Circle Image

خام

@Khaam

زندگی سے یہ بھی سبق ہے ملا
موت آخر میں ایک نعمت ہے

0
4
تو کیا ہوا جو اُس کو
محبت نہیں رہی
دولت کے کھیل میں مری
ایک نہ چلی
تو کیا ہوا ضرورت و ثروت نہیں رہی
سورج ہو سامنے تو مہِ شب کا کیا کریں

0
9
کبھی جو آنکھ لگ جائے
یا کوئی بات ایسی ہو
کہ تم محسوس یہ کر لو
کہ میرا ساتھ بے مقصد
تو تم اظہار کر دینا!!۔
ہمارے ساتھ رہنے کی

0
3
یہ چاند سورج ستارے سارے
تمہاری آنکھوں کے استعارے
تمہارے ہونٹوں کی کروٹوں پر
نثار کلیاں، گلاب سارے

0
17
تمہیں پتا ہے؟
تمہاری آنکھیں، شراب منظر ہیں۔۔۔
اُداس باغوں میں پھول کھلتے ہیں اِک تمہارے ہی مسکرانے سے
تمہاری باتیں،
شرارتیں ہی،
خوشی کی پہلی ضمانتیں ہیں۔

1
25
سینے میں شور کرتا رہتا ہے
کاش خاموش ہو کہ آنکھ لگے

0
21
چھوڑیئے درد کی داستاں
میلوں میں قہقہے بکتے ہیں

24
تھک جانا کمزوری کی علامت نہیں ہے۔اس بات کی دلیل ہے کہ سعی کی ہے۔اللہ کو یہ اس قدر پسند ہے کہ تپتی ہوئی ریت کی نیچے سے ایک ٹھوکر پر ٹھنڈا میٹھا پانی جاری کے دیتا ہے۔اُسے تھک کر بیٹھ جانے والے برے نہیں لگتے۔ہار مان کر واپس نہ اُٹھنے والے برے لگتے ہیں

0
40
وصالِ یار کا بے مثل شوق لازم ہے
فقط جدائی کو ہی ہجر نہ پکارے کوئی

0
41
اگر تم مسکرا دو تو بہاریں لوٹ سکتی ہیں
وگرنہ اب مقدر میں خزائیں ہی خزائیں ہیں

40
آخری خط جو بار بار لکھا
اُس میں پھر تُجھ کو اعتبار لکھا
چونکہ قسمت میں نہ تھا وصل ترا
ہم نے فرقت پہ بے شُمار لکھا
جس نے بھی عَلمِ حق بلند کیا
اُس کو ظالم نے داغدار لکھا

50
فقط سال ہی بدلا ہے
ترے جانے کا دُکھ نہیں

26
یہ محبت نہیں، سُن یہ الہام ہے
اس کی نہ ابتداء نہ ہی انجام ہے
ایک مدت ہوئی، تُجھ کو دیکھے ہوئے
ایک مدت ہوئی، سانس بے گام ہے
ایک مدت سے ہے، انتظارِ سحر
ایک مدت ہوئی، چار سُو شام ہے

50
بے نیاز ہونا اچھی بات ہے۔ لوگ کیا کہتے اور سوچتے ہیں، اس سے آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کیچڑ میں کھڑے رہیں اور کہیں کہ مجھے لوگوں کی پروا نہیں۔بےنیاز اور بے پروا ہونے میں فرق ہے۔Ria

0
88
عزت اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ آپ کا اختیار صرف اتنا ہے کہ اپنے حصے کا رزق اور اپنے حصے کی عزت دائیں ہاتھ سے وصول کرنے ہیں یا بائیں ہاتھ سے۔ یعنی رزق حلال کمانا ہے یا حرام۔ عزت زبردستی حاصل کرنی ہے یا اخلاق کے ساتھ۔ یاد رکھیے، اللہ کہتا ہے کامیاب دائیں ہاتھ والے ہیں، بائیں والے نہیں۔

0
46
اُداس آنکھوں سے موتی چن کے گلاب ہونٹوں سے مسکرانا
فراق راتوں میں بھی محبت کے سارے پیمان تم نبھانا
جو وصل جسموں کا ملنا ہوتا وصال کو سارے دھوکہ کہتے
سو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا خیالوں میں میرا آنا جانا
ستارے سارے یہ چاند سورج سبھی تمہاری نظر کے قائل
یہ جب تھکیں رخ سے پردہ اپنے اٹھا کے اِن کو جھلک دکھانا

0
132
میں نے دیکھا ہے پرندوں کو بھی مرجھاتے ہوئے
میں نے پھولوں کو بھی دیکھا ہے بدلتے ہوئے رنگ
میں نے دیکھا ہے درندوں میں بھی اسلوبِ سُخن
میں نے ہر آبِ رواں گرتا ہوا دیکھا ہے
تم گواہ اپنی وفاؤں کا جسے کہتے رہے
میں نے وہ شعلہ دہن ڈھلتے ہوئے دیکھا ہے

50
روئے محبوب کا یہ سحر دیکھیے
ہر طرف روشنی ہے جدھر دیکھیے
عشق ہوتا ہے اب صرف امیروں سے ہی
نوجوانوں کا یہ بھی ہنر دیکھیے
اِک نظر کے لیے ہی تو آیا ہوں میں
آپ سے ہے گذارش اِدھر دیکھیے

54
میں جب بھی شعر کہتا ہوں
تمہیں لگتا ہے کاغذ پر میں ٹسوے چن کے رکھتا ہوں
حقیقت میں،
میں خنجر لے کے سینہ چاک کرتا ہوں
بپھرتے، پھڑ پھڑاتے ایک ٹکڑے پر
میں خنجر کو دباتا ہوں

0
50
ہم کو اے خامؔ تماشے کے لیے رکھا گیا
ہم دعا کا بھی کسی سے کہیں تو کیسے کہیں

0
29
مرے محرم مرے مولا
مرے وجدان کے آقا
مرا بس ایک تُو ہی ہے
ترا کیوں میں نہیں تنہا ؟
مری سانسوں کے پہرہ ور
ہمیشہ کیوں رہے پردہ ؟

0
44
دل دکھانے کی بات کرتے ہو
چھوڑ جانے کی بات کرتے ہو
عشق ہوتا نہیں ہے جسموں سے
کس زمانے کی بات کرتے ہو؟
جانتے ہو کہ موت فرقت ہے
پھر بھی جانے کی بات کرتے ہو

0
154
تُجھ سے گر ہجر ہو یادوں سے گزارا میں کروں
اور تجھے روز محبت سے نکھارا میں کروں
تیرے ہونٹوں پہ اُداسی کا اگر پہرا ہو
اپنے ہونٹوں سے ترے ہونٹ سنوارا میں کروں
توڑتے خود ہو محبت کے سبھی پیمانے
اور کہتے ہو محبت سے کنارہ میں کروں

1
96
سارے چہروں میں خاص لگتے ہیں
آپ چہرہ شناس لگتے ہیں
اس قدر خوبرو ہیں وہ صاحب
روشنی کا لباس لگتے ہیں
جب بھی چہرے پہ مسکراہٹ ہو
خوبصورت قیاس لگتے ہیں

58
میں راہِ ہجرِ رواں کو سنوار آیا ہوں
میں سوزِ فُرقتِ جاناں گزار آیا ہوں
گزشتہ رات اُس کا قتل مجھ پہ واجب تھا
سو اپنے دل میں میں خنجر اُتار آیا ہوں
وہ ڈھونڈتا پھرے گا قبر میری سارا دن
میں اپنی قبر سے کتبہ اتار آیا ہوں

1
36
ذوالجناح زبان کو دے لگام، مت بدک
مت بھلا حُسین کے فیصلوں کی شان کو
ابنِ حیدری لہو کی قسم ہے ذوالجناح
یہ زمین و آسماں سب حسین ہی کے ہیں
مصطفٰی کے دین کے حق کی عزتِ نفس
تھی مرے حُسین کو اپنے بچوں سے عزیز

0
46
وائے قسمت، لٹ گئی میں، سر حُسیں کا لے گئے وہ
اے خدائے لم یزل ہاں تیری قدرت میں گئے وہ
وہ تھے ظالم وہ تھے قاتل وہ تو تھے ہی سب کمینے
تُو خدا ہے، مصطفیٰ کا، تُو رہا خاموش کیونکر
میں ذرا سی بے سبب سی، خاک رُو سی جان ہوں پر
تُو خدائے لم یزل ہے، تیری حیدر آبرو ہے

0
45
اے خدائے لم یزل، اے مالکِ کون و مکاں
ابن حیدر کربلا میں، دیکھتا ہے آسماں
اے محمد مصطفیٰ کے بدر کے ملجا ممد
یہ محمد مصطفیٰ کے دل کا ٹکڑا ہے حُسیں
تین سو تیرہ صحابہ کو بچایا کفر سے
یہ بَہَتّر بھی ہیں تیرے دین کی خاطر چلے

0
46