| کچھ تو سامانِ سفر اب کہ مہیا کیجیے |
| عمر کٹنے کو چلی، شہر تو دیکھا کیجیے |
| لمس ہے آپ کے ہاتھوں کا، مٹے گا کیونکر |
| دل کو دشمن کی طرح لاکھ مٹایا کیجیے |
| بات دنیا میں نئی کوئی نہیں ہے لیکن |
| دل کا قصہ نہ ہمیں روز سنایا کیجیے |
| دیکھنا حُسنِ قیامت کا بکھر جائے گا |
| اشک پلکوں پہ سرِ شام سجایا کیجیے |
| ہم نے دل رسمِ محبت پہ کیا ہے قربان |
| اڑ کے پہنچے گا فقط آپ پکارا کیجیے |
| پائے نازک سے مگر حشر بپا ہے ہر سو |
| خود کو زینے سے اترنے میں سنبھالا کیجیے |
| چاند بھی اوٹ سے نکلے گا کبھی ملنے کو |
| آپ پلکوں پہ ستاروں کو اتارا کیجیے |
معلومات