Circle Image

Samar

@Samee

نہیں کھیل بچوں کا کھیتی کوئی
کسانوں کے اوپر ستم کی گھڑی
کسانوں پہ گر ظلم ڈھائے گا تو
نہ ظالم رہے گی تری رہبری
یہ فرقہ پرستوں کا دیکھو کرم
دلوں میں نہ سب کے محبت رہی

0
1
زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں
دکھ ہی دکھ ہیں آج کل اپنی خوشی کے شہر میں
مشکلیں تو ہیں بہت دنیا کے میلے میں مگر
پاتا ہوں بے حد سکوں میں بندگی کے شہر میں
چلتے پھرتے اب غزل کہنے لگا ہوں دوستو
آگیا ہوں جس گھڑی سے شاعری کے شہر میں

0
فریب ،دھوکا ،دغا سے ہمیں بچا جائے
بہت ہے لازمی عزت سے اب رہا جائے
سخن وروں کی پرکھ کا یہ وقت ہے شاید
جو سچ ہو اس کو قلم سے سدا لکھا جائے
وہی ہے جرم سزا میں نے جس کی کاٹی ہے
سلوک ساتھ تمہارے بھی کیا کیا جائے

0
خوب تعریف کی غزلوں کی پزیرائی کی
شکریہ تم نے سدا میری شناسائی کی
جس کے بارے میں بتایا تھا مجھے لوگوں نے
بات نکلی مرے لب سے اسی ہرجائی کی
انجمن میں میں انہیں دیکھوں مجھے وہ دیکھیں
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

0
فرض اپنا بھی نبھاؤں گا چلا جاؤں گا
پیار دنیا کو سکھاؤں گا چلا جاؤں گا
کوئی بھٹکے گا نہیں راستہ اپنا ہر گز
میں پتہ سب کو بتاؤں گا چلا جاؤں گا
زندگی اپنی میں جیتا ہوں سہارے کے بغیر
بارِ غم اپنا اٹھاؤں گا چلا جاؤں گا

0
پیغام کتنے دن سے تمہارا ملا نہیں
کیا حال ہے تمہارا مجھے کچھ پتہ نہیں
ان کی حسین یاد مرے دل پہ نقش ہے
ان کا خیال دل سے کبھی بھی جدا نہیں
تعریف کر رہے ہیں سبھی آپ کی بہت
سب نے سنا ہے آپ کو میں نے سنا نہیں

0
2
کیا تجھ کو پتہ جانَ ادا ہے کہ نہیں ہے
ہر شخص کی آنکھوں میں دغا ہے کہ نہیں ہے
جو ہیں بڑے ان کی کبھی عزت نہیں کرتا
آنکھوں میں تری شرم و حیا ہے کہ نہیں ہے
تم چھوڑ کے الفت مری پردیس چلے ہو
میرے لئے دلبر یہ سزا ہے کہ نہیں ہے

0
3
مجھے اپنوں سے کچھ کہنا نہیں ہے
کسی کا ظلم بھی سہنا نہیں ہے
بسا لوں گا الگ دنیا میں اپنی
تری دنیا میں اب رہنا نہیں ہے
پھٹے کپڑوں میں رہتا ہوں ہمیشہ
لباسِ فاخرہ پہنا نہیں ہے

0
2
مرا جنون محبت مہان لگتا ہے
صنم کا گھر مجھے اپنا مکان لگتا ہے
ستم گروں تمہیں بلکل ترس نہیں آتا
وطن میں کتنا پریشاں کسان لگتا ہے
مدد ہماری وہ کرتا ہے وقتِ مشکل میں
عدو وہ میرا نہیں مہربان لگتا ہے

0
1
ہر بات کیوں انوکھی ہوتی ہے عاشقی کی
مجنوں ہوا کسی کا لیلیٰ ہوئی کسی کی
مہلت ملی ہے ہم کو تھوڑی سی اس جہاں میں
اتنی سی ہے کہانی اے یار زندگی کی
حیوان بن گیا ہے نفرت کی زہر پی کر
اس دور میں نہیں کچھ اوقات آدمی کی

1
98
یکجا کلام
نہیں زور اتنا بلاؤں میں ہے
اثر جتنا ماں کی دعاؤں میں ہے
وہ صندل بدن تھا بڑا ماہرو
مہک جس کی شامل فضاؤں میں ہے
کیا کرتے ہیں جملہ بازی بہت

5
44
ایک ادنیٰ کبھی اعلیٰ نہیں ہونے والا
اور گورا کبھی کالا نہیں ہونے والا
زیر جو کر نہیں سکتا ہے عدو کو اپنے
وہ تو سردارِ قبیلہ نہیں ہونے والا
اس قدر گہرا اندھیرا ہوا حاوی ہم پر
ایسا لگتا ہے اجالا نہیں ہونے والا

3
زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں
دکھ ہی دکھ ہیں آج کل اپنی خوشی کے شہر میں
مشکلیں تو ہیں بہت دنیا کے میلے میں مگر
پاتا ہوں بے حد سکوں میں بندگی کے شہر میں
چلتے پھرتے اب غزل کہنے لگا ہوں دوستو
آگیا ہوں جس گھڑی سے شاعری کے شہر میں

3
تمہارے کاموں کا پورا حساب رکھتے ہیں
ہر اک سوال کا مسکت جواب رکھتے ہیں
سبھوں سے ملتے ہیں ہم اپنے دوستوں کی طرح
کتابِ دل میں محبت کا باب رکھتے ہیں
کچھ ایسے لوگ ہیں دنیا میں آج بھی یارو
"دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں"

4
جب سے آنکھوں میں کوئی خواب حسیں رکھا ہے
اس کی تعبیر کا تحفہ بھی کہیں رکھا ہے
جس کی فطرت ہے سدا لوگوں کو دھوکا دینا
کیوں اسے آپ نے پھر اپنا امیں رکھا ہے
سب کو دیتا ہوں محبت کا حسیں گلدستہ
جزبہ نفرت کا کبھی دل میں نہیں رکھا ہے

2
دو قدم ساتھ میں چلنے نہیں دیتا کوئی
مجھ کو کچھ کام بھی کرنے نہیں دیتا کوئی
فون کرتا ہوں تو سنتا نہیں کوئی لیکن
ملنا چاہوں بھی تو ملنے نہیں دیتا کوئی
پہلے تو ملنے پہ پابندی لگا رکھی ہے
بات بھی اس سے تو کرنے نہیں دیتا کوئی

7