Circle Image

Awais ul Hassan Khan

@AwaisulHassan

آسماں یا زمیں سے لے آؤ
کوئی ان سا کہیں سے لے آؤ
چاند کہتا تھا آسمانوں پر
نور میرا زمیں سے لے آؤ
رقص کرتا رہے جو ہونٹوں پر
ایسا مصرعہ کہیں سے لے آؤ

8
تجربہ کیسا انوکھا سا ہوا ہے جاناں
عالم وصل میں پلکوں پہ چمکتے کیوں ہو

9
ہر گھڑی عمر گھٹ رہی ہے دوست
ایسے عالم میں کیا کریں ہم زیست

10
جب ہٹے گا حجاب کیا ہوگا
پھر تمنا کا باب کیا ہوگا
منتظر ہے نگاہ رستے پر
مضطرب دل کا خواب کیا ہوگا
چند بوندوں سے تم پریشاں ہو
آنسوؤں کا سحاب کیا ہوگا

17
کہیں چاند بجھنے کو آ گیا کہیں چاندنی بھی سمٹ گئی
تیرے روبرو کہیں دھوپ بھی جو اٹھی تو اٹھ کے پلٹ گئی
جو الاؤ دل میں بھڑک اٹھا میرا دوش کیا میرا دوش کیا
میں فریفتہ نہیں آگ پر مجھے آگ بڑھ کے لپٹ گئی
وہ عجیب منزل شوق تھی کہ نگاہ دل سے جو طے ہوئی
جو نظر نظر سے جڑی رہی وہ وجود جاں میں سمٹ گئی

16
یہ کس ادا سے چمن سے بہار گزری ہے
سلگ سلگ کے تمنا ہزار گزری ہے
حیات دل کی اگر اک شب شمار کر بھی لوں
وہ ایک شب ہی بہت بے قرار گزری ہے
اڑا کے لے جو گئی دل کی سسکیاں بلبل
بھرے چمن پہ قیامت ہزار گزری ہے

11
وقت کے ہاتھ پہ رکھے ہوئے پتھر کی قسم!
وقت کے ہاتھ پہ رکھے ہوئے پتھر کی قسم
ہم نے زخموں کو بھی اشکوں سے پریشاں نہ کیا
دل بھی چپ چاپ ترے غم میں رہا ہے مشغول
اتنا چپ چاپ کبھی چاک گریباں نہ کیا
غم کی تقدیر نے ماتھے کو ہے چوما اکثر

13
نقش جب بھی ترا ابھارا ہے
خواب نے خواب کو سنوارا ہے
تیری چاہت تری وفاؤں کا
قرض ہم نے کہاں اتارا ہے
میرے جیون کا آسماں ہے تو
میری قسمت کا تو ستارا ہے

14
حسین آنکھوں میں خواب گم صم
ہیں زلف کے پیچ و تاب گم صم
سوال تھا اک شکستٕ دل کا
جواب میں ہے جواب گم صم
ذرا جو چوری سے ان کو دیکھا
خطیب گم صم خطاب گم صم

15
ہم سفر ہے مگر اکیلی ہے
زندگی غم کی اک پہیلی ہے
پھر ترے ہجر کی وہی بارش
جو مری روح کی سہیلی ہے
پھر وہی شام کا گھنا سایہ
پھر ترا درد یار بیلی ہے

19
دل نے چاہا تھا جسے اپنے سہارے کی طرح
غم اسی شخص کا بھڑکا ہے شرارے کی طرح
تیرا احسان نہ بھولوں گا غمٕ یار کہ تو
روز سجتا ہے مری آنکھ میں تارے کی طرح
کتنے الہام کے رنگوں سے رنگا ہے چہرہ
جس کو پڑھتا ہوں میں قرآن کے پارے کی طرح

22
تری تصویر کو سینے سے لگا لوں تو چلوں
اپنے ہونے کا یقیں خود کو دلا لوں تو چلوں
کتنی سوکھی ہے ترے درد کی دھرتی دل میں
اپنی آنکھوں سے کوئی بوند گرا لوں تو چلوں
رنج کافی ہیں محبت کی عنایت کے سبب
وہ بھی دھڑکن میں مرے یار بسا لوں تو چلوں

17
بڑے ناز سے وہ دھڑکتا ہے دل میں
جگہ غم کی دل کے سوا تو نہیں تھی
مرا عشق بھی تو عنایت تھی تیری
تری وہ عنایت خطا تو نہیں تھی

12
راہ تکتی ہے دل کی تنہائی
کب سے ٹوٹی پڑی ہے شہنائی
وہ مری روح سے لپٹتی ہے
کیسی پوشاک تونے پہنائی
ان کا جلوہ کہیں ہوا ہوگا
آنکھ میں برق سی ہے لہرائی

20
یہ فریب ہے یا خمار عشق ہمیں شام اپنی سحر لگے
بڑی دلکشا ہے مگر فضا نہ کسی کی اس کو نظر لگے
وہ کنار آب کی جستجو جو بھنور میں آ کے تڑپ اٹھی
تو یقین کر کہ اسی گھڑی مجھے ناخدا وہ بھنور لگے
تجھے کیا بتاؤں کہ کیا مزا ہے جنوں میں آبلہ پائی کا
یہاں بڑھ کے تیری بہشت سے مجھے اپنا دشتٕ سفر لگے

21
بارش ہوئی تو دل کے دریچے سے بار بار
چھنکا رہی تھی اپنی کلائی کو یاد یار

26
راہ تکتی ہے دل کی تنہائی
کب سے ٹوٹی پڑی ہے شہنائی
وہ مری روح سے لپٹتی ہے
کیسی پوشاک تونے پہنائی
ان کا جلوہ کہیں ہوا ہوگا
آنکھ میں برق سی ہے لہرائی

23
راہ تکتی ہے دل کی تنہائی
کب سے ٹوٹی پڑی ہے شہنائی

27