کہیں پہ ختم یہ صحرا نہیں ہوا ہے ابھی
مرا سفر تو تماشا نہیں ہوا ہے ابھی
بہت سے رنگ ہیں بکھرے ہوئے سرِ مژگاں
مگر یہ منظر دھندلا نہیں ہوا ہے ابھی
وہ ایک بات جو سینے میں دفن ہے میرے
اسے کسی نے بھی سوچا نہیں ہوا ہے ابھی
میں جس کو ڈھونڈ رہا ہوں زمان سے آگے
وہ عکس مجھ سے بھی یکجا نہیں ہوا ہے ابھی
ہزاروں خواب ہیں پلکوں کی اوٹ میں لیکن
کوئی بھی خواب تو پورا نہیں ہوا ہے ابھی
تمام عمر کی محنت کا یہ صلہ ہے اویسؔ
ترا یہ حرف ہی تنہا نہیں ہوا ہے ابھی

0
1