کبھی تو ایسی سحر روشنی سے تر بہ تر آئے
یم بہ یم جس کی کِرَن دل میں اترتی جائے
خود ہی کشتی کو ڈبویا ہے کنارے کے قریب
ناخداؤں سے یہ بستی بھی بچا نا پائے
جن کی آنکھوں میں پڑے سوتے ہیں گونگے سپنے
کاش ان کو بھی جگانے تیرا سورج آئے
ہم نے اپنوں کی عنایت کے بھی دیکھے ہیں فریب
شہرِ بے درد میں اب کس کو صدا دی جائے
روشنی بن کے جو آیا تھا دریچوں کی طرف
وقت پڑنے پہ اسی شخص کا نا سایہ آئے
‎دل کے ویرانے میں اب کوئی چراغاں ہی نہیں
‎شہرِ خاموش سے آتی ہے صدا ہائے ہائے
زندگی تجھ سے تو ہم نے کوئی شکوہ نہ کیا
تجھ کو اپنانے میں کیا عمر گزاری جائے
صرف سائے کی تمنا میں کٹی عمرِ رواں
اب کسی پِیڑ کے ہونے پہ نہ بہلایا جائے
جو اُوَیس اپنی انا لے کے پھِرا کرتے تھے
روشنی ان کی کُجا ہم نے نہ پائے سائے

0
6