شمارِ سبحہ،" مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا
بہ فیضِ بے دلی، نومیدیِ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدہِ مشکل پسند آیا
ہوائے سیرِ گل، آئینہِ بے مہریِ قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


652
ستائش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاقِ نسیاں کا
بیاں کیا کیجئے بیدادِ کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرہِ خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا
نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع ، میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ، ہوا ریشہ نَیَستاں کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
456
نہ ہوگا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
171
سراپا رہنِ عشق و نا گزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی خمارِ تشنہ کامی بھی
جو تو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
182
نہ وہ راتیں نہ وہ باتیں نہ وہ قصّہ کہانی ہے
فقط اک ہم ہیں بستر پر پڑے اور ناتوانی ہے
بھلا میں ہاتھ دھو بیٹھوں نہ اپنی جان سے کیوں کر
خرام اس کے میں اک آبِ رواں کی سی روانی ہے
تو یوں بے پردہ ہو جایا نہ کر ہر ایک کے آگے
نیا عالم ہے تیرا اور نئی کافر جوانی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


1
1185
جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
نمک پاشِ خراشِ دل ہے لذت زندگانی کی
کشاکش‌ ہائے ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادی
ہوئی زنجیر، موجِ آب کو فرصت روانی کی
پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے
شرارِ سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
195
نکوہش ہے سزا فریادئ بیدادِ دل بر کی
مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشے
اگر بو دے بجائے دانہ دہقاں نوک نشتر کی
پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتیٔ مے تھا
ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دورِ ساغر کی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
134
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے
کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے
رفوئے زخم سے مطلب ہے لذت زخمِ سوزن کی
سمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
چٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
226
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم اہلِ ہمت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو ، مے خانہ خالی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
181
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے 'شرمِ نا رسائی' کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو' حسنِ تماشا دوست' رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
206
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں
کہ ہے سر پنجۂ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
229
تپش سے میری ، وقفِ کشمکش ، ہر تارِ بستر ہے
مرا سر رنجِ بالیں ہے ، مرا تن بارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ ، نورُ العینِ دامن ہے
دلِ بے دست و پا افتادہ بر خور دارِ بستر ہے
خوشا اقبالِ رنجوری ! عیادت کو تم آئے ہو
فروغِ شمع بالیں ، طالعِ بیدارِ بستر ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
120
خطر ہے رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے
غرورِ دوستی آفت ہے ، تو دشمن نہ ہو جائے
سمجھ اس فصل میں کوتاہیٔ نشو و نما ، غالبؔ!
اگر گل سرو کے قامت پہ ، پیراہن نہ ہو جائے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
90
گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفا داری
کیا کرتے تھے تم تقریر، ہم خاموش رہتے تھے
بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی، جانے دو، مل جاؤ
قَسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
190
اٹھا اک دن بگولا سا جو کچھ میں جوشِ وحشت میں
پھرا آسیمہ سر، گھبرا گیا تھا جی بیاباں سے
نظر آیا مجھے اک طائرِ مجروح پَر بستہ
ٹپکتا تھا سرِ شوریدہ دیوارِ گلستاں سے
کہا میں نے کہ "او گمنام! آخر ماجرا کیا ہے
پڑا ہے کام تجھ کو کس ستم گر آفتِ جاں سے"

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
131
بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
اِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے
یہ کیا تشبیہِ بے ہودہ ہے، کیوں موذی سے نسبت دیں
ہُما عارض کو، اور کاکل کو ہم ظلِّ ہما سمجھے
غلط ہی ہو گئی تشبیہ، یہ تو ایک طائر ہے
اسے برگِ سمن اور اُس کو سنبل کو جٹا سمجھے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
152
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائی
پئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائی
وقارِ ماتمِ شب زندہ دارِ ہجر رکھنا تھا
سپیدی صبحِ غم کی دوش پر رکھ کر کفن لائی
شہیدِ شیوۂ منصور ہے اندازِ رسوائی
مصیبت پیشگیِ مدّعا دار و رسن لائی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
101
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے
تسلّی جانِ بلبل کے لیے خندیدنِ گل ہے
نمودِ عالَمِ اسباب کیا ہے؟ لفظِ بے معنی
کہ ہستی کی طرح مجھ کو عدم میں بھی تامّل ہے
نہ رکھ پابندِ استغنا کو قیدی رسمِ عالم کا
ترا دستِ دعا بھی رخنہ اندازِ توکّل ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
140
سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے
کمینِ درد میں پوشیدہ رازِ شادمانی ہے
عیاں ہیں حال و قالِ شیخ سے اندازِ دلچسپی
مگر رندِ قَدَح کش کا ابھی دورِ جوانی ہے
ثباتِ چند روزہ کارفرمائے غم و حسرت
اجل سرمایہ دارِ دورِ عیش و کامرانی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
101
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں ، قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں ، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحاں آخر
ہنوز اس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
217
کبھی نیکی بھی اس کے جی میں ، گر آ جائے ہے ، مجھ سے
جفائیں کر کے اپنی یاد ، شرما جائے ہے ، مجھ سے
خدایا ! جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے !
کہ جتنا کھینچتا ہوں ، اور کھنچتا جائے ہے ، مجھ سے
وہ بد خو ، اور میری داستانِ عشق طولانی
عبارت مختصر ، قاصد بھی گھبرا جائے ہے ، مجھ سے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
209
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں ، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
871
لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
قیامت کشتۂ لعلِ بتاں کا خواب سنگیں ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
96
سیاہی جیسے گر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر
مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہائے ہجراں کی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
106
ہجومِ نالہ ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے
خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے
تکلف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بد خویاں
نگاہِ بے حجابِ ناز تیغِ تیزِ عریاں ہے
ہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادی
کہ صبحِ عید مجھ کو بدتر از چاکِ گریباں ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
136
نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی
مری محفل میں غالبؔ گردشِ افلاک باقی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
86
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
320
فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
نہیں رفتارِ عمرِ تیز رو پابندِ مطلب ہا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
142
کہوں کیا رنگ اس گل کا، اہا ہا ہا اہا ہا ہا
ہوا رنگیں چمن سارا، اہا ہا ہا اہا ہا ہا
نمک چھڑکے ہے وہ کس کس مزے سے دل کے زخموں پر
مزے لیتا ہوں میں کیا کیا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا
خدا جانے حلاوت کیا تھی آبِ تیغِ قاتل میں
لبِ ہر زخم ہے گویا، اہا ہا ہا، اہا ہا ہا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


10
1410
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب
قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
197
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے
جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہو
وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفاۓ دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
99
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے
تکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
156
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
چمن زنگار ہے آئینۂ بادِ بہاری کا
حریفِ جوششِ دریا نہیں خود دارئ ساحل
جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
310
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا
مِسی آلود ہے مُہرِ نوازش نامہ ظاہر ہے
کہ داغِ آرزوئے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
بہ امیّدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اس کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
76
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
فنا "تعلیمِ درسِ بے خودی" ہوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
247
صفائے حیرتِ آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر
تغیر " آب بر جا ماندہ" کا پاتا ہے رنگ آخر
نہ کی سامانِ عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
ہوا جامِ زُمرّد بھی مجھے داغِ پلنگ آخر

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
163
جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
بہ رنگِ کاغذِ آتش زدہ نیرنگِ بے تابی
ہزار آئینہ دل باندھے ہے بالِ یک تپیدن پر
فلک سے ہم کو عیشِ رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
متاعِ بُردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
166
ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
تکلف بر طرف! مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
111
نہ لیوے گر خسِ جَوہر طراوت سبزۂ خط سے
لگا دے خانۂ آئینہ میں رُوئے نگار آتِش
فروغِ حُسن سے ہوتی ہے حلِّ مُشکلِ عاشق
نہ نکلے شمع کے پاسے ، نکالے گر نہ خار آتش

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
85
جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ
مبارک باد اسدؔ، غمخوارِ جانِ دردمند آیا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
159
اسدؔ! یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون تَوام ہے
جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
126
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائيں گے راہِ خدا، ایسے نہیں ہوتا
گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
مرے قاتل حسابِ خوں بہا ، ایسے نہیں ہوتا
جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


2
1316
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی​
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی​
​ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا​
یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی​
​حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو​
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی​

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


1
1267
جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی
کوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانی
کوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا
نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانی
یہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوق عریانی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


323
الٰہی خلقتِ آدم کے ہیجانی ارادے میں
کروروں ہونکتے فتنے ہیں غلطاں ہم نہ کہتے تھے
تری تسبیح کو حاضر ہے لشکر خانہ زادوں کا
یہ آدم ہے بڑا باغی نرا طاغی کھرا کھوٹا
ڈبو دے گا لہو میں دہر کو یہ خاک کا پتلا
بشر پیغمبرِ شر ہے اِسے پیدا نہ کر مولیٰ

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


947