Circle Image

بنیامین مضطربؔ

@binyamin

Urdu Poet

مرے قریں نشست پر تُو جب ہوئی براجماں
تری حسین آنکھ میں لگا کہ گُم ہے آسماں
ترا وجودِضَوفِشاں
کہ ہے یہ گنجِ شائگاں
مجھے لگا
سِتارگاں کی روشنی کہ شربتوں کی چاشنی

0
38
مرے دل پہ تیری محبت کی آیت
خدا کی طرف سے اتاری گئی جب
ذرا بھی خیانت نہیں کی تھی میں نے
کہ جیسے وہ آیت اتاری گئی تھی
اسے جوں کا توں ہی تجھے کہہ دیا تھا
نہ وہ شاعری تھی نہ کوئی سخن تھا

1
37
اس ہستی کا ذکر ہی یارو
ہر دکھ کے درماں جیسا ہے
اس کا ہونا اک نعمت تھی
اس کا ہجر زیاں جیسا ہے
دیکھ خدا کو بھی بندوں سے
پیار جو ہے وہ ماں جیسا ہے

31
نگاہوں میں ہیں انگارے، نہ ڈرتی ہے
کہاں جاؤں، بچاؤ، مجھ سے لڑتی ہے
سمجھتی ہے اسے غالبؔ پہ غلبہ ہے
وہ آتشؔ ہے کہ آتش سی بھڑکتی ہے
وہ بلبل ہے مگر شاہین لگتی ہے
پلٹتی ہے پلٹ کر پھر جھپٹتی ہے

17
دل میں اپنے قیام ہو گا مرا
آج مجھ سے کلام ہو گا مرا
وہ جو ہے آسمان کی زینت
کل وہ ماہِ تمام ہو گا مرا
میں، کہ گمنام زندگی ہے مری
بعد مرنے کے نام ہو گا مرا

22
ابھی تلک بلند ہے عَلَم حسین کا
سبھی غموں سے بڑھ رہا ہے غم حسین کا
اٹھا جوان لاش پھر تجھے پتہ چلے
پتہ چلے کہیں کسے، الم حسین کا
پکار تھی علی علی، علی علی علی
جہاں گیا جدھر اٹھا قدم حسین کا

1
96
مرے قریں نشست پر براجماں جو تم ہوئی
تری حسین آنکھ میں یہ کائنات گم ہوئی
مجھے لگا “ستارگاں کی روشنی” و “شربتوں کی چاشنی”
ترے بدن میں ضَم ہوئی
تو رونقِ اِرَم ہوئی
مجھے لگا بہشت میں ہیں ہم

0
56
ہم جو مل کے بیٹھے ہیں
کچھ تو مشترک ہو گا
روشنی بکھرنے کا
انتظار ہی ہو گا
انتظار کرنا بھی
ٹھیک بات کرنا بھی

0
46
مسائل بہت بڑھ گئے ہیں
سیاست __ کئی دوستوں کو الگ کر چکی ہے
چناؤ میں بھی دھاندلی ہو گئی ہے
سنا ہے ___ یہ سب فوجیوں نے کیا ہے
گھریلو ملازم کو مالک نے ہی مار ڈالا
وبائیں تباہی مچانے میں مصروف ہیں اور

0
37
رات گئے تک کیوں کر اشک پروتی ہیں
اب یہ آنکھیں کس کے غم میں روتی ہیں
ایک پری وش میں نے وہاں پر دیکھا ہے
جھیل کنارے سچ میں پریاں ہوتی ہیں
دیکھ وہ پربت کیسے اجلے اجلے ہیں
جیسے ان کا چہرہ کرنیں دھوتی ہیں

0
53
ناوّک دل کے پار کیا ہے تم نے بھی
آنکھوں کو خوں بار کیا ہے تم نے بھی
میں سمجھا تھا تم اوروں سے اچھے ہو
آخر کو بے زار کیا ہے تم نے بھی
سمجھاؤ مجھ کو لیکن پہلے بتلاؤ
ناصح! سچا پیار کیا ہے تم نے بھی؟

0
57
انسانیت کو کھل کے کریں پائمال لوگ
اب تو منافقت میں ہوئے با کمال لوگ
جن کو اصول یاد تھے الفت کے وہ گئے
اب تو ہیں خال خال یہاں خوش خصال لوگ
تہمت لگا کے مجھ پہ، مجھے مار بھی سکیں
اب پوچھتے ہیں مجھ سے سبھی وہ سوال لوگ

0
34
یقیں رنگوں پہ ہے اس کو
وہ کہتی ہے
محبت کی وضاحت رنگ کرتے ہیں
وہ اب رنگوں کو دیکھے گی
کہ کیا مقدار ہے میری محبت کی
وہ پرکھے گی

0
66
وقت رفتار ذرا اور بڑھا، کیا ہو گا
تابِ خورشید جلا اور بجھا، کیا ہو گا
میں اکیلا جو چلا، خوف نہیں ہے مجھ کو
بیچ رستے میں کوئی چھوڑ گیا، کیا ہو گا
میں تو ہوں خاک نشیں، خاک ٹھکانہ میرا
تو بلندی سے گرا، سوچ ذرا کیا ہو گا؟

0
32
اچانک جو اداسی چھا گئی مجھ پر
مصیبت ہے طبیعت کا یہ بدلاؤ بھی
تجھے معلوم ہے میں چاہتا کیا ہوں
غزل جو تم سناتی ہو سناؤ بھی

0
51
لگاؤ بھی نہیں اور رکھ رکھاؤ بھی
تجھی سے یار سیکھا ہے یہ داؤ بھی
یہ تمہیدیں نہ باندھو وقتِ رخصت تم
کہ جانا چاہتے ہو تم تو جاؤ بھی

0
55
آنکھ اب اشک ہی سے خالی ہے
حیف صد حیف! خشک سالی ہے
جچ رہا ہوں میں مسندِ غم پر
حالتِ زار بے مثالی ہے
آ گِرے گی مِری ہتھیلی پر
وہ دعا جو ابھی اچھالی ہے

0
85
شاعروں کو عَفیف مت سمجھو
ہر کسی کو مُنیف مت سمجھو
جو یہ کہتے ہیں وہ نہیں کرتے
لطفِ مے کو نَظیف مت سمجھو

0
70
کارِ بیکار نہیں ہو سکتا
تجھ سے اب پیار نہیں ہو سکتا
ایک ہی شخص سے دھوکہ کھا کر
عشق دو بار نہیں ہو سکتا
جو ہوا ٹھیک ہوا چھوڑیں اب
پھر سے اک بار نہیں ہو سکتا

0
62
مجھ کو اپنی ہی حالت پہ ترس آتا ہے
مجھ سے اپنی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی

0
118
رند کہلاۓ ہوۓ زاہد کے
ہم ہیں ٹھکراۓ ہوۓ زاہد کے
حور پر اور کبھی جنت پر
ہم ہیں بہلاۓ ہوۓ زاہد کے
کیسے جائیں گے بھلا جنت تک
لوگ بھٹکاۓ ہوۓ زاہد کے

0
113
احوالِ دلِ زار بتاتے رہیں گے ہم
تجھ کو تو یہ اشعار سناتے رہیں گے ہم
اس عشق جنوں خیز نے چھوڑا نہیں کچھ بھی
اس شہر میں اب خاک اڑاتے رہیں گے ہم
کچھ یاد تری بوجھ نہیں یار، مگر سن
ہے بوجھ تو پھر بوجھ اٹھاتے رہیں گے ہم

0
121
زلف کے خم جو نکلتے جائیں
ہیں ادھر دل کہ دھڑکتے جائیں
شہر لاہور کے رستوں پر ہم
آ کسی شام ٹہلتے جائیں
سرد ہے ماہ دسمبر لیکن
مرمریں جسم سلگتے جائیں

0
144
اے عظیم درس گاہ
بے مثال بارگاہ
تو ہے بحر بے کنار
تو نوید خیر خواہ
بن رہی ہیں طالبات
اک چمک سے مہرو ماہ

0
90
ہم جو مل کے بیٹھے ہیں
کچھ تو مشترک ہو گا
روشنی بکھرنے کا
انتظار ہی ہو گا
انتظار کرنا بھی
ٹھیک بات کرنا بھی

0
62
تجھے تو ڈر خدا کا بھی نہیں ہے
میں تیرے دین سے توبہ کروں گا

0
81
جوانی میں ہی بوڑھا ہو گیا ہوں
میں اپنے وقت سے پہلے مروں گا

0
97
میں نے اک آواز سنی
میں نے اک صورت دیکھی
ان ہونٹوں کی حرکت پر
سارے ساز لگیں پھیکے
اس صورت کو دیکھیں تو
آنکھوں کو تسکین ملے

0
74
اب تو ماتم ہے زندگانی کا
زندگی نام رائیگانی کا
دل نے سرکار خود کشی کر لی
کل جنازہ ہے آنجہانی کا
ہاتھ اٹھتے نہیں دعا کے لئے
اب یہ عالم ہے بد گمانی کا

0
90
جاہلوں سے بگڑ رہے ہیں
علم والے جھگڑ رہے ہیں
ایک سکے کے رخ ہیں دونوں
ہم تو دونوں سے ڈر رہے ہیں

0
74
درست رستہ دکھا گئے ہیں
معاف کرنا سکھا گئے ہیں
محبتوں کا وہ درس دے کر
کدورتوں کو مٹا گئے ہیں
نہ رنگ اعلی نہ نسل اعلی
سبھی بتوں کو گرا گئے ہیں

76
دید ہی وصل کل نہیں ہے کیا؟
بات کرنا خلل نہیں ہے کیا؟
مسکراہٹ میں دل دیا تم کو
یہ مناسب بدل نہیں ہے کیا؟
وقت دینے میں حرج ہی کیا ہے
تیری زلفوں میں بل نہیں ہے کیا؟

0
234
میں محبت گریز کیوں کر ہوں
میرے پہلو میں دل نہیں ہے کیا؟

0
99
بلا کا ظلم ڈھانا آ گیا ہے
اسے اب مے پلانا آ گیا ہے
وہ لڑکی تھی، بہت سہمی ہوئی جو
اسے اب مسکرانا آ گیا ہے
ملا کرتی تھی ہر ہفتے مگر اب
اسے گھڑنا بہانہ آ گیا ہے

2
367
سر جھکا کر جو مسکراتی ہو
حسن کو دلکشی سکھاتی ہو؟
سچ کہو تم کلام کرتی ہو؟
یا کوئی راگ گنگناتی ہو؟
رات رکھتی ہو زلف میں، ہے ناں؟
جسم پر دن لپیٹ لاتی ہو

2
313
مرے آگے آگے ہیں بھاگتی
مری خواہشیں بھی ہیں تتلیاں

85
آپ سے نہ بولوں گا
راز اب نہ کھولوں گا
جس قدر بھی غم دو گے
آنسوؤں سے دھو لوں گا
قہقہے لگاؤں گا
اس طرح ہی رو لوں گا

108
پرانا کچھ نہیں ہوتا یہ جدت کچھ نہیں ہوتی
حقیقت گر بتاؤں تو حقیقت کچھ نہیں ہوتی
مری مانو! ارے لڑکی، ارے پاگل، ارے ناداں
محبت بھول جاتے ہیں محبت کچھ نہیں ہوتی
محبت میں اذیت ہے؟ یہ کس مکتب سے سیکھا ہے
کسی مجنوں سے پوچھو تم ، اذیت کچھ نہیں ہوتی

142
رفاقت ہی ہو گی گھڑی دو گھڑی کی
کہ جرات کہاں سے ملی ہم سری کی
وہ باتیں تمھاری وہ شامیں پرانی
بھلائے نہ بھولے گی شب جنوری کی
سنے کون میری صدا اب یہاں پر
کہ عادت ہے مجھ کو تو نوحہ گری کی

115
کیا؟ کہاں کی رفاقت؟ اکیلا ہوں میں
یار بس کر وضاحت ! اکیلا ہوں میں
تم مرے ساتھ ہو کر لیا ہے یقیں
خوش رہیں جی، اجازت! اکیلا ہوں میں
مقتدی مجھ سے بہتر سبھی ساتھ ہیں
جرم میرا امامت، اکیلا ہوں میں

97
جب سے مرے قریب وہ صورت نہیں رہی
تب سے مرے سکون میں برکت نہیں رہی
اس کا وجود تھا، بخدا، جان تھی مری
جب سے گیا ہے قلب میں حرکت نہیں رہی
دل مبتلا عجیب کسی وسوسے میں ہے
سچ سچ بتا دے یار ، محبت نہیں رہی؟

89
سہمے لوگوں کو دیکھتا ہوں
چھپتے ہاتھوں کو دیکھتا ہوں
اپنے اپنوں سے فاصلے ہیں
اجڑے شہروں کو دیکھتا ہوں
واپس آتے گھروں کو روتے
بھوکے چہروں کو دیکھتا ہوں

0
66
جج صاحب آج نہیں آۓ
میں ہر تاریخ پہ آتا ہوں
اگلی تاریخ پہ حاضر ہو
جس کو بھی حکم دیا جاتا
رونے کی بات تو یہ ہے جی
وہ ہی موجود نہیں ہوتا

0
163
الگ تھے جب سخن کا اک جہاں تھا میں
سنو جاناں غزل تھی تم زباں تھا میں
یہ پاگل دل سدا دیتا ہے تم بن اب
کبھی جاناں مکیں تھے تم مکاں تھا میں
مرے مالک ازل سے ہے ابد تک تو
حقیقت ہے یقیں ہے تو گماں تھا میں

0
98