جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا، مگر، بہ تنگیِ چشمِ حُسود تھا
آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں، ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسدؔ
سرگشتہِ خمارِ رسوم و قیود تھا
بحر
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن

1
1264

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں
سلام مکرمی
اس کلام کے مطلع کا مصرعِ ثانی کی تقظیع دکھا نہیں رہا. اس لیے اس کلام کو مینے کاپی کر کے جب اصلاح والےسیکشن میں دیکھا تو دوسرا اور دسواں مصرع وزن سے خارج دکھا رہا ہے.
اب غالب کا مصرع تو بحر و وزن سے خارج هونے سے رہا. اس کا مطلب کوڈنگ میں کوئی مسئلہ ہے. اس درست کر لیجیے.