| نہ جانے کون سا منظر بدلنے والا ہے |
| پتنگا جاں سے گزر کر بدلنے والا ہے |
| وہ ایک ہجرت جو ختم ہی نہیں ہوتی |
| سنا ہے پھر کوئی گھر بدلنے والا ہے |
| ہوا کے ہاتھ میں ہے اب کے فیصلہ شاید |
| شجر کی شاخ کا تیور بدلنے والا ہے |
| تھکن سفر کی رگوں میں لہو بنی جب سے |
| یقیں ہوا کہ یہ رہبر بدلنے والا ہے |
| وہ جس کے نام کی خوشبو سے ہے چمن مہکا |
| سنا ہے اب وہ گلِ تر بدلنے والا ہے |
| شکستِ دل سے ہی ہو گی کرامتِ الفت |
| مرے نصیب کا دفتر بدلنے والا ہے |
| تمام حرفِ تمنا سمیٹ لے اویسؔ |
| ترا یہ رنگِ سخن ور بدلنے والا ہے |
معلومات