حقیقتاً تو خیالوں میں تیرے گم صم ہوں
کہیں پہ چشمِ تصور میں گویا میں تم ہوں
کرو نا! زار کی باتیں ہماری محفل میں
یہاں پہ کوئی نہیں ہے خیال میں گم ہوں
تُو خود میں گم ہی سہی نغمگی ہماری ہے
تمھاری ذات پہ چھایا ہوا ترنم ہوں
غموں کی بات نہ کر عشق کے جو دریا تھے
بہت سے ڈوب گئے عشق کا میں قلزم ہوں
جہاں میں ڈھونڈ لے گا اک جہاں مسلسل یوں
عبس نہیں ہے میں ظاؔہر کہاں کہاں گم ہوں

0
33