زخم زندہ ہے ابھی اور تمنا باقی
ٹوٹے خوابوں سے مگر دل کا سنورنا باقی
ایسا لگتا ہے کسی لب پہ دعا جاری ہے
ہاں بھنور تھا ابھی ساحل پہ اترنا باقی
بعد بارش کے سبھی شمعیں بجھا دو اپنی
کیسے دیکھوں میں پتنگوں کا تڑپنا باقی
مسکرا کر جو مرا ہاتھ جھٹک دیتے ہو
عہد و پیماں سے ترا آج مکرنا باقی
لوگ ساحل سے سرِ شام چلے جائیں گے
حسنِ دریا کا پسِ شام نکھرنا باقی
تیری الفت کا اویس اب بھی تسلسل ہے وہی
گو کہ تقدیر سے کچھ اور بکھرنا باقی

0
6