داستاں بن کے جو بکھرے تو کہاں تک پہنچے
ہم محبت کی زباں بن کے جہاں تک پہنچے
اب نشاں ہے نہ کوئی ہم کو نشاں کی حسرت
جستجو لے کے تری ہم تو وہاں تک پہنچے
جن کو معلوم تھا رستے میں ہی لٹ جانے کا
وہ مسافر بھی خدا جانے کہاں تک پہنچے
جن کی چیخوں کی صداؤں سے جگر پھٹتا ہے
ایسے نالے بھی مرے حرفِ بیاں تک پہنچے
لامکاں جس کا مکاں اور زمانہ بے علم
اب بھلا کیسے کوئی اس کے نشاں تک پہنچے

0
4