کہوں کیا رنگ اس گل کا، اہا ہا ہا اہا ہا ہا
ہوا رنگیں چمن سارا، اہا ہا ہا اہا ہا ہا
نمک چھڑکے ہے وہ کس کس مزے سے دل کے زخموں پر
مزے لیتا ہوں میں کیا کیا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
خدا جانے حلاوت کیا تھی آبِ تیغِ قاتل میں
لبِ ہر زخم ہے گویا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
شرار و برق میں کیا فرق میں سمجھوں کہ دونوں میں
ہے اک شعلہ بھبھوکا سا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
بلا گرداں ہوں ساقی کا کہ جامِ عشق سے مجھ کو
دیا گھونٹ اس نے اک ایسا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
مری صورت پرستی حق پرستی ہے کہوں میں کیا
کہ اس صورت میں ہے کیا کیا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
ظفر عالم کہوں کیا میں طبیعت کی روانی کا
کہ ہے امڈا ہوا دریا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
بحر
ہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

3
323

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں
کمال غزل ہے ماشاءاللہ ۔ عروض ایک بہت ہی شاندار ویب ہے ۔ میں اس سے مطمئن ہوں اور اس کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کی یہ محنت اور اردو شاعری کی ترقی اور ترویج کے لیے یہ جو کام کر رہے ہیں جو کہ نہایت کی شاندار ہے۔

بہت شکریہ عبدالبر صاحب۔

0
سر ماشاءاللہ بہت اچھی ایپلیکیشن ہے۔