یہ حادثہ بھی مری بے بسی نے دیکھا ہے
کہ مجھ سے چھن گیا وہ جس کو میں نے جیتا ہے
امیدِ وصل نے لوٹا ہے عمر بھر ہم کو
سرابِ ہجر کو ہم نے خدا سا پوجا ہے
مری انا کا تماشا بنانے والے سن!
میں نے تو خود کو ہی اب قسط وار کھوجا ہے
کسی کے زخم پہ مرہم لگانا چھوڑ دیا
یہاں تو سب نے عقیدت میں ماس نوچا ہے
شکستِ دل کا تماشائی بن گیا ہے جہاں
اویسؔ! تو نے یہ کس موڑ رُک کر سوچا ہے؟

0
5