رہے نہ اپنی جگہ ہم جگہ بناتے ہوئے
کسی کو ہم نہ دکھے آئنہ دکھاتے ہوئے
عجیب کھیلا ہے قدرت نے عمر بھر ہم سے
شکستہ ہوتے گئے خود کو ہم بناتے ہوئے
وہ ایک خواب جو دیکھا نہیں گیا اب تک
اسی کے نقش ہیں دیوار پر بناتے ہوئے
عجب سکوت کا صحرا ہے میری بستی میں
ڈرا ہے خود مرا سایہ بھی پاس آتے ہوئے
وہ چاہتے تھے کہ دنیا بدل کے رکھ دیں ہم
مگر وہ خود ہی بدلنے لگے بتاتے ہوئے
ہمارے ہاتھ سے خوشبو کبھی نہیں جاتی
کسی کے رستے سے کانٹے بھی بس ہٹاتے ہوئے
یہ کیا ہوا کہ یکایک چراغ جل سے اٹھے
کسی کو ساحلِ دریا غزل سناتے ہوئے
اویس جس نے محبت میں جان ڈالی تھی
جدا ہوا ہے مگر حشر سا اٹھاتے ہوئے

0
1