| کبھی جو حد سے گزرنا ٹھہر گیا ہوگا |
| وہی تو ہے جو سنورنا ٹھہر گیا ہوگا |
| عجیب کرب ہے دریا کی خامشی میں بھی |
| کہ جیسے اس کا اترنا ٹھہر گیا ہوگا |
| جو بجھ رہا ہے وہ سورج نہیں ہے یاد تری |
| چراغِ جاں کا ابھرنا ٹھہر گیا ہوگا |
| سفر کی دھول میں چہرے تو کھو گئے لیکن |
| دلوں میں خواب کا ڈرنا ٹھہر گیا ہوگا |
| بہت ہی حبس ہے یادوں کے اس نگر میں بھی |
| صبا کا اب کے گزرنا ٹھہر گیا ہوگا |
| بکھر کے رہ گئے کاغذ پہ سب خیال اویسؔ |
| ترا یہ حرف میں ڈھلنا ٹھہر گیا ہوگا |
معلومات