زندگی نام کرنا پڑتی ہے
تب محبت ذرا سنبھلتی ہے
یاد تم بے حساب آتے ہو
بھیگے ساون میں شام ڈھلتی ہے
قرض اترے گا کب محبت کا
کم سے کم جان دینا پڑتی ہے
زندگی کیوں خزاں میں ڈھلتی ہے
دھوپ بالوں پہ جب اترتی ہے

0
4