| سکوتِ شب میں جو اک بازگشت آتی ہے |
| وہ مجھ کو مجھ سے بہت دور لے کے جاتی ہے |
| فضا میں بکھرے ہوئے رنگ بولتے ہیں سبھی |
| مگر یہ آنکھ کہاں سب کو دیکھ پاتی ہے |
| اسی کے نور کی کرنیں ہیں ذرے ذرے میں |
| وہی ہے ذات جو منظر کو جگمگاتی ہے |
| عجیب شے ہے یہ تسخیرِ ذات کا جذبہ |
| خودی ہو زندہ تو پھر روح گنگناتی ہے |
| وہیں پہ ملتا ہے سچ کا سراغ بھی ہمدم |
| جہاں پہ حرف کی حد ختم ہو کے آتی ہے |
| اویس! تھک کے ابھی سے نہ بیٹھ راہوں میں |
| کہ راہِ عشق تو آگے ہی چلتی جاتی ہے |
معلومات