چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں
عمر ہے فانی عمر ہے باقی اس کی کچھ پروا ہی نہیں
تو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں
تجھ سے دوری دوری کب تھی پاس اور دور تو دھوکا ہیں
فرق نہیں انمول رتن کو کھو کر پھر سے پانے میں

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


2
167
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
مِلا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دو پہر کی زردیاں
اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن


2
740
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائيں گے راہِ خدا، ایسے نہیں ہوتا
گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
مرے قاتل حسابِ خوں بہا ، ایسے نہیں ہوتا
جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


2
710
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
پلک جھپکتے، ہَوا میں لکیر ایسا تھا
اُسے تو، دوست کے ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ ، بھی تھا
خطا نہ ہوتا کسی طور، تیر ایسا تھا
پیام دینے کا موسم، نہ ہم نوا پاکر !
پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


2
530
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
1207
کہوں کیا رنگ اس گل کا، اہا ہا ہا اہا ہا ہا
ہوا رنگیں چمن سارا، اہا ہا ہا اہا ہا ہا
نمک چھڑکے ہے وہ کس کس مزے سے دل کے زخموں پر
مزے لیتا ہوں میں کیا کیا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
خدا جانے حلاوت کیا تھی آبِ تیغِ قاتل میں
لبِ ہر زخم ہے گویا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


7
814
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے پر
کیوں رات گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانہ کیا

بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف


1
620
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے
وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے
میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن


224
گردشوں کے ہیں مارے ہوئے نا دشمنوں کے ستائے ہوئے ہیں
جتنے بھی زخم ہیں میرے دل پر دوستوں کے لگائے ہوئے ہیں
جب سے دیکھا تیا قد و قامت دل پہ ٹوٹی ہوئی ہے قیامت
ہر بلا سے رہے تو سلامت دن جوانی کے آئے ہوئے ہیں
اور دے مجھ کو دے اورساقی ہوش رہتا ہے تھوڑا سا باقی
آج تلخی بھی ہے انتہا کی آج وہ بھی پرائے ہوئے ہیں

فاعِلن فاعِلن فاعِلن فِع فاعِلن فاعِلن فاعِلن فِع


214
مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہُوا کرتے ہیں
وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گُنہگار ہُوا کرتے ہیں
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خودار ہُوا کرتے ہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


2
877
یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے​
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے​
​ پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے​
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے​
​ محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے​
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دِکھلا دے​

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


2
596
دیدۂ اشک بار ہے اپنا
اور دل بے قرار ہے اپنا
رشک صحرا ہے گھر کی ویرانی
یہی رنگِ بہار ہے اپنا
چشم گریاں سے چاک داماں سے
حال سب آشکار ہے اپنا

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


329
زندگی ایک اذیت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے
دل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیال
تجھ سے کس درجہ محبت ہے مجھے
تری صورت تری زلفیں ملبوس
بس انہی چیزوں سے رغبت ہے مجھے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
211
ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں
شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
447
جب تری جان ہو گئی ہوگی​
جان حیران ہو گئی ہو گی​
شب تھا میری نگہ کا بوجھ اس پر​
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی​
اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت​
وہ مِری آن ہو گئی ہو گی​

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


2
1144
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
پڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا
سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کی
صحبت میں علما فضلا کی جا کر پڑھیے گنیے گا
دل کی تسلی جب کے ہو گی گفت و شنود سے لوگوں کی
آگ پھنکے گی غم کی بدن میں اس میں جلیے بھنیے گا

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


138
من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے
اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے
جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے
یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے
جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا
ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے

بحرِ ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف مضاعف


1
523
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
کیا بھولا کیسے بھولا کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو
کارن دوش نہیں ہے کوئی بھولا بھالا بھول گیا
کیسے دن تھے کیسی راتیں کیسی باتیں گھاتیں تھیں
من بالک ہے پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


84
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا
خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھی
یہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا
کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرے
گلی میں تری کل تماشا ہوا تھا

فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن


475
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا
ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
صبر تھا ایک مونسِ ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


147
گلیوں میں اب تلک تو مذکور ہے ہمارا
افسانۂ محبت مشہور ہے ہمارا
مقصود کو تو دیکھیں کب تک پہنچتے ہیں ہم
بالفعل اب ارادہ تا گور ہے ہمارا
کیا آرزو تھی جس سے سب چشم ہو گئے ہیں
ہر زخم سو جگہ سے ناسور ہے ہمارا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


95
خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا
کیا کہوں اے ہم نشیں میں تجھ سے حاصل دل گیا
اپنے ہی دل کو نہ ہو وا شد تو کیا حاصل نسیم
گو چمن میں غنچۂ پژمردہ تجھ سے کھل گیا
دل سے آنکھوں میں لہو آتا ہے شاید رات کو
کشمکش میں بے قراری کی یہ پھوڑا چھل گیا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


75
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستمگر نکلا
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب
کس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا
جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھرا
جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


86
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہانِ رزق میں توقیرِ اہلِ حاجت کیا
شِکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
دمشقِ مصلحت و کوفۂ نفاق کے بیچ
فغانِ قافلۂ بے نوا کی قیمت کیا

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
421
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا
شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن


9
910
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی​
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی​
​ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا​
یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی​
​حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو​
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی​

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


1
712
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے
لیکن زمیں پہ بت، نہ فلک پر خدا سنے
فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ
لیکن نہ گل، نہ غنچہ، نہ بادِ صبا سنے
خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان
کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


1
791
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا ہے بدن
سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
دلِ فریب زدہ دعوتِ نظر پہ نہ جا
یہ آج کے قد و گیسو ہیں کل کہ دار و رسن

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
746
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے یوں ہے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


1
666
وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک
زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری
بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک
ایک اِک سانس مری رہن تھی دِلدار کے پاس
نقدِ جاں بھی نہ رہا قرض ادا ہونے تک

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


2
229
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اُداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
حیات اب شام غم کی تشبیہ خود بنے گی
تمہاری زلفوں کا استعارہ نہیں چلے گا

مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن


2
628
یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے
یہاں جس شے کو جو سمجھو وہی معلُوم ہوتی ہے
نکلتے ہیں کبھی تو چاندنی سے دُھوپ کے لشکر
کبھی خود دُھوپ نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے
کبھی کانٹوں کی نوکوں پرلبِ گُل رنگ کی نرمی
کبھی پُھولوں کی خوشبُو میں انی معلُوم ہوتی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


1
202
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوئے چشمکِ انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفسِ باز پسیں تھا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
1
475
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہوکر زخمِ رسا سے اس کے
سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


1
157
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
جی کا جانا ٹہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا
عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیا
دل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا
ہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھے
اب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


2
292
مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا
اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا
داغِ فراق و حسرتِ وصل آرزوئے شوق
میں ساتھ زیر خاک بھی ہنگامہ لے گیا
پہنچا نہ پہنچا آہ گیا سو گیا غریب
وہ مرغ نامہ بر جو مرا نامہ لے گیا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


3
210
مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل
مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا
یکساں ہے قتل گہ اور اس کی گلی تو مجھ کو
واں خاک میں میں لوٹا یاں لوہو میں نہایا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


1
108
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگِ گردن جلا
بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ
ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
313
خواب میں تو نظر جمال پڑا
پر مرے جی ہی کے خیال پڑا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
بحر میں تو کہے کہ جال پڑا
میں نے تو سر دیا پر اے جلاد
کس کی گردن پہ یہ وبال پڑا

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


0
64
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتدادِ مدتِ ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
119
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


100
سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
غنیمت ہے جہاں میں دم ہمارا
رہے ہم عالمِ مستی میں اکثر
رہا کچھ اور ہی عالم ہمارا
بہت ہی دور ہم سے بھاگتے ہو
کرو ہو پاس کچھ تو کم ہمارا

مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن


0
352
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


0
111
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے
جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


0
80
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دلِ پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ
رات گذرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
134
ایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل
آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا
ناکامیِ صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ
اب جی سے گذر جانا کچھ کام نہیں رکھتا

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


238
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
غم قرب و بعد کا تھا جب تک نہ ہم نے جانا
اب مرتبہ جو سمجھے وہ اتنا دور کیا تھا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


251
نکلے چشمہ جو کوئی جوشِ زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندلِ پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
54
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
282
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


477