عکسِ خیال ہی سے سلگنے لگی ہے شام
تجھ کو نہ دیکھ کر بھی مچلنے لگی ہے شام
پھر سے کسی صدا نے ستایا ہے اس قدر
آنگن میں دل کے پھر سے برسنے لگی ہے شام
سوئے ہوئے خیال بھی جاگے ہیں دشت میں
تاروں کی اوٹ سے بھی دہکنے لگی ہے شام
خوابوں کے اس سفر میں کوئی ہم‌سفر نہ تھا
بس اک دیئے کی لو میں پگھلنے لگی ہے شام
دیکھا جو آئینے میں تو خود کو نہ پا سکے
اک اجنبی سے ہجر میں جلنے لگی ہے شام
تھک کر میں اپنی ذات میں بہتا چلا گیا
خاموش رہ کے پھر بھی برسنے لگی ہے شام

0
3