رشتوں کے سمندر میں عجب ڈوب گیا ہوں
بھائی پہ پڑوسی کا غضب ڈوب گیا ہوں
چاچوں سے پڑا واسطہ اللّٰہ ہی بچائے
اُن کو ملا ظالم کا لقب ڈوب گیا ہوں
اس دورِ منافق میں یہ دل ڈوبنا ہی کیا
وحشت زدہ ہوں ڈر کے سبب ڈوب گیا ہوں
ہر ایک فریبی ہے تو کوئی ہے ابو جہل
مڑ آیا وہی دور لہب ڈوب گیا ہوں
ہے فاصلہ قائم تو حرم بھی ملے خالی
یہ رقص سرِ عام عرب ڈوب گیا ہوں
زر، زن، زمیں کا بہتریں سا دور ہے ظالم
لکھ آج رہا ہوں یہ ادب ڈوب گیا ہوں
گر ڈالوں نظر اُمّہ پہ تو کام ہے بگڑا
ظاہر کہاں ہیں عالی نسب ڈوب گیا ہوں

0
8