Circle Image

Anjum Jalal

@ajalal

تقدیر کے سب رنج و الم جھیلے ہیں
احرارنے سب ظلم و ستم جھیلے ہیں
دکھ جھیل چکے حق کے بیاں کی خاطر
ہاں باعثِ تقدیسِ قلم جھیلے ہیں

0
8
شاعر ہوں، حالات سے بیزار ہوں میں
خوابوں کے محلات کا معمار ہوں میں
الفاظ کا جادو بھی مسلم ہے مگر
احساس و مروت کا علمدار ہوں میں

0
27
ہر صبح نیا درد جگاتے ہو تم
ہر شام نیا دیپ جلاتے ہو تم
جو راز ہیں پنہاں دنیا کی نظر سے
رچناوں کی صورت میں سناتے ہو تم

0
14
جذبات اشاروں میں چُھپاتے کیوں ہو؟
تصویر ہیولوں میں بناتے کیوں ہو؟
ہمت کرو آ جاوؑ سرِ دارِ وفا
ناحق دلِ بسمل کو ستاتے کیوں ہو؟

0
14
باقی جو رگوں میں ہے حرارت اب تک
آنکھوں کی چمک میں ہے شرارت اب تک
پامال ہوئے نقش و نگارِ در و بام
بنیاد پہ قائم ہے عمارت اب تک

0
19
کمزور کی تقدیرہے کیا ؟ جور و جفا ہے
ہر دو ر کا حاکم کوئی فرعون ہوا ہے
جاری ہے یہاں اب بھی وہی جبرمسلسل
سنتے ہیں کہ آلام کا اک حشر بپا ہے

2
63
ہم ظالم و برگشتہ، سرکش ،گمراہ
منزل سے گریزاں، صدیوں سے ہیں واللہ
توبہ کے سواکوئی نہیں جائے پناہ
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

0
20
جب عقل سے ہارے تو دل تھام لیا
عیاری و پر کاری کا الزام لیا
اے کاش زبوں رہتے، حالِ جنوں میں
کم بخت ذہانت سے کیوں کام لیا؟

0
36
ہم رنج اٹھائیں تری مخلوق کی خاطر
تسکین و شفائے دلِ مسحوق کی خاطر
قانونِ محبت ہے بہت ظلم پہ مبنی
عاشق ہی تماشہ بنے معشوق کی خاطر

129
فکرِگلشن میں بصد شوق مگن رہتا ہوں
بات کہنے کی نہیں پھر بھی مگر کہتا ہوں
رشتہ ایسا ہے مرا پاک زمیں سے یارو
نارسائی کو بصد ناز عبث سہتا ہوں

5
242
دیکھتے دیکھتے برسوں کو گذرتے دیکھا
کھلتے کھلتے سبھی پھولوں کو بکھرتے دیکھا
خضر کی عمر بھلا کس کو میسر ہے یہاں
جینے والوں کو اسی فکر میں مرتے دیکھا

0
33
دل کے قصے ہیں بیاں سے بڑھ کر
فریبِ سود و زیاں سے بڑھ کر
شعر کہنا کوئی مجبوری ہے؟
نا سپاسی ہے خزاں سے بڑھ کر
خامشی اپنا اثر رکھتی ہے
وہم سے دور گماں سے بڑھ کر

6
165
ظلم نے جب بھی محبت کے بجھائے ہیں چراغ
کسی مجنوں نے وہیں آ کے جلائے ہیں چراٖغ
یہ جو ہر وقت یونہی روشن و تابندہ ہے
دل کے حجرے میں کسی نے تو سجائے ہیں چراغ

4
111
تنقید فقط ادنیٰ و محکوم کی مد میں
میں ظلِ الٰہی ہوں صائب ہے مری بات
تم ناز و ادا سے ذرا مکھن تو لگاوٗ
شائد کہ اتر جائے مرے دل میں تری بات

0
15
جو بے نیازِ دید ہو اس سے حجاب کیا
گریہ ہی جس کی عید ہو اس پر عذاب کیا
توڑے ہوں اپنے ہاتھ سے جس نے سبو تمام
اس کی نظر میں جام کیا اور شراب کیا
سب نسبتیں غرور کی پامال ہو گئیں
کیا پوچھتے ہو میرا نسب کیا نصاب کیا

2
108
دل ہے ویراں جاں ھے بوجھل آؤ شعر کہیں
گرم ہوا ہے سوکھے بادل آؤ شعر کہیں
آؤ اس مسموم فضاء میں پیار کا سرگم چھیڑیں
آؤ پھر سے کر دیں جل تھل آؤ شعر کہیں
آؤ پھر سےراہیں ڈھوںڈیں صحراؤں سے دور
آؤ پھر سے کھوجیں منزل آؤ شعر کہیں

0
44
بے نیازی کی نظر ہے فاصلہ
کتنا ظالم بے خبر ہے فاصلہ
کارواں میں کون تھے اور کیا ہوئے
رہ گیا جو ہم سفر ہے فاصلہ
رہبروں اور رہزنوں کے درمیاں
ہر طرف ہی منتشر ہے فاصلہ

0
20
ہے چشم فلک گریہ کناں یا اللہ
ادبار کی چھائی ہے گھٹا یا اللہ
ہے کس کو خبر کون لُٹا راہِ خدا
دنیا جو گئی دیں بھی گیا یا اللہ

0
29
ہر تخت نشیں ہے سلطاں کوئی تنہا
افسردہ حزیں پریشاں کوئی تنہا
جوسب کا ہے مالک تقدیر یہاں
وہ اپنی نظر میں انساں کوئی تنہا

0
12
معنی کے خزانے جو چھپائے ہوئے ہو
الفاظ کامیلہ جو سجائے ہوئے ہو
اس چشمِ برق خیز کی ہو جائے تجلی
کھل جائیں گے قصے جو دبائے ہوئے ہو

0
16
ویراں ہوا جاتا ہے چمن ،کس کو فکر؟
پامال ہوئے برگ و سمن، کس کو فکر؟
ہم اپنی ہی زنجیر کے نغمات میں گم
اور خاک ہوئےکوہ و دمن ،کس کو فکر ؟

18
منہ زور جو وبا ہے مانندِ فیلِ مست
ارزانئ قضا ہے انساں کی بود و ہست
سالِ گزشتہ سارے فسانے لیے ہوئے
زیرِ نقاب آمد و زیرِ نقاب رفت

0
25
غم سارے زمانےکوسنائے نہ کوئی
بے کار حسینوں کو رلائے نہ کوئی
ہو جائے محبت کسی چارہ گری میں
اللہ قیامت یہ اٹھائے نہ کوئی

0
33