Circle Image

رحیم اللّٰہ ظاؔہر

@Raheem1982

نازک خیال کا کوئی چہرہ بنا گیا
چہرہ خیال سے ذرا گہرا بنا گیا
ہے یہ ستم ظریفی تو حالات کا نہ پوچھ
قسمت سے کھیل کر مجھے صحرا بنا گیا
ہاتھوں کو پڑھتے ساتھ ہی تارے بدک گئے
علمِ نجوم اک نیا تارہ بنا گیا

0
9
رشتوں کے سمندر میں عجب ڈوب گیا ہوں
بھائی پہ پڑوسی کا غضب ڈوب گیا ہوں
چاچوں سے پڑا واسطہ اللّٰہ ہی بچائے
اُن کو ملا ظالم کا لقب ڈوب گیا ہوں
اس دورِ منافق میں یہ دل ڈوبنا ہی کیا
وحشت زدہ ہوں ڈر کے سبب ڈوب گیا ہوں

0
8
خود سے جب ہم کلام ہوتی ہے
ہر گھڑی تیرے نام ہوتی ہے
درد اب اور بڑھ گیا ہوگا
غم سے بیمار شام ہوتی ہے
زندگی سے میں خوش نہیں ہوتا
سانس کی بس غلام ہوتی ہے

0
89
غم کی قربت سے یہ آثار نظر آئے ہیں
غم کے وارث سبھی غمخوار نظر آئے ہیں
گریہ کیا ضبط کروں ضبط نہ ٹوٹے کیسے
آج چہرے بڑے بیمار نظر آئے ہیں
منطقی ربط کی دیواریں عبوری سمجھو
دل میں آئے کھڑے سرکار نظر آئے ہیں

0
10
غم کی قربت سے یہ آثار نظر آئے ہیں
غم کے وارث سبھی غمخوار نظر آئے ہیں
گریہ کیا ضبط کروں ضبط نہ ٹوٹے کیسے
آج چہرے بڑے بیمار نظر آئے ہیں
منطقی ربط کی دیواریں عبوری سمجھو
دل میں آئے کھڑے سرکار نظر آئے ہیں

0
16
حقیقتاً تو خیالوں میں تیرے گم صم ہوں
کہیں پہ چشمِ تصور میں گویا میں تم ہوں
کرو نا! زار کی باتیں ہماری محفل میں
یہاں پہ کوئی نہیں ہے خیال میں گم ہوں
تُو خود میں گم ہی سہی نغمگی ہماری ہے
تمھاری ذات پہ چھایا ہوا ترنم ہوں

0
10
محبت کے سروں میں جان ڈالو کچھ کہو ہم سے
کہو دریا دلی سےغم میں ڈوبے ہیں بڑے غم سے
اسی کی داستاں ہے تو وہ کیسے سن نہیں سکتا
کہانی میں بہت سی ان کہی باتیں سنو ہم سے
تمھاری یاد کی بارش میں گیلے خواب لے کر ہم
پھسل کر ، گر گئے ہیں بے خیالی میں بڑے دھم سے

7
جہانِ کل سے ہو محبوب تیرا بیٹا ہوں
ماں تیرے نام سے منسوب تیرا بیٹا ہوں
ترے پیر تلے جنت ، خوشی میسر ہے
مجھے ہیں جنتیں مطلوب تیرا بیٹا ہوں
وفا کے دام نہیں، شکر کس طریقے ہو
شکر ہے آنکھیں ہیں مرطوب تیرا بیٹا ہوں

0
11
لوٹ آؤں گر اجازت ہےتری
دل مرا مانگے رفاقت ہے تری
دل کی خواہش ہے یہ بَن آباد ہو
زندگی میری رعایت ہے تری
اب گلہ کیسے کروں گا جان کر
ہر ادا قاتل مہارت ہے تری

0
14
چارہ گر چھوڑ گیا ساتھ تو حیرت کیوں ہے
اب دمِ مرگ ملاقات کی حسرت کیوں ہے
میں نے طوفان کے تھمنے کی دعا مانگی تھی
پھر گئی رات یہ بپھری ہوئی قدرت کیوں ہے
خفتیں ہیں وہ مٹانے کی ذرا بات کرے
صاف منصف سے کہو مانگتا اجرت کیوں ہے

0
19
عشق کا عنوان بننا چاہتا ہوں
با وفا انسان بننا چاہتا ہوں
اب مرے حالات کیوں ایسے بنے ہیں
ہائے کیوں طوفان بننا چاہتا ہوں
بات اس نکتے پہ آکر رک گئی ہے
سوچ لو مہمان بننا چاہتا ہوں

0
27
دنیا تیری چاہت میں تگ و دو
درجوں کی بھی جنت میں تگ و دو
رنگِ گل سے ہی تیری ندرت ہے
خوشبو کی بھی شرکت میں تگ و دو
رخِ جاناں کو چھو کر اب چاہوں
تمہیں ملنے کی حسرت میں تگ و دو

0
23
ہجر کی رات کے ہیں منتشر قصے
حشر سے بھی بڑے ہیں مختصر قصے
توبہ ہے میری گر یہ بات بن جائے
کیا سنائیں خطا کے بیشتر قصے
در بہ در ٹھوکروں کا ذکر کیوں کرتا
گر نہ ہوتے جفا کے منتظر قصے

0
26