| الجھی تھی نظر ان سے بہلانے کو کیا کہئے |
| پیمانہ ہے گردش میں پیمانے کو کیا کہئے |
| یوں نظروں سے کھنچ جانا، یوں دل میں اتر جانا |
| اس دل کی طراوت کو، افسانے کو کیا کہئے! |
| تھا جرمِ محبت بھی، اعزازِ کرم بھی تھا |
| اس پیار کے عالم کو پروانے کو کیا کہئے! |
| دامن سے لپٹتے ہی وہ شرم سے رہ جانا |
| اس حسنِ مجسم کو، دیوانے کو کیا کہئے! |
| منزل کی تمنا میں اب ہوش کہاں باقی |
| اس دل کے تماشے کو افسانے کو کیا کہئے! |
| ہر چند کہ دنیا کے غم نے ہمیں گھیر لیا |
| پر آپ کے پیمانے، مستانے کو کیا کہئے! |
| بیدمؔ کی زمیں لے کر کہہ دی ہے غزل اویس |
| اس عشق کے افسانے، دیوانے کو کیا کہئے! |
معلومات