتے ہیں

10
جھوٹ کا ساتھ گر نبھاؤ گے
کیسے خود سے نظر ملاؤگے
آج ہر شخص بن گیا ہے خدا
سامنے کس کے سر جھکاؤگے
یہ تکلّف یہ نازُکی یہ حیا
ان اداؤں سے مار جاؤ گے

0
17
ہمارے شہر میں معصوم کتنے مارے گئے
جو تیرے عشق میں بیمار تھے وہ سارے گئے
اگرچہ تو نے ڈبویا تھا ان بِچاروں کو
وہ ڈوبتے رہے لیکن تجھے پکارے گئے
وہ کیا گیے کہ مری شاعری بھی ماند پڑی
کہ جن سے شعر تھے روشن وہ استعارے گئے

0
21
ہمارے شہر میں معصوم کتنے مارے گئے
جو تیرے عشق میں بیمار تھے وہ سارے گئے
اگرچہ تو نے ڈبویا تھا ان بِچاروں کو
وہ ڈوبتے رہے لیکن تجھے پکارے گئے
وہ کیا گیے کہ مری شاعری بھی ماند پڑی
کہ جن سے شعر تھے روشن وہ استعارے گئے

0
10
عادتیں جب خراب ہوتی ہیں
لذتیں پھر عذاب ہوتی ہیں
مشکلیں زندگی کا سچ ہیں میاں
راحتیں تو سراب ہوتی ہیں
منزلوں پر پہنچنے سے پہلے
مشکلیں ہم رکاب ہوتی ہیں 

0
24
جو میرے جسم و روح کا سوہان بن گیا
اب اس کو کیا کروں وہ مری جان بن گیا
سارا کلام اپنا معنون کیا اسے
وہ جب مری حیات کا عنوان بن گیا
ایسی نظر ملی مری کافر نگاہ سے 
اب اس کا عشق ہی مرا ایمان بن گیا

31
جو میرے جسم و روح کا سوہان بن گیا
اب اس کو کیا کروں وہ مری جان بن گیا
سارا کلام اپنا معنون کیا اسے
وہ جب مری حیات کا عنوان بن گیا
ایسی نظر ملی مری کافر نگاہ سے
اب اس کا عشق ہی مرا ایمان بن گیا

0
33
اپنی سیاہ کاریاں سب سے چھپاتے ہیں
گہری اندھیری رات ہو تب گل کھلاتے ہیں
جن کی صداقتوں کی قسم سب اٹھاتے ہیں
پکڑے انہی فرشتوں کے لکھے پہ جاتے ہیں
دنیا کے واسطے جو کسی کام کے نہیں
ایسے تمام لوگوں کے ہم کام آتے ہیں

0
13
وہ ہم سے روٹھ کے جب دور جا کے بیٹھ گئے
تو ہم بھی آ س کا تکیہ لگا کے بیٹھ گئے
اثاثہ سلف کا سارا لٹا کے بیٹھ گئے
زبان ہی تو بچی تھی وہ کھا کے بیٹھ گئے
ہم ان کے کمرے میں یک لخت آ کے بیٹھ گئے
وہ اٹھ کے بھاگے، اچانک لجا کے بیٹھ گئے

0
13
بن گئی ایک خوش ادا سے مری
تم کہانی سنو ہوا سے مری
شام سے ہوں میں اس کے سحر میں گم
اب سحر ہو نہ ہو بلا سے مری
آسماں تک گیا غبار وجود
دوستی کیا ہوئی ہَوا سے مری

0
15