Circle Image

Anjum Jalal

@ajalal

مَن ﻧﯿﻢ ﻭاللہ ﯾﺎﺭﺍﮞ مَن ﻧﯿﻢ ۔۔۔۔ ﺟﺎﻥِ ﺟﺎﻧﻢ سِرّ سِرّﻡ تَن ﻧﯿﻢ

کہاں ہے سوچ جو دنیا نئی بسا سکتی
اندھیری راہ پہ شمعیں کوئی جلا سکتی
اب اٹھ گئی ہے قیامت تو کیا مفر اس سے
گیا وہ وقت کہ توبہ ہمیں بچا سکتی
خزاں کے رنگ عطائے نصیب تھے ایسے
بہار کیسے تصور مرے میں آ سکتی

26
ووٹ اک قومی فریضہ ہے ولیکن صاحب
آپ کے جھوٹے قصیدے نہیں گائے جاتے
کبھی جلسہ کبھی دھرنا کبھی جیلیں بھرنا
ہم سے الفت کے تقاضے ناں نبھائے جاتے

0
12
رفاقت ہے بڑی گہری، شعور ذات سےمیری
میں باہر بات کرتا ہوں، وہ اندر بات کرتا ہے
کہیں سب کچھ ڈبو نا دے ، غضب مجبور لوگوں کا
کہ اس دریا کی لہروں میں سمندر بات کرتا ہے
لرز جاتے ہیں فرعونوں کے دل، جب بھی زمانے میں
فقیروں کے قبیلے کا سکندر بات کرتا ہے

20
ہم خواہشِ تزئینِ چمن لے کے چلے
کانٹوں سے لپٹنے کو کفن لے کے چلے
یاروں نے بلایا سرِ مقتل جب بھی
خود دوش پہ ہم دار و رسن لے کے چلے

28
سدا مسافر جو بھی ٹھہرے، پیارے یا دھتکارے ہیں
سوہنے رب نے سفر کے راہیں، کتنے بھاگ سنوارے ہیں
جن کو راہ کی مٹی پیاری، جن کو کانٹے پیارے ہیں
یا وہ مجنوں لیلیٰ کے، یا صحرا پر دل ہارے ہیں

0
28
کرسی والے کرسی کرسی کرتے جاؤ
باقی سارے آیت الکرسی پڑھتے جاؤ
کل یگ کا انجام نجانے کیسا ہووے
توبہ توبہ معافی معافی کہتے جاؤ

0
31
غم کی عادت رہی اداس رہا
چھوڑ کر دنیا اس کے پاس رہا
بے طلب یوں ہوئی پذیرائی
عام ہوتے ہوئے بھی خاص رہا

0
20
برق رفتاری کو جب شیطاں کے پر لگنے لگے
صبر سے محروم انساں جلدیاں کرنے لگے
پانچ دن کا کھیل گھٹ کر بیس اوور رہ گیا
ہم بھی غزلیں چھوڑ کر دوبیتیاں کہنے لگے

0
25
ملک سے دوستی سعادت ہے
شکر اس کا بڑی عبادت ہے
آج یہ نفرتیں نہیں جائز
آج کی روح بس محبت ہے

0
16
علم و فن کا گورکھ دھندا ختم کرو
تصویروں کا کھیل تماشا ختم کرو
دیکھو کھانا باسی ہوتا جائے ہے
موسیقی کا شور شرابا ختم کرو

0
18
خود پرستی کی غلامی اور جنت کی طلب
خواہشوں کی بے لگامی اور جنت کی طلب
ہاں الجھتی ہی رہی تیری نظر احوال سے
اپنے رب سے بد گمانی اور جنت کی طلب

39
درد سہتے رہو قیامت تک
آہ بھرتے رہو قیامت تک
بندگی میں نہ کچھ خلل آئے
یونہی ڈرتے رہو قیامت تک
جن خداؤں کو خود تراشا ہے
ان کے بندے بنو قیامت تک

1
56
قرضہ کھا کر دیکھ لیا، کچھ نہ ہوا
صدقہ اور خیرات اڑا کر کچھ نہ ہوا
بس اب تھوڑی غیرت کھا کر دیکھو
مر جانا جو غیرت کھا کر کچھ نہ ہوا

0
43
دھیرے دھیرے آ جاتا ہے دم میں اپنا دم
رنج و غم میں سکھ دیتا ہے تیرا میٹھا غم
جن کا جینا مرنا تیرے درشن کی ہو دین
خوش رہتے ہیں دید پہ تیری بیش ملے یا کم

0
46
اس شمع فروزاں کا پروانہ ہوئے ہم
اسباب کی دنیا سے بیگانہ ہوئے ہم
دنیا کے لیے کچھ بھی نہ ہوں اپنی نظر میں
تسبیح سماوات کا اک دانہ ہوئے ہم

0
58
احوالِ کسی کے بھی کسی سے نہیں پنہاں
ہونے لگے پوشیدہ کمالات بھی عریاں
وہ دور دجالت ہے کہ اس عہد کے انساں
ظاہر میں فرشتے ہیں حقیقت میں ہیں شیطاں

0
43
للہِ الحمد کہ جو سالِ رواں ختم ہوا
ایک طوفانِ بلا ، بار ِگراں ختم ہوا
بارے آسودگی و برکت کی دعا ہے سب کو
بسے امید کہ اب دورِ زیاں ختم ہوا

0
64
جس پل دل پژ مردہ پہ ڈالے وہ نگاہ
دل شوق سے یوں دھڑکے بس اس کی پناہ
اک طرفہ قیامت کا ہو منظر برپا
آیاتِ الہیٰ ہوں ہویدا ہر جاہ

0
49
پائی ہے عشق سے کیا راہنمائی ہم نے
راہ حق میں کوئی ٹھوکر نہیں کھائی ہم نے
لا و الا کے حسیں کھیل کا حصہ بن کر
اپنی ہستی کسی مستی میں گنوائی ہم نے

0
43
ہم ہیں یا محض خوبئ وہم و خیال ہے؟
وہ ہے یا کوئی شعلۂ حسن و جمال ہے؟
روحِ قدیم پوچھتی ہے فہم و عقل سے
میرا زوال ہے؟ یا تمہارا کمال ہے؟

92
نازِ حسنِ جاودانی، کیا ہوا ؟
آہ عشقِ ناگہانی، کیا ہوا ؟
وہ خمارِ باریابی باز رفت
ہو مبارک لامکانی، کیا ہوا !

0
67
سوچو کہ بازیاب ہو پھر اختیارِ دل
آؤ کسی طرح سے جمے کاروبارِ دل
اس عہد اضطراب میں تسکین کے لیے
ہم ترجمان عقل ہوں اور غم گسارِ دل

0
41
مانگ کرتے ہو جو آزادی سے آزادی کی
نئی ترکیب ہے یہ فتنہ و ناشادی کی
باڑ ذہنوں پہ لگی ہو یا کسی سرحد پر
یہ گواہی ہے کسی شورش و بربادی کی

39
تین نسلوں سے مسلط بے بسی و خلفشار
کج ادا مسند نشین و صاحبانِ افتخار
مردہ روحیں اپنے کندھوں پر اٹھائے صبح و شام
ناصبوری کے مہاجن بیچتے ہیں انتشار

0
55
جیسے جیسے ترے وعدوں کا سحر ختم ہوا
ہم نے یہ جان لیا تیرا سفر ختم ہوا
تو فرشتہ نہ کبھی تھا نہ بنے گا ہرگز
تیری گفتار سے اکرامِ بشر ختم ہوا

0
57
گردشِ حالات سے زیر و زبر ہے کائنات
شائد اب چھٹنے لگی ہے نارسائی کی یہ رات
جی رہے ہیں بے بس و مجبور اس عالم میں جب
منہ کے بل گرنے لگے دیمک زدہ لات و منات

0
67
صد حیف کہ ہے فخرِ شقاوت تم کو
آداب نہ احساسِ ندامت تم کو
قرآن ہے جس ذات کا اخلاق عظیم
اس ذات سے ہے ناز محبت تم کو؟

0
83
اب کیا کہیں جو صاحب عالم فقیر تھے
عالی جناب اپنی انا کے اسیر تھے
پنچھی تو اڑ کے گرم پناہوں میں چھپ گئے
پہنچے وہیں پہ آپ ، جہاں کے خمیر تھے

0
71
گونج اٹھتا ہے ضمیر عدل ایوانوں کے بیچ
گو بہت کمزور ہیں انسان شیطانوں کے بیچ
ذہن حاکم سینچتا ہے جب خداوندی کے خواب
تو پلٹتا ہے خدا ایام انسانوں کے بیچ

0
103
جو کٹھن تھی رہگزر اب اور مشکل ہو گئی
لحظہ لحظہ دور ہم سے اور منزل ہو گئی
اٹھ گئی روشن ضمیری خود پرستی چھا گئی
کج ادائی کے سبب برہم یہ محفل ہو گئی

0
77
غم کا تحفہ عطا کیا ہے اس کو
اپنا عاشق بنا دیا ہے اس کو
تھا جو بیزار شاعری کے فن سے
رونا یہ بھی لگا دیا ہےاس کو

0
89
ہے سراب اندر سراب، امید ، صحراوؑں کے بیچ
اک مسلسل خوف ہے پوشیدہ آشاوؑں کے بیچ
مکرِ باطل کا سمندر ! ڈولتی کشتی کی خیر
حلقے ہیں گرداب در گرداب دریاؤں کے بیچ

0
57
سب ٹوٹ گئے زعمِ شرافت لوگو
تم بھول گئے عہدِ نجابت لوگو
اقوام میں شہرت ہے تمہاری گویا
سفاکی و وحشت سے عبارت لوگو

0
63
ماضی کی روایات کو دہراتے رہو
زخموں کو یونہی پیار سے سہلاتے رہو
مقفول رہے ذہن کی تاریک روش
آزادئ افکار سے کتراتے رہو

0
1
86
تقدیر کے سب رنج و الم جھیلے ہیں
احرارنے سب ظلم و ستم جھیلے ہیں
دکھ جھیل چکے حق کے بیاں کی خاطر
ہاں باعثِ تقدیسِ قلم جھیلے ہیں

0
64
شاعر ہوں، حالات سے بیزار ہوں میں
خوابوں کے محلات کا معمار ہوں میں
الفاظ کا جادو بھی مسلم ہے مگر
احساس و مروت کا علمدار ہوں میں

0
92
ہر صبح نیا درد جگاتے ہو تم
ہر شام نیا دیپ جلاتے ہو تم
جو راز ہیں پنہاں دنیا کی نظر سے
رچناوں کی صورت میں سناتے ہو تم

0
108
جذبات اشاروں میں چُھپاتے کیوں ہو؟
تصویر ہیولوں میں بناتے کیوں ہو؟
ہمت کرو آ جاوؑ سرِ دارِ وفا
ناحق دلِ بسمل کو ستاتے کیوں ہو؟

0
142
باقی جو رگوں میں ہے حرارت اب تک
آنکھوں کی چمک میں ہے شرارت اب تک
پامال ہوئے نقش و نگارِ در و بام
بنیاد پہ قائم ہے عمارت اب تک

0
63
کمزور کی تقدیرہے کیا ؟ جور و جفا ہے
ہر دو ر کا حاکم کوئی فرعون ہوا ہے
جاری ہے یہاں اب بھی وہی جبرمسلسل
سنتے ہیں کہ آلام کا اک حشر بپا ہے

2
110
ہم ظالم و برگشتہ، سرکش ،گمراہ
منزل سے گریزاں، صدیوں سے ہیں واللہ
توبہ کے سواکوئی نہیں جائے پناہ
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

0
110
جب عقل سے ہارے تو دل تھام لیا
عیاری و پر کاری کا الزام لیا
اے کاش زبوں رہتے، حالِ جنوں میں
کم بخت ذہانت سے کیوں کام لیا؟

0
72
ہم رنج اٹھائیں تری مخلوق کی خاطر
تسکین و شفائے دلِ مسحوق کی خاطر
قانونِ محبت ہے بہت ظلم پہ مبنی
عاشق ہی تماشہ بنے معشوق کی خاطر

190
فکرِگلشن میں بصد شوق مگن رہتا ہوں
بات کہنے کی نہیں پھر بھی مگر کہتا ہوں
رشتہ ایسا ہے مرا پاک زمیں سے یارو
نارسائی کو بصد ناز عبث سہتا ہوں

5
292
دیکھتے دیکھتے برسوں کو گذرتے دیکھا
کھلتے کھلتے سبھی پھولوں کو بکھرتے دیکھا
خضر کی عمر بھلا کس کو میسر ہے یہاں
جینے والوں کو اسی فکر میں مرتے دیکھا

0
90
دل کے قصے ہیں بیاں سے بڑھ کر
فریبِ سود و زیاں سے بڑھ کر
شعر کہنا کوئی مجبوری ہے؟
نا سپاسی ہے خزاں سے بڑھ کر
خامشی اپنا اثر رکھتی ہے
وہم سے دور گماں سے بڑھ کر

6
247
ظلم نے جب بھی محبت کے بجھائے ہیں چراغ
کسی مجنوں نے وہیں آ کے جلائے ہیں چراٖغ
یہ جو ہر وقت یونہی روشن و تابندہ ہے
دل کے حجرے میں کسی نے تو سجائے ہیں چراغ

4
191
تنقید فقط ادنیٰ و محکوم کی مد میں
میں ظلِ الٰہی ہوں صائب ہے مری بات
تم ناز و ادا سے ذرا مکھن تو لگاوٗ
شائد کہ اتر جائے مرے دل میں تری بات

0
77
جو بے نیازِ دید ہو اس سے حجاب کیا
گریہ ہی جس کی عید ہو اس پر عذاب کیا
توڑے ہوں اپنے ہاتھ سے جس نے سبو تمام
اس کی نظر میں جام کیا اور شراب کیا
سب نسبتیں غرور کی پامال ہو گئیں
کیا پوچھتے ہو میرا نسب کیا نصاب کیا

2
154
دل ہے ویراں جاں ھے بوجھل آؤ شعر کہیں
گرم ہوا ہے سوکھے بادل آؤ شعر کہیں
آؤ اس مسموم فضاء میں پیار کا سرگم چھیڑیں
آؤ پھر سے کر دیں جل تھل آؤ شعر کہیں
آؤ پھر سےراہیں ڈھوںڈیں صحراؤں سے دور
آؤ پھر سے کھوجیں منزل آؤ شعر کہیں

0
111
بے نیازی کی نظر ہے فاصلہ
کتنا ظالم بے خبر ہے فاصلہ
کارواں میں کون تھے اور کیا ہوئے
رہ گیا جو ہم سفر ہے فاصلہ
رہبروں اور رہزنوں کے درمیاں
ہر طرف ہی منتشر ہے فاصلہ

0
78
ہے چشم فلک گریہ کناں یا اللہ
ادبار کی چھائی ہے گھٹا یا اللہ
ہے کس کو خبر کون لُٹا راہِ خدا
دنیا جو گئی دیں بھی گیا یا اللہ

0
97
ہر تخت نشیں ہے سلطاں کوئی تنہا
افسردہ حزیں پریشاں کوئی تنہا
جوسب کا ہے مالک تقدیر یہاں
وہ اپنی نظر میں انساں کوئی تنہا

0
49
معنی کے خزانے جو چھپائے ہوئے ہو
الفاظ کامیلہ جو سجائے ہوئے ہو
اس چشمِ برق خیز کی ہو جائے تجلی
کھل جائیں گے قصے جو دبائے ہوئے ہو

0
124
ویراں ہوا جاتا ہے چمن ،کس کو فکر؟
پامال ہوئے برگ و سمن، کس کو فکر؟
ہم اپنی ہی زنجیر کے نغمات میں گم
اور خاک ہوئےکوہ و دمن ،کس کو فکر ؟

54
منہ زور جو وبا ہے مانندِ فیلِ مست
ارزانئ قضا ہے انساں کی بود و ہست
سالِ گزشتہ سارے فسانے لیے ہوئے
زیرِ نقاب آمد و زیرِ نقاب رفت

0
96
غم سارے زمانےکوسنائے نہ کوئی
بے کار حسینوں کو رلائے نہ کوئی
ہو جائے محبت کسی چارہ گری میں
اللہ قیامت یہ اٹھائے نہ کوئی

0
86