سحر ابھر کر کبھی تو شامِ الم سے آئے
یم بہ یم جس کی کرن دل میں اترتی جائے
خود ہی کشتی کو ڈبویا ہے کنارے کے قریب
ناخداؤں سے یہ بستی بھی بچا نا پائے
جن کی آنکھوں میں پڑے سوتے ہیں گونگے سپنے
کاش ان کو بھی جگانے ترا سورج آئے
ہم نے اپنوں کی عنایت کے بھی دیکھے ہیں فریب
شہرِ بے درد میں کس کس کو صدا دی جائے
روشنی بن کے جو آیا تھا دریچوں کی طرف
وقت پڑنے پہ اسی شخص کا نا سایہ آئے
زندگی تجھ سے تو ہم نے کوئی شکوہ نہ کیا
تجھ کو اپنانے میں کیا عمر گزاری جائے
صرف سائے کی تمنا میں کٹی عمرِ رواں
اب کسی پیڑ کے ہونے پہ نہ بہلایا جائے
دل کے ویرانے میں اب کوئی چراغاں ہی نہیں
شہرِ خاموش سے آتی ہے صدا ہائے ہائے
جو اُوَیس اپنی انا لے کے پھرا کرتے تھے
روشنی ان کی کُجا ہم نے نہ پائے سائے

0
3