حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے
لیکن زمیں پہ بت، نہ فلک پر خدا سنے
فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ
لیکن نہ گل، نہ غنچہ، نہ بادِ صبا سنے
خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان
کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے
یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورشِ حیات
درد آشنا کی بات، نہ درد آشنا سنے
شاہوں کے دل تو سنگ ہیں، شاہوں کا ذکر کیا
یہ بھی نہیں کہ حال گدا کا گدا سنے
عالم ہے یہ کہ گوشِ بشر تک ہے بے نیاز
ہونا تھا یہ کہ بندہ کہے، اور خدا سنے
سنتے بھی ہیں جو لوگ، تو یوں، داستانِ غم
جیسے یزید سانحۂ کربلا سنے
ہاں اے خدائے عرشِ برین و بتانِ فرش
تم میں سے ہو کوئی تو مرا ماجرا سنے
پشمینہ پوش راہ نشینوں کی التجا
شاید کبھی وہ شاہدِ اطلس قبا سنے
ہم نادر و یزید، نہ حجاج ہیں، نہ شمر
اللہ، اور جوش، ہماری دعا سنے!!
بحر
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن

2
1675

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں
روانی سکور بھی میسر ہو تو مددگار ہو گا


محشر میں ہو نصیب شفاعت رسول کی
ہر دم مری زباں پہ ہو مدحت رسول کی
گرتا نہیں زمانے کے شاہوں کے سامنے
جس دل میں بس رہی ہو محبت رسول کی
صدیق بن گیا کوئی فاروق بن گیا
حاصل رہی ہے جن کو بھی قربت رسول کی
میں اسوۂ رسول پہ چلتا رہوں مدام
ہر دم مرے عمل میں ہو سنت رسول کی
نعتیں عتیق اپنی زباں پر سجا کے رکھ
اے کاش ہو تجھے بھی زیارت رسول کی

0