کہیں پہ نور، کہیں پر غبار رہتا ہے
دلوں کے بیچ عجب انتشار رہتا ہے
وہ دیکھتا ہے جسے آنکھ دیکھ پاتی نہیں
وہی تو ہے جو پسِ روزگار رہتا ہے
عجیب شے ہے یہ اپنے ہی عکس سے ملنا
یہاں تو خود پہ بھی کب اختیار رہتا ہے
ہوا کے دوش پہ لکھے تھے لفظ سب برحق
مگر یہ کون ہے جو بے قرار رہتا ہے
تلاشِ ذات کی راہیں کٹھن سہی لیکن
رضا پہ راضی وہی خاکسار رہتا ہے
اویس! ضبط کے صحرا میں چل کے دیکھو ذرا
وہیں پہ رحمتِ حق کا حصار رہتا ہے

0
2