| تونے چاہا تو ترے نام لگا دی ہم نے |
| اپنی ہستی بھی مرے عشق مٹا دی ہم نے |
| دل کے رستے میں رکاوٹ تھی انا کی دیوار |
| توڑ کر ضبط کے پہروں کو گرا دی ہم نے |
| گمشدہ وقت کی کڑیوں کی کہانی کی طرح |
| خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے |
| تونے روکا تو کسی کو بھی سنائی نہ کبھی |
| دل پہ سہہ کر وہ کہانی ہی بھلا دی ہم نے |
| صبر کر کر کے کہیں موند نہ جائیں آنکھیں |
| جب بھی اُٹھّی صدا کوئی دبا دی ہم نے |
معلومات