میری آل ٹائم ٹاپ لسٹ آف ادبی ناولسٹ /مصنفین یہ ہے ۔١- نمرہ احمد میں نے نمرہ کے چند ناولز پر ( مصحف ، گمان ، حد ، جنت کے پتے )  تیز مرچوں والی کھٹی میٹھی تنقید متشرع مصالحے کی طرح چھڑکی ۔ تو ساتھ ساتھ ( بیلی راجپوتان کی ملکہ ، قراقرم کا تاج محل ، پہاڑی کا قیدی ) پر تعریف و توصیف کے ڈونگرے برساۓ ۔ تنقید کا نمک اور تعریف کی شیرینی ایسے ہے جیسے نمکین چاولوں کے ساتھ میٹھا زردہ مزے لے لے کر کھایا جاتا ہے ۔وہ نمبر ون اس لئے ہے کہ اس کے ہر ناول کا موضوع مختلف ہے ۔جدت بھی ہے ندرت بھی اور لکھنے کی قدرت بھی ۔ریڈر کیسے بچے ؟ آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے ۔تو کیا دیکھیں گے ۔جہاں ایک طرف نمرہ نے ایک bumpy یا اوبر کھابڑ قسم کا طویل نا ہموار ادبی سفر طے کیا ہے ۔جس میں ناکامی و کامیابی باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔اور چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ۔تو آہستہ ہی سہی ان کی تحریر میں نکھار آتا رہا ۔دوسری طرف ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔ادبی چمار خانوں کے اہل زبان ( ایم -اردو یا پی ایچ ڈی طلبہ و طالبات  ) سے میری اکثر لارنس گارڈن میں اس بات پر بحث ہو جاتی تھی اور اب بھی قائد اعظم لائبرری ( جہاں ر

0
27
تعارف محمد عثمان حنیف عثمان حنیف کا تعلق ڈیرہ غازیخان شہر سے ہے۔ آپ نے 2019 میں سنٹر آف ایکسیلنس (بوائز) سے میٹرک مکمل کیا جہاں سر کاہش کشفی جیسے اردو کے استاد نے شاعری کی لگن دل میں بیدار کی۔ 2021 میں پنجاب کالج، ڈیرہ غازیخان سے انٹر میڈیٹ مکمل کیا۔ کالج کے دوران سر سجاد کشور سے تلمذِ فیض حاصل کرتے ہوئے شاعری کی لگن شعلہ میں تبدیل ہو گئی۔ فی الوفت محمد عثمان ICAP کے کُل وقتی طالب علم ہیں اور اسی سلسلے میں لاہور میں مقیم ہیں۔

0
9
Like and Share my page on FacebookPart 1 (پہلی قسط ۔ یہ ٢٠١٢ میں شرو ع کیا تھا مصروفیت کو وجہہ سے اب جا کر مکمل ہوا ہے ۔)وہ اکیلی بیٹھی تھی اور رات کافی گہری ہو چکی  تھی ... ایک  شب سیاہ جیسی  ناگن زلف تھر تھرا کر تاریک لبادے میں ملبوس کالی رات کا حصہ بن چکی تھی - وہ پر فسوں نیلی آنکھیں ، جن کی گہرائی حسن کا کوئی آلہ نہ ماپ سکے ، ایسی نیلو نیل شاندار بناوٹ والے نین اس کے تھے- جیسے  تنہا اور ویرانے میں ایک حسین شوخ گل کھلا ہو جو اپنے نور سے اس تنہائی کو آباد کر دے؛ اس کی آنکھیں ایسے ہی دو پھول تھیں جو وجود چمن میں بہار حسن کی موجودگی  کی  دو روشن نشانیاں تھیں - وہ دراز کالے بال جن کی چمک اور لشک ناقابل بیان تھی، بل کھاتے خوبصورت بال، جنھیں ایک ادا سے وہ جھٹکتی تھی - ایک سپیدہ سحر سا ہالہ اس کے کتابی چہرے کے گرد طواف سا کر تا تھا - جیسے کوئی شاخ سبز اپنے وجود سے نمو پانے والی ایک چٹختی کلی  کو مزید نکھار دیتی ہے ،جلا بخش دیتی ہے تو ایسے ہی سراپا سیاہ میں وہ سفید و سرخ چہرہ ایک خوشگوار تاثر چھوڑتا تھا ، جوانی کی تمازت سے بھرپور چہرہ جو چہروں میں خاص تھا، چند لمحے پیشتر وہ اس جن

0
36
جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ایک حسین صبح ملاقات

0
20
پچھلی لسٹ کے بعد کچھ میسجز ملے کہ فلاں کا نام نہیں تو اس کا نام نہیں ۔ تو بھائی یہ میری لسٹ ہے کوئی حرف آخر نہیں ہے آپ کو جو پسند ہے اس کو نمبر ون رکھیں اور اپنی لسٹ جاری کریں کوئی محنت بھی کریں troll پر ہی زندگی ختم نہیں ہوتی۔ تو لسٹ نمبر ٢ یہ ہے ١- نمرہ احمد : قراقرم کا تاج محل پہلا مقبول ناول ۔پھر مصحف ، جنت کے پتے ہٹ ہوۓ ۔ پھر نمل اور حا لم میرے نزدیک ایورج تھے ۔جو قلم کی کاٹ مصحف اور جنت کے پتے میں تھی وہ باقی بعد والے ناولز میں نظر نہیں آتی ۔چارلس ڈکنز کی طرح نمرہ کی خاصیت ان کے non - flat characters  ہیں یعنی کچھ بھی کبھی بھی ہو سکتا ہے ۔ سسپنس اور ہلکی سی نوک جھوک والی رومانوی چھینٹ بھی ان کا خاصہ ہے ۔مجھے ان میں اور شارلٹ برانتے (jane eyre ) میں کافی مماثلت محسوس ہوتی ہے ۔ مذہبی حوالے سے بھی نسیم حجازی اور عمیرہ کے بعد یہ نمرہ ہی ہیں جنہوں نے audiance کو کیپچر کیا ہے اس میں یہ چیز قابل ذکر ہے کہ میں مذہب اور رومانس فیکشن کے اختلاط کو صحیح نہیں سمجھتا اور آج بھی اس موقف پر قائم ہوں اور اس کا سخت ناقد بھی رہاہوں کیوں کہ جو انداز نسیم حجازی کا تھا ویسا انداز بیان اور caliber بہت

0
9
Bigo live ایک آن لائن گپ شپ کی بیحد مقبول  سوشل ایپ ہے۔ جہاں لڑکیاں لڑکے بچے اور بزرگ  بن ٹھن کر فل میک اپ میں ویڈیو آن کر کے بیٹھتے ہیں اور صارفین یعنی غریب عوام اسی ونڈ و میں بات یا text کر سکتی ہے ۔ ہر طرف " بلے جانی " بلے راجہ " ویلکم ہو گیا اور ڈریگن مارو یا چلو pk لگائیں جیسی آوازیں آتی رہتی  ہیں ۔ punishment pk میں دو لوگ براڈ پر pk لگاتے ہیں مقابلہ ہوتا ہے اور دونوں طرف کے حمایتی اپنی اپنی براڈ کاسٹر (سجی سجائی لڑکیوں ) کو sending یعنی گفٹس اور پوائنٹس دے کر جتواتے ہیں ۔ جو جیت جاتا یا جاتی ہے وہ دوسرے کو سزا دیتا ہے اور اگلی کو وہ سزا live ہی کرنی پڑتی ہے۔ یہ انتہائی واہیات اور فحش قسم کے کام کرواتے ہیں جیسے اپنی شرٹ میں ٹھنڈا پانی ڈالو اور یہ کہو ۔۔۔۔۔گھسیٹی مارو ۔۔۔دیوار سے خود کو رگڑو ۔۔۔یا فحش پوز میں push up مطلب بیٹھکیں لگاؤ ۔ منہ کو اس رنگ سے رنگ لو ۔ سيكسی آوازیں نکالو وغیرہ وغیرہ تو نیچے پاکستانی عوام جو جیتنے والی یا والے کو سپورٹ کرتے ہیں وہ سچی مچی کے پیسے لگا کر یہ گفٹس دیتے ہیں جیسے ایک dragon قریب 32000 روپوں کا آتا ہے ۔تو ایک بڑے مقابلے میں ١٠٠ ڈریگن تک مار دئیے جا

0
11
آج کل کچھ اس طرح کے لوگ ہیں کہ شیخی بازی اور show off کے چیمپین سمجھ لو۔ جو سہولت یا دولت یا چیز انھیں ملتی ہے شعبدہ  بازی بلکہ شودہ بازی شروع ہو جاتے ہیں۔ اقسام کچھ یوں ہیں نو دو لتیے : تازہ تازہ امیر ہوۓ یہ حضرات ہر بات پر اپنے بینک بلینس کا ذکر ضرور کرتے ہیں سننے والا تنگ آ جاتا ہے ۔میں نے کل ٤ کروڑ کا پلاٹ لیا آج بیچ دیا کل پھر لوں گا تم کراے کے گھر رهتے ہو تم کیا سمجھو !نو دو کار : ہر بات میں اپنی کار کا ذکر ۔ یار یہ اس کی اسپیڈ تو چیک کر ۔ کیا رنگ و روغن ہے ۔کیا ماڈل ہے ۔ وغیرہ وغیرہ نو دو آفس لوگ : قسمت نے یاوری کی اور آفس مل گیا تو دماغ آپے سے باہر ۔ یعنی ان سے پہلے کبھی کوئی آفس کسی کو نہیں ملا تھا ۔ ٹرمپ کا بیحد سادہ آفس دیکھ لو یا بل گیٹس جو آفس میں صوفے پر سو جاتا تھا حقیقی کامیاب لوگ چھچھورے  اور شوخے نہیں ہوتے ۔نو دو سیاح : یہ سب سے مزیدار قسم کے شوخے ہوتے ہیں ۔اگر کسی طرح باہر کسی ملک جیسے امریکہ یا کینیڈا ایویں وزیتر ویزا پر گرتے پڑتے پہنچ گیئے تو لگے شیخیا ں مارنے ۔ یہ نیاگرا فالز ہے آپ دیکھ رہے ہو نا کہ یہ ایک آبشار ہے جو کہ نیاگرا فالز کہلاتی ہے ۔ جیسے ان سے پہ

0
15
مشہور شاعر سید محمد محسن کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک معراج نامہ لکھا جو قصیدہ لامیہ کے نام سے موسوم ہے۔۔ اور جو اردو زبان کے معراج ناموں میں ایک بلند مقام رکھتا ہے، وہ قصیدہ لیے سیدی اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آ گئے، کہ ان کو سناتا ہوں۔ ظہر کا وقت تھا، سیدی اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو بتایا کہ میں کس غرض سے آپ کے پاس آیا ہوں، سیدی اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ، عصر کی نماز کے بعد آپ کا قصیدہ سنتے ہیں۔آپ نے اسی دوران ظہر سے عصر کی قلیل مدت میں 67 اشعار کا یہ قصیدہ معراجیہ لکھ لیا۔عصر کی نماز کے بعد میرے محبوب سیدی اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ پہلے میرا قصیدہ سن لو اور اپنا قصیدہ سنایا، جس کو سن کر سید محسن کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا قصیدہ سنانے سے انکار کر دیا۔*🌹یوں محسوس ہوتا ہے میرے محبوب کی بارگاہ میں الفاظ دست بستہ حاضر ہوتے تھے کہ آپ مجھے قبول فرما لے مجھے قبول فرما لے شاعری کے اعلی ترین کلاموں میں سے ایک کلام قصیدہ معراجیہ جو اتنی کم مدت میں لکھا گیا اور اپنے آپ میں ایک شان رکھتا ہے🥰🌹**✍🏻 گدائے رضا نور علی عطاری رضوی*

0
11
آج کل ایک نیا دھوکا دینے کا طریقہ سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ چند چرب زبان نوسرباز قسم کے لوگ آپ کو آن لائن سکلز سکھانے کا کہ کر رجسٹریشن  فیس لیتے ہیں اور انسٹا یا فیس بک یا زوم پر یہ نوسر باز وہ کورسز آن لائن کروانے کا کہتے ہیں جو کہ نا صرف پیسے کا ضیاع ہے بلکہ ان کو اس کورس کی الف بے بھی پتا نہیں ہوتی کسی مستند ادارے کی ڈگری بھی نہیں ہوتی کوئی ٹریک رکارڈ اپنی کامیابی کا بھی نہیں ہوتا بس چرب زبانی ، ظاہری شو شا اور بے تکے قسم کے جھوٹے خواب کہ آپ گھر بیٹھے خود مختار بن جائیں اتنے پیسے کمائیں اپنا کیرئیر بنا لیں ۔سب بکواس ! اس میں لڑکیاں سب سے آگے ہیں خود ابھی تعلیم مکمل کر رہی ہیں اور یہاں بھانت بھانت کے کورسز کا بتا کر خوب کما رہی ہیں ہر کوئی الن مسک بن چکی ہے کتنی تو گھر بیٹھے بل گیٹس بن چکی ہیں ۔ان سوشل میڈیا کی چڑیلوں سے بچیں ۔ اگر کوئی بھی کورس کرنا ہی ہے تو اس کا keyword گوگل پر سرچ کریں پھر ٹاپ کے رزلٹس میں سے اپنی مرضی کی ویب سائٹ یا ٹرینر منتخب کریں وہاں پر گوگل ان کی credibility rating بھی بتا دیتا ہے اس طرح آپ ان نیم حکیموں سے بھی بچ جاؤ گے اور پیسا اور گمراہ کن قسم کی ٹریننگ سے بھی بچ جائیں گے۔ یہ طریقہ سب پر لاگو ہوتا ہے مگر مذہبی کورسس کو نکال کر ۔یعنی اگر کوئی قرآن یا حدیث یا دینی باتیں سکھا رہا یا رہی ہے تو اس کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا ، بہتر تو یہی ہے کہ اپنے فرقہ کےکسی مستند عالم یا جید کتاب سے راہ نمائی لیں مگر دین کی بات تو صدقہ جاریہ ہے کہیں سے بھی (مفت ) ملے تو لے لیں کیوں اجر تبلیغ کسی بھی مبلغ یا صوفی یا دین دار نے پوری مسلم تاریخ میں نہیں لیا دین کی بات بتانے کا  کوئی پیسا نہیں لیا کیوں اجر تبلیغ فی سبیل اللّه ہوتا ہے اگرچہ قاری یا قاریہ  اس سے مستثنیٰ ہے کیوں کہ ان کی یہ روزی ہے ۔اور ہاں یہ پھلجھڑیوں فل فلوٹوں سوشل میڈیا کی چڑیلوں سے بچیں 

14
مری ماں کہتی ہے "میں پیدائیشی عاشق ہوں"۔شاعری کی ابتداء تو سن 1998 میں ہو گئی تھی جب میں محض آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا لیکن عشق کی ابتداء میری پیدائیش سے ہی ہو چُکی تھی، میں شاعر بعد میں بنا لیکن عاشق پیدا ہوا اور عاشق ہی مر جاؤں گا۔17 دسمبر 1982 کی صبح ، اک عاشق نے راولپنڈی ریلوے جنرل ہاسپتال کی  برستی بوندوں اور سیلی نم فضا میں اپنی آنکھیں کھولی تھیں شاید یہ ہی وجہ ہے کہ بارش آج بھی اُتنا ہی بےچین کرتی ہے جتنا کسی عاشق کو معشوق سے ملاقات سے پہلے کے لمحے بے چین کرتے ہیں۔میرا  بچپن عام بچوں سے مُختلف نہیں تھا لیکن اک انفرادیت تھی کہ جس زمانے میں بچے کارٹونوں کے شوقین تھے میں عمرو عیار اور ٹارزن کی کہانیوں میں کھویا ہوا تھا اور جس وقت میرے ہم عمر  عینک والا جن اور ویڈیو گیمز میں مگن تھے  میں اشفاق احمد کی "ایک محبت سو افسانے ' اور ممتاز مفتی کے "علی پُور کا ایلی " پڑھ رہا تھا اور جس عمر میں میرے ہم جماعتوں کو اپنے امتحانوں اور نتائج کی فکر تھی میں اس وقت "راجہ گدھ" کا قیوم بنا ، اپنی سیمی ڈھونڈ رہا تھا۔ یہ عشق میری گُھٹی میں ہے کہ بچپن سے ہی میں لاشعوری طور پر جنسِ مخالف پہ نثار ہوتا رہا

0
14
میرا نام شایان علی ہے اور میں پشاور، پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں۔اور شاعر ہوں پشاور سے۔میرا تخلص‎ (طلبؔ) ہے۔اور مجھے شاعری پسند ہے۔ اور میں اپنی خود کی شاعری گیارہ(11)سال کی عمر سے لکھ رہا ہوں۔پہلے تو میں اپنے دوستوں اور عزیزوں کے سامنے شاعری کرتا تھا۔ پر ابھی میں نے سوچا کہ میں سب کے سامنے شاعری کروں۔ تو بس آپ کی دعائیں اور آپ کا پیار چاہیے۔

2
68
میں شہباز خالد کلکتوی عروض کے اس ویپ سائٹ سے کے تمام اراکین کو مبارک بادی دیتا ہوں انہوں نے صرف زبانی طور پر اردو کی خدمت کرنا کا دعوی نہیں کیا یقینی طور پر اردو کی بھر پور خدمت کر رہے ہیں اس ساٹٹ کی وجہ سے جو اردو زبان کے متعلم اور خاص کر کے شاعری سیکھنے کےخواہاں ہیں ان تمام محبان شاعری کو اس سے بہت مدد مل رہی اس میں اراکین نے عروض پر منبی کتابیں بھی ارسال کی ہوئی ہیں متعلمین ان کتابوں سے بھی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں .... مجھے اس ایپ کے ذریعہ بہت کچھ علم لیاقت میں اضافہ کیا اور بھی اپنے سے بڑے علم والے حضرات کی تحریرں سے استفادہ کر رہا ہوں ....صمیم قلب سے ایک بار اور تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں

1
123
پہلا حصہ غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، ”غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔“عبد الرحمان بجنوری لکھتے ہیں کہ، ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ”وید مقدس“ اور ”دیوان غالب“ ۔“اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی ش

410
رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نکل پڑتی ہے ۔ وہ گلستاں سے ٹہلتی ہوئی ۔ اندھیرےسے لپٹی لپٹی ۔ خوشبو ۔ سرمست پتوں میں سے کھنکتی ہوئی نکل جاتی ہے ۔ خوشبو پنکھڑیوں سے پنکھ ڑیوں کے لمس مسلسل سے بیدار ہوتی ہے ۔ نیم باز سی لہراتی ہوئی سرسبز گھاس کی دسترس سے کوسوں دور ۔ ہوا کے یونیکورن پر سوار ۔ بادلوں سے اٹھ کھیلیاں کرتے ہوئے نکل جاتی ہے ۔ اور گل کی جو جو پنکھڑی اپنی خوشبو کھو دیتی ہے وہ ایک ایک کر کے گل کا دامن چھوڑنے لگتی ہے ۔ اور آخر کار تمام کا تمام گل ۔ خوشبو سے خالی ہوجاتا ہے ۔ گلستان وہ جو جوہر پایا جاتا تھا ۔ وہ جس کی دور سے گزرنے والے کہتے پہچان کر لیتے تھے ۔ کہ یہاں پاس میں کوئی چمن ضرور ہے ۔ اب وہ نہیں رہا ۔ ✒24 . 02 . 2021 

45
میرا نام ماجداسلام ماجدؔ ہے شاعری کا شوق ہے بس، جناب ارشد صاحب کی رہنمائی کے مطابق سب لوگ اپنا کم کر رہے ہیں جو لوگ میری لکھی بات سے دکھے ہوں(دلی طور پہ) میں طلبِ معافی ہوں۔ باقی احباب میں نے یہ نہیں لکھا تھا کہ غزل لکھنا غلط ہے بس مجھے اس میں بلا وجہ کی بڑھوتری پسند نہیں۔ باقی جو احباب یہ کام کر رہے میں انکا نیازمند بھی سب سے بڑھ کر اقبال و غالب و میر و جون ایلیاء ۔ باقی مجھے میرے نبی کا درس واقعی میں برداشت کا ہے جس پہ میں ڈٹا ہوں۔ کوئی صاحبِ علم و فن میرے کلام پہ بس اصلاح فرما دیا کریں تا کہ سفید کاغذ پہ کچھ سنہری حروف لکھے جا سکیں۔فقط:ماجداسلام ماجدؔ

3
134
میرا نام حمیرا قریشی ہے میں شاعرہ و بلاگر ہوں 

5
182
مرے ساتھ چلنا ابھی چھوڑ دے تو تری خواہشوں کے مطابق نہیں ہوں ہمیشہ سے لہجہ مرا تلخ سا ہے خلاصہ یہ ہے میں منافق نہیں ہوں

1
251
ادباء کا تعارفی سلسلہ تعارف:محترمہ صاعقہ علی نوریاحباب حوصلین السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ادباء کے تعارفی سلسلے میں جس شخصیت کا تعارف پیش کرنے والے ہیں وہ بہت ہی اچھے اخلاق کی مالکہ ہیں آپ بہت اچھی شاعری کرتی ہیں اور سب سے بڑھ کر فیسبک مشہور ادبی گروپ ماہنامہ بزم اردو ادب کی سینئر ایڈمن بھی ہیں اور نعتیہ طرحی مشاعرہ کرواتی ہیں جس میں بہت ہی اچھے شعراء کرام کا کلام پڑھنے کو ملتا ہے اور بزم اردو ادب کی طرف سے آپکو بطور بہترین ایڈمن کی سند سے بھی نوازا جا چکا ہے..اور محترم حوصلین سب سے بڑھ کر ہماری محترمہ حوصلہ افزائی ٹیم کی ممبر رہ چکی ہیں جن کے ساتھ  ہمیں کام کر کے بہت مزہ آیا اور شکر گزار ہیں ہم ان کے انہوں نے اپنا قیمتی وقت حوصلہ کودیا...آپ کی تحاریر  ماہنامہ اوج۔ بزمِ اردو ادب۔ بچوں کے رسائل اور ڈیلی کشمیر میں بھی آپ کا لکھا شائع ہوا ہے۔ آپ کی تصانیف ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں۔۔  البتہ ایک منظوم کتاب اور دو ناولز  پر کام کر رہی ہیں. ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں...  آپ اپنے نام کے بارے میں کہتی ہیں...صاعقہ نام ہماری اکلوتی پھپھو جان نے رکھا۔ ۔تخلص صاعقہ کرتے تھے۔۔پر

7
344