Circle Image

humera qurashi

@humera

میرا نام حمیرا قریشی ہے میں شاعرہ و بلاگر ہوں 

3
53
جوانی تھی بڑھاپا ہے
کہانی مختصرسی ہے
حمیرا قریشی

0
7
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
خوب ہے بہت بہتر خوب ہے بہت بہتر
گیت بس بہانہ تھا درد گنگنانا تھا
اشک پی کے جیتے تھے کیا عجب زمانہ تھا
زرد زرد شامیں تھیں برف برف راتیں تھیں
چار سو اداسی تھی ہم کو مسکرانا تھا

5
51
وقت کے شجر تلے
وقت کے شجر تلے
ہم سبھی مسافر ہیں
زندگی کے سرد و گرم
موسموں کو سہتے ہیں
لمبی اس مسافت میں

0
5
ملاوٹ کی تجارت ہے
ملاوٹ کی تجارت ہے
ریا کاروں کی حکمت ہے
یہ ہے مٹی میں انساں کی
بدلنا اسکی فطرت ہے
یہ مطلب کا جہاں پیارے

0
29
مجاہدوں ہے سلام تم کو
مرے وطن کے اے چاند تاروں
عقیدتوں کے سلام تم کو
وطن کی حرمت کے پاسبانوں
ملے ہیں غازی کے نام تم کو
صبا بھی خوشبو کے دے رہی ہے

0
23
نبی ص کی آل کے غم کا مہینہ آیا ہے
کہ خوں سے لال ستم کا مہینہ آیا ہے
تڑپتے پیاس سے سوکھے ہوۓ لبوں کی صدا
صداۓ رنج و الم کا مہینہ آیا ہے
علی کے لال نے گردن کٹادی سجدے میں
ہے ابر آنکھ میں نم کا مہینہ آیا ہے

0
5
ہے انمول چاہت بھری مسکراہٹ
کسی دکھ کے پل میں خوشی کی ہے آہٹ
محبت ہو دل میں تو لب پر ہے کھلتی
یہ چپکے سے من میں کرے گدگداہٹ
یہ معصوم جذبوں کو چہرے پہ لاۓ
تو آتی ہے چہرے پہ پھر جگمگاہٹ

0
3