بے غم تو یہاں ہم نے کسی کو بھی نہ دیکھا ہے
ہر شخص پریشاں ہے، ہر چہرہ بجھا سا ہے
تنہائی کی راتوں میں جب یاد تیری آئی
آنکھوں میں مری گویا طوفان سا اٹھا ہے
اپنوں نے دیا ہے جو یہ دردِ جگر ہم کو
کیا شرحِ الم کیجے، خاموشی ہی زیبا ہے
ہم نے تو وفا کی تھی، تم نے بھی جفا کب کی؟
پھر کس لیے ہم دونوں میں ہجر کا دریا ہے؟
جو اپنے ہی ہوتے ہیں، دیتے ہیں وہی دھوکا
دنیا کے چلن سے دل سہما سا رہتا ہے
جو دردِ دلِ انساں اویس تم کو ملا تھا
خوش ہو کے مگر تم نے سینے سے لگایا ہے

0
1