وہ لوگ جن پہ کھلا رازِ گفتگو، نہ ملے
کہاں کہاں نہیں پہنچی تھی جستجو، نہ ملے
یہ کائنات کی وسعت بھی ایک پردہ ہے
وہ ہر جگہ تھے مگر پھر بھی کو بہ کو نہ ملے
عجب مقام ہے یہ بھی کہ تھک گئے ہیں قدم
مگر وہ منزلِ جاں جس کی آرزو، نہ ملے
ہمیں نے پیاس کی شدت کو معتبر جانا
وگرنہ راہ میں کب ہم کو آب و جو نہ ملے
پلٹ کے آئے تو دیکھا وہ اپنا آپ ہی تھا
جسے تھے ڈھونڈنے نکلے وہ چار سو، نہ ملے
اویس! ضبط کی چادر کو اوڑھنا بہتر
جب اس جہاں میں کوئی صاحبِ وضو نہ ملے

0
3