| کبھی تو عکسِ حقیقت عیاں کیا جائے |
| خود اپنے آپ کو اب رازداں کیا جائے |
| بہت ہی حبس ہے یادوں کی اس حویلی میں |
| دریچہ اب کوئی سمتِ گل ستاں کیا جائے |
| یہ مصلحت کی ردا اب اتار پھینکیں ہم |
| جو دل میں بات ہے اس کو بیاں کیا جائے |
| زمیں کے بوجھ نے اڑنے نہیں دیا ہم کو |
| خودی کے دم سے فتح آسماں کیا جائے |
| قفس کی قید سے چھٹ کر بھی کیا ملے گا ہمیں |
| جو بال و پر ہیں انہیں آسماں کیا جائے |
| نئی زمین ہے، تازہ خیال ہے اویسؔ |
| یہاں بھی حرفِ وفا کو جواں کیا جائے |
معلومات