کسی کو کھو کے زمانے سے کیا گلہ کرنا
مقدروں کے لکھے کا حساب کیا کرنا
اگر یہ طے ہے زمانہ رَوِش نہ چھوڑے گا
ہجوم شہر سے خود کو ذرا جدا کرنا
جو بات لب پہ نہ آئے اُسے خموشی سے
ہُوا کے دوش پہ لکھ کر بہا دیا کرنا
وہ جس نے سیکھ لیا ہے سکوت کا عالم
اُسے فضول کی باتوں سے کیا خفا کرنا
بدل گئے ہیں جو رستے تو پھر پلٹ کے نہ دیکھ
مسافروں سے پرانے پتے پتا کرنا
ہُوا کے سامنے جلتے چراغ کی صورت
وفائے عہد پہ قائم رہے، دعا کرنا
رکھا ہے دل میں چھپا کر جو درد کا عالم
ڈبو ڈبو کے اسی میں غزل لکھا کرنا

0
3