| خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائیں |
| چلو کہ اب کے ذرا لاشعور ہو جائیں |
| ہمارے ظرف کا سورج چمکنے والا ہے |
| شکست کھائیں تو ہم بھی غیور ہو جائیں |
| مقامِ دید سے آگے بھی ایک منزل ہے |
| جو ہو سکے تو سراپا حضور ہو جائیں |
| وہ جن کے دم سے اندھیروں میں روشنی پھیلے |
| دعا کرو کہ وہی ہم بھی نور ہو جائیں |
| گرا دو اپنی اناؤں کی آخری دیوار |
| کہ ٹوٹ جائے تو ہم بھی صبور ہو جائیں |
| لکھا ہے بخت میں ہجرت کا مرحلہ اویسؔ |
| بلا سے تیری بکھر کر جو چور ہو جائیں |
معلومات