Circle Image

راشد ڈوگر

@rmdogar

درد نظریں چرانے لگے ہیں
خواب سارے ٹھکانے لگے ہیں
اک نظر کے نشانے لگے ہیں
لوگ باتیں بنانے لگے ہیں
تیری تصویر کا ورد کرتے
چشمِ دل کو زمانے لگے ہیں

0
19
ہے کون راستہ دیکھے جو بام پر میرا
ہے سائبان سے اوجھل بھی ایک گھر میرا
ہاں اجلی صبح کے جیسی ہے وہ گلی میری
تو چاندنی سا سہانا ہے اک نگر میرا
کئی حقیقتوں کے درمیان رہتا ہوں
جو میں اِدھر ہوں تو ہمزاد ہے اُدھر میرا

0
25
آئے جو کوئی بھی روتا ہوا آئے
جائے جو کوئی تو چپ سادھ کے جائے
نت نئے خواب و خیالات کمائے
اور حقیقت میں کئی یار گنوائے
گائے دھڑکن نے محبت کے ترانے
اور فرقت نے نئے گھاؤ لگائے

0
19
آئے جو روز وہ گھائل جائے
جائے جو شام وہ بوجھل جائے
اک تری جادو نگاہی کے بنا
یوں لگے دار پہ پل پل جائے

0
6
ہیں شش جہات یہ آئینہ خانہ
میری تصویریں خانہ در خانہ
میرے ہونے سے سارا جادو ہے
میرے جانے سے ہر سُو ویرانہ

0
17
راستہ ہم قدم نہیں ہوتا
فاصلہ تجھ سے کم نہیں ہوتا
مری دنیا ہے میرے ہونے سے 
میں نہ ہوتا تو غم نہیں ہوتا
تیری یادوں کو چھوڑ دوں تنہا 
مجھ سے ایسا ستم نہیں ہوتا 

0
22
‎جو وہ پتھر کا دل پگھل جائے
 شاید اپنا بھی دل سنبھل جائے
 لَو کے ہوتے میں لَو لگا لو تم 
یونہی سوچوں میں دن نہ ڈھل جائے 
پھونک کر جان کو محبت میں
 کر لو کندن کہ یہ اَچھل جائے 

0
38
کئی سچ ہیں ایسے جو میں جانتا ہوں
مگر خامشی کو بڑا مانتا ہوں
اگرچہ مجھے کچھ نہ اپنی خبر ہے
پرائے سبھی لہجے پہچانتا ہوں
خیالوں کی سِل پر میں حرفوں کو پیسوں
پھر اس دھول سے میں سُخن چھانتا ہوں

0
25
بھری محفل میں تنہا کر دیا ہے
تخیل نے تماشا کر دیا ہے
ترے ہونے کا میٹھا میٹھا موسم
اک ان ہونی نے کڑوا کر دیا ہے
یکایک آگہی کے حادثے نے
کسی بچپن کو بوڑھا کر دیا ہے

0
39
کوئی مصور ہے ان جاگتی تصویروں کا
ایک تجلی جو منشورِ زمیں سےگزری

0
29
سینہ میرا سینہ نہیں، مدفن ہے یہ گزرے کل کا
دھڑکن میری رفعتِ گم گشتہ پر نوحہ کناں ہر دم

0
25
سانسوں ہی سے ضروری تھے وہ پیارے لوگ
جانے ہیں آج کہاں مرے کل کے وہ سارے لوگ

0
17
کسی خیال کے تابع ہیں اپنے قلب و جاں
کوئی حسین تصور پہ راج کرتا ہے

0
9
کسی کا آئینہ یا اپنے آپ میں جہاں ہوں میں؟
چراغ ہوں کہ دیے کی لَو، آگ یا دھواں ہوں میں!
بقا ہے حافظے کی بس کسی کے نام کی آہنگ
رہی خبر نہ کہ کیوں ہوں کیا ہوں اور کہاں ہوں میں

0
17
کبھی ترے جلال سے بھسم ہوئے
کبھی ترے جمال سے مہک گئے
کبھی گھٹا وصال کی برس گئی
کبھی شرر فراق کے بھڑک اٹھے

0
18
خالی گھر بار سے باتیں کیں
لگ کے دیوار سے باتیں کیں
تیرے چلے جانے کے بعد
تیری گفتار سے باتیں کیں
ہم تیغ زنی کریں لفظوں کی
اس نے تلوار سے باتیں کیں

0
35
رزم میں ہیں شیرِ یزداں، بزم میں کھلتا گلاب
ورد ِ حیدرؓ سے صفا دل، تن صفا ہے جیسے آب
مصطفیﷺ اور مرتضیؓ ہیں موسی و ہارون سے
سانس جیسے، جسم جیسے، نیند جیسے، جیسے خواب

9
اپنے سامنے اپنے بھائی کو کٹتا دیکھوں
چیخوں چلاؤں مگر دستِ قاتل کو نہ روکوں
میرے اس سب چیخنے اور اس رونے پہ تف ہے
صاحبِ ایمان اور مسلماں ہونے پہ تف ہے

0
8
‏جمال ہے صدیق ؓ اور عمر ؓ ہے جلال ِ نبیﷺ
عثمان ؓ حیا کی ادا اور مرتضی ؓ حالِ نبیﷺ
چاروں ہی دوست ؓ ہیں چمنِ رسالتﷺ کے پھول
خلفائے ؓ رسولِ امیںﷺ، جلوہ ءِ کمالِ نبیﷺ

12
کل میری ماں کی برسی تھی
جنم آج ہوا تھا بیٹے کا
اس دھوپ چھاوں سے جیون میں
میں گم سم اور حیران کھڑا

28
معراج میں روحِ امین کو پر کی فکر ہوئی
شبِ ہجرت، مولا علی ؓ کو نہ سر کی فکر ہوئی
سب کچھ ہی رسولِ پاکﷺ کے قدموں میں لا رکھا
صدیق ؓ کو لمحہ بھر بھی نہ گھر کی فکر ہوئی
ادراک مقامِ عشق کا نوری نہ کر سکے
یہ سبب ہے جو انھیں خَلقِ بشر کی فکر ہوئی

0
43
انﷺ کی ہے یہ چاہت کہ میں چاہوں انﷺ کو
ہے کیا مری وقعت کہ میں چاہوں انﷺ کو؟
خود وہﷺ جسے چاہیں وہی چاہے انﷺ کو
اللہ تری قدرت کہ میں چاہوں انﷺ کو
( غبارِ راہِ حجاز راشد ڈوگر)

0
44
‏ہر شام کو کہتا ہے یہ جاتا ہوا سورج
اے کاش مجھے پھر سے ہو آقاﷺ کا
اشارہ

0
22
‏اسپِ زماں کو موڑ لوں ماضی کے رخ مگر
آ لیں گے راہ میں وہی صدمے فراق کے

25
میری بیٹی مجھے تم سے بڑی الفت ہے
یہ دو جہانوں کے سردارﷺ کی سنت ہے
لفظ جو جو ہیں محبت کے لئے بولے گئے
سب یکجا ہوں تو بنتی تیری صورت ہے
شفقتِ پدری کا کوئی سِرا پا نہیں سکتا
اس کے سوا جس کو یہ ملی رحمت ہے

28
سر چڑھ کے بولتا ہے یہ جادو نہیں رکے
روکو گے بھی تو عشق کی خوشبو نہیں رکے
مرشد سے پیار کی صدا ہر جا سنائی دی
سیّد کے پاؤں میں پڑے گھگرُو نہیں رکے
اک عمر سے ہے دل مرا ان کی گلی گیا
برسوں ہوئے کہ آنکھوں سے آنسو نہیں رکے

0
39
فرقتِ دوست جائے دوبھر ہو
قطرہ خود کا مٹا، سمندر ہو
بھول جائے گا جب تُو خود ہی کو
تب کہیں جاکے عشق ازبر ہو
دل لگی ابتدا فسانے کی
سچا عشق اس کتھا کا آخر ہو

38
طفیل آقاﷺ کے ہو جائے گی بدکاروں کی بخشش
خطا کاروں گنہ گاروں تو بے چاروں کی بخشش
وفا دارِ نبیﷺ ہونے ہی کا سکہ چلے گا
ہو سکے گی نہیں آقاﷺ کے غداروں کی بخشش

0
26
آپ  خاتم نبیﷺ آپ  صادق امیںﷺ
آپﷺ خیر البشر سیّد المرسلِیںﷺ
چاند سورج ستارے  جو روشن ہوئے
آپ ﷺسے  مل گیا  تارِ  نورِ جبیں
گل ہیں مہکے ہوئے آپﷺ کی خوشبو سے
اک جھلک کو ترستے ہیں  سارے   حسِیں

62
رحمتِ حق، محمدﷺ کی صورت ہوئی
سارے عالم پہ انﷺ کی عنایت ہوئی
کھارے پانی میں ڈالا لعابِ دہن
آخری بوند بھی اس کی امرت ہوئی
بے زباں کنکروں کا نصیبہ کُھلا
جاری ان کی زباں پر شہادت ہوئی

0
58
بادشاہِ فیض و عرفاں مِیر اور مولائے روم
معرفت کے دریا ہیں اور بے کراں بحرِ علوم
بادشاہ گر ہے نظر اور نور کا چشمہ مزار
ریت کے اِس ذرے کو کر دیجئے رشکِ نجوم

0
57
آپﷺ جیسا نہیں سب زماں میں کوئی
لا مکان و مکاں، دو جہاں میں کوئی
آپﷺ کے حُسن کو کر سکے جو بیاں
لفظ ایسا نہیں ہے بیاں میں کوئی
آپﷺ کا مرتبہ سب سے اعلی ہوا
ہو زمیں میں کوئی آسماں میں کوئی

59
اس نشے میں بھی ہوش رہتا ہے
من میں اک خرقہ پوش رہتا ہے
اس کے اندر کئی صدائیں ہیں
جس کا باہر خموش رہتا ہے
بس گیا ہوں مکان پختہ میں
خانہ پھر بھی بدوش رہتا ہے

47
وہ اک نگاہ جو سینے کے آر پار ہوئی
اسی نگاہ سے ویرانے میں بہار ہوئی
کوئی بھی سچ مری ہستی پہ آشکار نہیں
یہی حقیقتِ مطلق ہے آشکار ہوئی
کسی حسِین کے سر پر کلاہ کانٹوں کا
کوئی کلی کسی ظالم گلے کا ہار ہوئی

0
37
تیرے زمان و زمیں اور مکان و مکیں
میرے محیطِ خیالات کے زیرِ نگیں
سوچ کا مشعل داں ہے آدمی کا ڈھانچہ
پہنچے لَو تخیل کی جس جگہ، ہم ہیں وہیں
سالموں میں دوری ہے ارض و سما کی طرع
دل ہے کہیں، جاں کہیں اور مرا بُت ہے کہیں

0
48
میں کون اور کیا ہوں؟
میں شاعر نہیں ہوں
شاعر کی فطرت میں شامل
درد دل کے لاوے کو بحروں کے لفظوں
کے دروں سانچوں میں ڈھال اشعار کرنا
میں شاعر نہیں ہوں!

1
78
ظاہر مرا ٹھہرا ہوا اور دل ہے قیامت
اس تن پہ گزر جانے کو مائل ہے قیامت
قربت کا یہ عالم ہے بسے سینے میں میرے
چھو لینے کی چاہت ہو تو حائل ہے قیامت
کل تک جسے دیکھے ہی سے زخموں کو شفا تھی
آنکھیں ہوئیں اس چہرے سے گھائل، ہے قیامت

57
کہتے ہیں یہ روگ ترکے میں ہے ملتا !!!
سینے میں سانسیں دل میں چہرہ اٹکا!!!
تو کیا میرے سینے میں سانس اٹکی ہے!!!
یا ماں کے سہے دکھوں کی پھانس اٹکی ہے!!!

47
ہر شخص نے ہاتھ میں پتھر ہے اٹھا رکھا
درویشِ خود مست نے بھی سر ہے اٹھا رکھا
ہر ایک کی نوکِ لساں پر ہیں تیر و تفنگ
تیرے تو لہجے ہی نے خنجر ہے اٹھا رکھا

34
بیٹے کی طرح موسیٰ کو پالا کس نے؟
دریا میں فرعون ڈبویا کس نے؟
دیں کے سر کش کی سر کوبی کے لئے
کی لوگوں کے جذبات کی پروا کس نے؟
جب ہو اللہ کی رضا پیشِ نظر
مخلوق کے ارمانوں کو دیکھا کس نے؟

51
وا ہوں تو منتظر تری آنکھیں ہیں
جو موند لوں تو دل مری آنکھیں ہیں
تارے چمکتے ہیں یہ جو راتوں میں
بچھڑے پیاروں کی سبھی آنکھیں ہیں
ناظر نظارہ ایک ہوئے دونوں
تیری ہیں یا کہ شیشے کی آنکھیں ہیں

0
64
جائیں مت! کہا ہوتا
روک ہی لیا ہوتا
اور ہی زمانے میں
آپ سے ملا ہوتا
خاکدار یہ پُتلا
زندگی بنا ہوتا

48
ہو سکتا ہے وہ بات دہرائی جائے
اسی بات کے خوف سے اٹھ کے آئے
غمِ زندگی ہے نہ ہی دردِ دل اب
عجب بے حِسی بے رخی کے ہیں سائے
ترے چپکے گھر کو ترنم نے گھیرا
مرے چیختے شہر میں قہر چھائے

0
52
ہم نے دل کو پگھلا دیکھا سردیوں کی رات میں
اس نے ہم کو روتا پایا رات کے لمحات میں
شاذ دیکھا ہے کسی نے اپنے من میں جھانک کر
کہکشائیں ہیں ہزاروں کائناتِ ذات میں
آدمی کو آدمی سے ربط ہے اب خال خال
سب محبت ڈھونڈتے ہیں جیب کے آلات میں

60
شام تو اک دھوکا ہے
دن کہیں اور نکلا ہے
چشمِ دل کی پلکوں میں
یادوں کا اشک اٹکا ہے
جتنا برتن خالی ہو
اتنا ہی وہ بجتا ہے

4
80
ہے جو برسات میں بادل سے برستا پانی
میری آنکھوں سے تری یاد کا بہتا پانی
جو رہے پیاسے، نبیﷺ کے وہ پیارے بچّے
شرم سے آج بھی ہر دریا ہے ہوتا پانی
یہ جو انبار گناہوں کے ہیں میرے سر پر
بہا لے جائے گا سب آنکھوں سے چلتا پانی

2
65
میرے بہتے ہوئے آنسو ہیں پکارے جاتے
اک نظر ہم پہ جو پڑتی تو سنوارے جاتے
پاوں ہیں گرچہ مرے مٹی کی رسی سے بندھے
ماوراء سدرہ، تخیل کے شرارے جاتے
کربلا میں "اِنّی اعلم" ہی نہ ہوتا افشا
جدِّ انساں جو فلک سے نہ اتارے جاتے

0
3
75
اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے
سُکھ سے سونا چاہتا ہوں، وہ جگاتے ہیں مجھے
دھند ہے اک درمیاں حائل کئی دنیاوں کے
جن میں پنہاں راستے اکثر بلاتے ہیں مجھے
پاس میرے پھرتے چہرے اجنبی سمجھیں مجھے
دُور وقتوں کے پیارے ملنے آتے ہیں مجھے

45
سْر سے عاری شعر سے بیگانہ ہوں
عقل سے پیدل میں اک دیوانہ ہوں
رات کی تنہائی میں خود ایک بزم
اور بھری محفل میں اک ویرانہ ہوں
شمع جانیں مجھ کوپروانے مگر
جل رہا ہوں شمع کا پروانہ ہوں

2
57