Circle Image

humera qurashi

@humera

السلام علیکم میں شاعرہ،نعت خواں،رائٹر اور بلاگر حمیرا قریشی

موت بس حقیقت ہے
باقی سب فسانہ ہے
خاک کا بدن تیرا
خاک میں ہی جانا ہے
یہ محل منارے تو
جسم کے ٹھکانے ہیں

1
94
درد و غم خامشی سے سہتے ہیں
اشک پلکوں کے پاس رہتے ہیں
لفظ ڈھلتے ہیں جب بھی شعروں میں
دل کے سارے فسانے کہتے ہیں
حمیرا قریشی

0
16
رنگ و خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کے نام
زّباں تھی جسکی شاعری
وجود جسکا شاعری
جو حرّف حرف شاعری
جو لفظ لفظ شاعری
وہ ماہرِ سخنوری

306
وجود
ترا وجود مرے وجود سے جداتو نہیں
مری یہ ہستی بھی لازم ہے بیوجہ تو نہیں
تری مٹی بھی وہی ہے مری مٹی بھی وہی
یہ مرا درد ترے درد سے سوا تو نہیں
کہ ہمسفر سنگی ہوں میں تری ساتھی

0
39
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
خوب ہے بہت بہتر خوب ہے بہت بہتر
گیت بس بہانہ تھا درد گنگنانا تھا
اشک پی کے جیتے تھے کیا عجب زمانہ تھا
زرد زرد شامیں تھیں برف برف راتیں تھیں
چار سو اداسی تھی ہم کو مسکرانا تھا

6
271
شمع جلتی رہی اور پگھلتی رہی
داستانِ الم سب سے کہتی رہی
آہ بھرتی رہی غم سناتی رہی
سن کے یہ داستاں شب بھی روتی رہی
ایک دیوانہ تھا اس کا پروانہ تھا
غم سناتی رہی رات ڈھلتی رہی

0
44
ہیں مدار میں مری گردشیں میں بھٹک سکوں یہ ہوا نہیں
میں ہوں تارہ اپنے فلک پے وہ مری روشنی سے نہ دن ڈھلے
حمیرا قریشی

0
68
زندگی بڑھتی گئ تلخیاں بڑھتی گئیں
زندگی سنوارنے میں زندگی گی گزر گئ
یوں پیا جام حیات روح تلک اتر گیا
ہوگیا کسی کا خالی اور کسی کا بھر گیا
حمیرا قریشی

33
میرا نام حمیرا قریشی ہے میں شاعرہ و بلاگر ہوں 

5
187
جوانی تھی بڑھاپا ہے
کہانی مختصرسی ہے
حمیرا قریشی

42
وقت کے شجر تلے
وقت کے شجر تلے
ہم سبھی مسافر ہیں
زندگی کے سرد و گرم
موسموں کو سہتے ہیں
لمبی اس مسافت میں

90
ملاوٹ کی تجارت ہے
ملاوٹ کی تجارت ہے
ریا کاروں کی حکمت ہے
یہ ہے مٹی میں انساں کی
بدلنا اسکی فطرت ہے
یہ مطلب کا جہاں پیارے

122
مجاہدوں ہے سلام تم کو
مرے وطن کے اے چاند تاروں
عقیدتوں کے سلام تم کو
وطن کی حرمت کے پاسبانوں
ملے ہیں غازی کے نام تم کو
صبا بھی خوشبو کے دے رہی ہے

86
نبی ص کی آل کے غم کا مہینہ آیا ہے
کہ خوں سے لال ستم کا مہینہ آیا ہے
تڑپتے پیاس سے سوکھے ہوۓ لبوں کی صدا
صداۓ رنج و الم کا مہینہ آیا ہے
علی کے لال نے گردن کٹادی سجدے میں
ہے ابر آنکھ میں نم کا مہینہ آیا ہے

47
ہے انمول چاہت بھری مسکراہٹ
کسی دکھ کے پل میں خوشی کی ہے آہٹ
محبت ہو دل میں تو لب پر ہے کھلتی
یہ چپکے سے من میں کرے گدگداہٹ
یہ معصوم جذبوں کو چہرے پہ لاۓ
تو آتی ہے چہرے پہ پھر جگمگاہٹ

0
80