| جانے کیا بوجھ تھا اس شام ہمارے دل پر |
| کہہ نہ پاتے تو سرِ شام چتائیں جلتیں |
| جانے کس کرب میں ساحل کو سنایا ہم نے |
| لہریں اس شعر کو سینے سے لگا کر پلٹیں |
| لہریں آتی ہیں کنارے پہ اترنے کے لیے |
| بے خیالی میں مگر خود کو بہا جاتی ہیں |
| لوگ کہتے ہیں سرِ شام وہاں ساحل پر |
| سر کو دھنتے ہوئے وہ شعر سنا جاتی ہیں |
| جب مسلسل یہ سنا دل نے بھی چاہا دیکھے |
| پھر یہ سوچا کہیں دل اس کا دوانہ تو نہیں |
| پر یہ لازم تھا اسے دیکھے حقیقت کیا ہے |
| لوگ کہتے ہیں جو اک بات فسانہ تو نہیں |
معلومات