Circle Image

Malik Faisal Javed

@faysalmalik

فیصل ملک شاعری

جینے میں زمانے لگتے ہیں
نئے شہر پُرانے لگتے ہیں
مری بستی میں سے کُچھ لڑکے
سچ مُچ دیوانے لگتے ہیں
وہ دیکھ کے چاند رو دیتے ہیں
گُلوں سے شرمانے لگتے ہیں

0
4
سانس کا پیشہ کر سکتے ہو
کیسے ایسا کر سکتے ہو
وہ جیسا اُس کی خواہش ہے
مُجھ کو ویسا کر سکتے ہو
میرا تو بس نام آدم ہے
مُجھ کو سجدہ کر سکتے ہو

0
7
لعنت بھیج اُن باتوں پر
کنکر مار اُن یادوں کو
"تھا" کا صیغہ بھُول بھی جا
اب "ہے" سے سجا فقروں کو
خود کی فکر بھی کر بابا
آگ لگا اُن آنکھوں کو

0
9
ذرا سی بات پہ تو چھوڑ کر نہیں جاتے
کبھی کبھی اُس کے پاس جانا پڑتا ہے
یونہی میں کب مل جاتا ہے ہر کسی کو یار
پیارے یار کو بھی تو کمانا پڑتا ہے
کبھی کبھی تو اُٹھانا ہی پڑتے ہیں غم بھی
کبھی کبھی تو یونہی ہار جانا پڑتا ہے

0
19
بہت ہو چُکا ہے گریہ چلو اب گھر کو جاتے ہیں
بہت سی باتیں کرتے ہیں بہت سا مُسکراتے ہیں
کبھی پھر یہ سیہ راتیں ہمیں تنہا نہ پائیں گی
چلو ہم ساتھ میں مل کر ملن کا گیت گاتے ہیں
یہ شاید اُن کی فطرت ہے یا مُجھ کو ایسا لگتا ہے
بڑے ہی مان سے کُچھ لوگ دل سے کھیل جاتے ہیں

0
27
اُس کا دل اچھا کہتا ہے مُجھ کو مگر
یار میں بُرا بھی تو نکل سکتا ہوں
فیصل ملک

0
12
ذہن تو دفتری کاموں میں اُلجھا رہتا ہے
دل کہیں تیرے پہلُو میں ہی پڑا رہتا ہے
تُم کبھی میرے نالوں سے آ کر پتہ کرنا
کون ہے جو میرے بستر پہ مرا رہتا ہے
کوئی سُلگتا رہتا ہے ساری ہی رات اور
تیرے لکھے ہوئے سندیسے پڑھتا رہتا ہے

0
12
ایک چہرہ نظر میں کیا بس گیا
دوستوں نے کہا لو گیا بس گیا
میرا دل مُفت ہے ہاں مگر اس جگہ
ایک دفعہ جو بھی بس گیا بس گیا
پہلے تو دل نے کافی لڑائی لڑی
پھر وہ دھڑکن میں رچ گیا بس گیا

0
27
اپنے ہاتھ میں کُچھ ہُنر رکھیں
اپنے نام بھی کُچھ عمر رکھیں
لوگ جان لیتے ہیں دل کی بات
اپنی نظروں پر کُچھ نظر رکھیں
بات کتنی ہی عام کیوں نہ ہو
اپنے لہجے کو پُر اثر رکھیں

0
30
یہ آج ہے کس قدر اچھی دھوپ
ضرور وہ مُسکرائے ہوں گے
فیصل ملک

0
2
35
فراقِ یار میں ہوئے طویل سارے روز و شب
میں بھی کہیں نکل گیا وہ بھی کہیں نکل گئے
بڑا ہی کُچھ ستم ہوا کہ مُشکلوں میں پڑ گئے
میں بھی ذرا بدل گیا وہ بھی ذرا بدل گئے
نگاہِ شوق کو بھی اور منزلیں تھیں مل گئیں
میں بھی کہیں پھسل گیا وہ بھی کہیں پھسل گئے

0
25
مُجھ سے یہ کردار نبھائے نہیں جاتے
چہرے پر چہرے چڑھائے نہیں جاتے
جو دن میں بھی تم کو دکھائی نہیں دیتے
رات کو پھر وہ دُکھ بھی دکھائے نہیں جاتے
اُس کو کہو اب سامنے سے آ کر کرے وار
مُجھ سے یہ ترچھے زخم چھپائے نہیں جاتے

0
26
وہ جن کو مل رہے تھے ذرا سے مل رہے تھے
ہم جن کی جستجو میں خُدا سے مل رہے تھے
خوشیاں مل رہی تھیں تو تھوڑی مل رہی تھیں
درد مگر یہ اچھے خاصے مل رہے تھے
ہم شادابی کی جستجو میں پھر رہے تھے اور
جو لوگ مل رہے تھے پیاسے مل رہے تھے

0
15
جُدائی کا غم سہہ لیتے ہیں
تھام کے دل کو رہ لیتے ہیں
لفظ نہیں یہ انگارے ہیں
آپ جو ہنس کے کہہ لیتے ہیں
ہجر کے جہنم لمحوں کا
چُپکے سے ستم سہہ لیتے ہیں

0
20
ایک ہی شہر میں اُتارے گئے تُو اور میں
سر سے پھیرے اور وارے گئے تُو اور میں
ہم کو وصل کی باری پُوچھا نہیں کسی نے
ہجر کی باری میں پُکارے گئے تُو اور میں
کوئی آنکھ روئی نہ کہیں کہرام مچے
ایسی پیاری موت مارے گئے تُو اور میں

0
37
اُنہیں آتا ہے مُجھ پر بے حد غُصہ
ان کے غُصے پر مجھے پیار آتا ہے
کاش کبھی وہ اس انداز سے ملیں مُجھ سے
جیسے ملنے کسی کو حق دار آتا ہے
آپ حسین ہیں آپ حسین ہوں گے لیکن
آپ سے پہلے کہیں میرا یار آتا ہے

0
13
تعریف و ماخذدعا عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تو پُکار اور التجا کے آتے ہیں مگر اس سے مرُاد اللّٰہ تعالٰی سے مانگنے ، التجا کرنے، اور اُسے پُکارنے سے لی جاتی ہے..دعا کے تین حصے ہیں۱۔ حمد و ثناء اور حوالہ جات۲۔ استغفار و تجدیدِ عہد۳۔ مانگنا۱۔ حمد و ثناء اور حوالہ جات و شُکراک حدیث شریف کا مفہُوم ہے کہ دعا مانگنے کا طریقہ بچوں سے سیکھو.. جیسے اُنہئں آپ سے جب کوئی چیز چاھیے ہوتی ہے تو وہ آپ سے آ کر لپٹ جاتے ہیں لاڈ کرتے ہئں ویسے ہی جب آپ اللّٰہ پاک سے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائیں تو سب سے پہلے اس ربِ کریم کی بُزرگی و برتری بیان کریں اس کی تعریف کریں جیسے اللّٰہ پاک کو اپنی واحدانیت کا اقرار بہت پسند ہے تو اُس کی حمد بیان کریں اور ساتھ میں اُس کے رسُول کی تعریف کریں اُسے اپنے نبی پر درود بھیجنا بہت پسند ہے سو ان پر درود بھیجیے، ان کے واسطے یہ ساری کائینات سجائی گئی ہے تو ان کے واسطے سے طلب کریں کہ آدم لو بھی معافی حضُور کی بدولت ملی اور اس کے ساتھ اللّٰہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے اُس کا شُکر بھی ادا کریں یاد رکھیں کہ اللّٰہ کو ُشکر ادا کرنا بھی بہت پسند ہے۲۔ استغفار و تجدیدِ عہددوسرا مرحلہ ہے توبہ کا استغفار کا

23
تُم نے ماں دیکھی ہے؟
میں نے دیکھی ہے
ذرا سی دیر ہو جاتی تھی
بیچ دروازے کے راہ تکتی ملتئ تھی
اک ذرا سے کانٹے کے چُبھ جانے پر
میری تکلیف پر کراہ اُٹھتی تھی

0
17
حیات تھے تو کسی کے شُمار میں نہ تھے ہم
مر گئے ہیں تو سارے شہر کو رنج ہے بہت
فیصل ملک

0
8
کئی برس ہوئے میں پھرتا تھا
بوجھ اُٹھائے جیون کا
نگری نگری
شہروں شہروں
خاک اُڑائے پھرتا تھا
جوگی ، سنیاسی بھی ملے

0
20
تجدید مُمکن تھی تعلقات کی لیکن
دماغ نے اتنے دلائل دیے کہ بس
فیصل ملک

0
12
ہے بڑی مدت کی تشنگی
اے ابر ذرا کُھل کر برس
فیصل ملک

0
8
“محبت کا ایک بڑا دائمی مسئلہ ہےیہ بار بار دستک اور موقع نہیں دیتئجس میں سانس لینا محال ہو جاتا ہے مگر کہیں معافی کی بارش نہیں ہوتی وہ گرد کبھی نہیں بیٹھتی کبھی نہیں ..ہم سمجھتے ہیں ہم اُس کا خیال رکھتے ہیں اُس کے کھانے پینے کا اُس کے آرام کا تو ہماری محبت کامل ہے....نہیں دوستو...یہ محبت کا صرف ایک پہر ہے،محبت کے چار پہر ہیں باقی کے تین پہر نوے فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتے...ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ خیال رکھنا ہی محبت نہیں ہےدوسرے کے اندر تک کی کیمسٹری جان لینا بھی محبت ہے.بنا کہے، بنا بتائے وہ کام کر دینا جو اُس کے اندر روگ بن کر دھاڑتا رہتا ہے،اُس کے وجود سے الگ بھی ایک وجود ہے جو اُس تک پہنچ گیا وہی محبت کا فاتح ہے...اس وجود کی تسخیر کرنا سیکھو دوستو...محبت محبت کہنا بہت آسان ہے محبت محبت کرنا کوئی نہیں جانتا کوئی نہیں سمجھتا ...”ایک بار چلی جائے تو صرف دھول بن جاتی ہےفیصل ملک!!!

49
اپنا تو مدعا تُم ہو
تُمہارا مدعا کون جانے
زخمِ دل سے ٹپکتا ہے جو
لہو ہے یا سرور کون جانے
ادھ کُھلی آنکھوں نے دہلیز چُومی
گُلاب ہونٹوں کے انگاروں کی

0
18
سمے کی چٹانوں میں
نویلی داستانوں میں
کُچھ پُرانی یادوں کی
کھٹاس باقی رہتی ہے
اک کسک جو وقت کی گرد میں دب گئی ہو
آخری زمانوں میں

0
16
ابھی پہلی محبت کے
اشک نہیں رُک پائے
ابھی پہلی چاھت کے
بہت سے پل مُجھے
وقت کی لیکھاؤں سے
چُن چُن کر نکالنے ہیں

0
11
دسمبر کی سرد راتوں میں
تنہائی کے زرد لحافوں میں
یاد کی بند شریانوں میں
ایک برق سی دوڑی ہے
اور
ہم نے سوچوں کی روانی

0
21
دل یہ چاھتا ہے کہ
حبس زدہ دن کی
ساری تکان تیرے زانُو پہ سر رکھ کر زائل کر دوں
تُو بے اختیاری میں
میرے اُلجھے ہوئے بکھرے ہوئے بالوں میں
اپنی ملائی سی رنگت والی

0
27
کُچھ ان کہی باتوں کا نشہ
سرِ شام سے ذہن و دل کو اپنی گرفت میں لے کر
رات بھر گلیوں میں آوارگی کرواتا رہتا ہے
میں رات بھر اپنے بستر پر پڑا
شہر کی اندھی گلیوں کی خاک چھانتا رہتا ہوں
کہ تمہاری ان کہئ کے جادُو سے

25
تکمیل ، زوال کا پہلا پڑاؤ ہے
پھر قافلے کو کبھی سمت نہیں ملتی
فیصل ملک

13
سُن...
میری بنجر زمینوں میں
محبت
اُگنے لگی ہے
کُچھ ہی دنوں میں
پک جائے گی

23
مصلحت کے حشرات کھا گئے انہیں
رشتے بھی گندم کے خوشے ہوں جیسے
فیصل ملک

19
تُم مل گئے ہو یہ کافی ہے مُجھے
اور نیکیوں کے ثواب کیا مانگوں
فیصل ملک

20
مُدت گُذری
اُسکی جھلک تک نہیں دیکھی
گو میرے سیل فُون کے فولڈر
اُس کی تصاویر سے
بھرے پڑے ہیں
مگر عکسِ حقیقت کے مقابل

10
خود پہ بیتی ہے تو سمجھ میں آیا ہے فیصل
جو چُپ چاپ سہہ رہے تھے، کمال کر رہے تھے
فیصل ملک

0
16
چوٹ کھا کر مسکرانے کے نہیں ہیں
ہم ان سے ہاتھ ملانے کے نہیں ہیں
جان لینے کا اُنہیں حق تو ہے لیکن
کُچھ درد انہیں سنانے کے نہیں ہیں
کُچھ لوگ ہماری حیات ہیں لیکن
وہی لوگ ہمیں اپنانے کے نہیں ہیں

0
12
“انٹرویو”
انٹرویو کریں گی آپ؟؟
میرا انٹر ویو؟؟
مذاق کر رہیں یا مذاق اُڑا رہی ہیں؟؟
اچھا...
آپ سچ میں سنجیدہ ہیں؟؟

0
9
“میں”
راکھ راکھ بدن لے کر
دُھُواں دُھواں شگن لے کر
رات کی اندھیری گلیوں میں
اُنتظار سُلگاتا ہوں
میں اُسکے اور اپنے واسطے

0
13
“فراق”
جانتے ہو
کسی کے مر جانے پہ
کوئی اس کے ساتھ
مر نہیں جاتا
لیکن

0
10
دیکھن دا چاہ سانوں۔۔۔
مُکھ پرتاویں نہ۔۔
نیڑے نیڑے وس ڈھولا
دوُر دوُر جاویں نہ
اکھیاں نوں رہن دے
اکھیاں دے کول کول

44
"نامعلوم سے معلوم تک کے سفر میں ہم معصومیت، کشش، دلچسپی اور خوبصورتی کھو دیتے ہیں کہ یہ تمام اجزاء نامعلوم سے وجود رکھتے ہیں اور یقین جانیں دُنیا کی ہر خوبصورتی اسی "بھید" کی  مرہون ہےیہ بھید نہ ہو تو تجسس نہ ہو اور یہ تجسس ہی یعنی جاننے کی کھوج ہی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ وہ ان چھُوا ہے، انوکھا ہے، جانے کیسا ہے یا جانے کیسا ہو گا ، وہ لمس، وہ شخص، اس کی باتیں غرض ہر اک شے جو ہمیں معلوم نہیں ہے وہ حسین ہے،خوبصورت ہے، اس میں کشش ہے کہتے ہیں عورت کی خوبصورتی لباس میں ہے کیوں کہتے ہیں کہ جب تک بدن پہ لباس ہے وہ حسین تر ہے لباس اتر گیا تو بس مٹی کا مادھُو جو بس وقتی کشش رکھتا ہے یعنی نامعلوم سے معلوم کا وجود ہو گیا کشش، خوبصورتی ایک دھوکہ بن کر اُڑ گئی۔۔"فیصل ملکالطائف، السعودیہ

22
کب سارا جہاں مانگا ہے
ایک ہی انسان مانگا ہے
تھوڑی سی روشنی کے لیے
تھوڑا سا دالان مانگا ہے
فائدے کی بات کب کی ہے
میں نے تو نُُقصان مانگا ہے

27
یقین ٹُوٹا ہے مان ٹُوٹا ہے
ہمارے جینے کا میلان ٹوٹا ہے
کسی کو مل گئی ہیں خوشیاں دوستو
ملن کا لیکن امکان ٹُوٹا ہے
کسی کو مل گیا سارے کا سارا وہ
ہماری چاہ کا ایقان ٹوٹا ہے

0
26
ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی مزار ہوتا ہے “محبت کا مزار” جس پہ وہ دھمالیں ڈالتا ہے، قوالیاں گاتا ہے، نذرانے چڑھاتا ہےاور مرادیں مانگتا ہے بس فرق یہ ہے کہ وہ مرادیں، وہ دھمالیں، وہ نذرانے صاحبِ مزار کو ہی خوش کرنے اور اُسے پانے کے لیے ہوتی ہیں.. کُچھ لوگ تو اس مزار پہ سجدے تک کر دینے سے نہیں ہچکچاتے..کُچھ لوگوں کے اندر کئی مزار ہوتے ہیں وہ کبھی ایک کبھی دوسرے در پہ بھٹکتے رہتے ہیں اور سو میں سے کوئی دو فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی تڑپ دیکھ کر صاحبِ مزار اُنہیں مصافحے سے نواز دیتے ہیں ، مل جاتے ہیں..میرے  کوزہ گر مُجھے گوندھ پھرمیرے یار کی خاکِ پاک سےکہ مٹ سکیں ازل کے فاصلےمیری منزل سکندر نصیب ہوفیصل ملک

1
126
وہ کہتی ہے
تمہارا عشق
بہت مُشکل ہے جاناں
میں کہتا ہوں
آسان ہوتا
تو کیا تُم اختیار کر لیتیں

0
71
مسندِ عقیدت سے اُتار دیےجاؤ گے
چُپ رہو! وگرنہ مار دیے جاؤ گے
یہ بستی گُونگوں کی بستی ہے
شور جو مچاؤ گے گاڑ دیے جاؤ گے
یہ کہنا ہے اس دور کے پئمبروں کا
گُذرو گے نہیں تو گُذار دیے جاؤ گے

5
93
میرے مُرشد میرے شاہ پیا
میرے اندر بنا کوئی راہ پیا
مُجھ پریت نگر کے منڈپ میں
ہو دو وقتوں کا بیاہ پیا
فیصل ملک

34
پھر پتہ نہیں مُلاقات ہو کہ نہ ہو
آج زرا دُور تک چھوڑنے جاؤ مُجھے
فیصل ملک

26
اُس تمام وقت ، ایک امتحان میں رہا
جب وہ میری محبت کے ایقان میں رہا
وہ میرے ہاتھ کی لکیروں میں تھا ہی نہیں
جانے کیوں دل اسی کے گُمان میں رہا
میں اُس کی چاہ میں کہاں کہاں نہیں پھرا
جنگل گیا، پربت چڑھا ، بیابان میں رہا

0
74
یار تُو چاہے دھوکہ دے جائیو
مگر دیکھ پیٹھ پیچھے نہ مُسکرائیو
فیصل ملک

0
21
کوئی چُپ ہو ایسی شدت کی
میں سُنتا رہوں سر دھنتا رہوں
فیصل ملک

36
بڑی مُدت لگی سمجھنے میں کہ رائیگانی ہے بس
بڑی مُدت سے جو جستجو دلِ ناہنجار میں ہے
بہت زعم تھا مُجھے کہ اپنا سمجھے گا وہ شخص
بہت زعم تھا کہ وہ میرے اختیار میں ہے
فیصل ملک

0
24
میں اُسے
جیون کی آخری سرحد پر
چھوڑنے گیا تھا
جانتے ہو؟
جیون کی آخری سرحد پار
جو بھی چلا جائے

0
108
زندگی کی کیتلی میں
دو کپ پانی جتنے دن ہیں
اور رویوں کی پتی ہے اس میں
کُچھ محبت کی شکر اور
کہیں تھوڑا نایاب خالص دودھ
رشتوں کے جیسا ہے۔۔

43
کہا، کمال لکھتے ہو
احساسوں کا میری احتمال لکھتے ہو
کسی کے چہرے کو چاند
گالوں کو بدلی
آنکھوں کو شمعیں
گردن کو سبُو

0
26