گردشوں کے ہیں مارے ہوئے نا دشمنوں کے ستائے ہوئے ہیں
جتنے بھی زخم ہیں میرے دل پر دوستوں کے لگائے ہوئے ہیں
جب سے دیکھا تیا قد و قامت دل پہ ٹوٹی ہوئی ہے قیامت
ہر بلا سے رہے تو سلامت دن جوانی کے آئے ہوئے ہیں
اور دے مجھ کو دے اورساقی ہوش رہتا ہے تھوڑا سا باقی
آج تلخی بھی ہے انتہا کی آج وہ بھی پرائے ہوئے ہیں
کل تھے آباد پہلو میں میرے اب ہیں غیروں کی محفل میں ڈیرے
میری محفل میں کرکے اندھیرے اپنی محفل سجائے ہوئے ہیں
اپنے ہاتھوں سے خنجر چلا کر کتنا معصوم چہرہ بنا کر
اپنے کاندھوں پہ اب میرے قاتل میری میّت اٹھائے ہوئے ہیں
مہ وشوں کو وفا سے کیا مطلب ان بُتوں کو خدا سے کیا مطلب
ان کی معصوم نظروں نے ناصر لوگ پاگل بنائے ہوئے ہیں
بحر
متدارک مثمن محذوف مضاعف
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فِع فاعِلن فاعِلن فاعِلن فِع

377

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں