Circle Image

Samar

@Samee

غزل
دشمن تو مرے گھر کو بچانے کے لیے ہیں
جو دوست ہیں وہ آگ لگانے کے لیے ہیں
تم اپنے نشیمن کو ذرا رکھنا بچا کر
یہ بجلیاں ان کو تو جلانے کے لئے ہیں
اس شوخ کی فطرت پہ بھروسہ نہیں کرنا

0
14
کیسا نادان ہے آتش کو لگانے والا
گھر جلا بیٹھا مرے گھر کو جلانے والا
اپنی پلکوں پہ سجاؤں تو سجاؤں کیسے
آ گیا کوئی مرے خواب اڑانے والا
زندگانی میں سوا اشک کے اب کچھ بھی نہیں
کب کا پردیس گیا مجھ کو ہنسانے والا

36
سارے عالم میں ہے رحمت آپ کی
چاہتے سب ہیں محبت آپ کی
دور اس کی ہر پریشانی ہوئی
ہو گئی جس پر عنایت آپ کی
آپ ملتے ہیں سبھی سے پیار سے
فلسفہ ہے کوئی سیرت آپ کی

34
ان اندھیروں سے یہاں لوگ جو ڈر جاتے ہیں
شام ہوتے ہی وہی لوٹ کے گھر جاتے ہیں
فصل جو لوگ اگاتے ہیں یہاں کھیتوں میں
یہ بھی سچ ہے کہ وہی بھوک سے مر جاتے ہیں
ہر جگہ آپ کا رتبہ ہے زمانے بھر میں
ہم جھکائے ہوۓ دربار میں سر جاتے ہیں

43
برکتوں کا مہینہ یہ رمضان ہے
نیکیوں کا مہینہ یہ رمضان ہے
دن گزرتے ہیں فاقوں میں ان کے بہت
بے کسوں کا مہینہ یہ رمضان ہے
فیض پاتے ہیں صائم اسی ماہ میں
رحمتوں کا مہینہ یہ رمضان ہے

21
غزل
انسان کو انسان سے ہی پیار نہیں ہے
اس قوم میں کوئی بھی وفادار نہیں ہے
یہ حسن کا بازار ہے چلتا ہے یہاں زر
دل کا یہاں کوئی بھی خریدار نہیں ہے
واقف ہے طبیعت سے مری سارا زمانہ

27
شعر کہنا یوں ہی تو نہ آیا ہمیں
جانِ من تو نے شاعر بنایا ہمیں
نیند ہم کو نہیں آئی بچپن میں جب
لوریاں گا کے ماں نے سلایا ہمیں
جب بھی کوئی خوشی ہم کو حاصل ہوئی
تیری یادوں نے آکر رلایا ہمیں

89
میری ماں کی دعا دیکھ لے
ٹل گئی ہر بلا دیکھ لے
شوق سے مجھ پہ تنقید کر
پہلے خود آئینہ دیکھ لے
میں سمندر کو پینے لگا
پیاس کی انتہا دیکھ لے

51
آپ دیوانہ کہہ کر بلاتے ہیں کیوں
مجھ کو اپنا بنا کر بھلاتے ہیں کیوں
شرم آتی ہے محفل میں گر آپ کو
بے ادب ہوکے پھر کھانا کھاتے ہیں کیوں
داد بھی کوئی جس انجمن میں نہ دے
شعر اپنے وہاں پر سناتے ہیں کیوں

2
183
جب سے ہم پاکے شہرت چمکنے لگے
سب کی نظروں میں پھر تو کھٹکنے لگے
ساری محفل پہ اک وجد طاری ہوا
سن کے میری غزل سب چہکنے لگے
کیسے منزل تلک ہم پہنچ پائیں گے
چلتے چلتے قدم بھی تو تھکنے لگے

45
کسی کو ستانے کی فطرت نہیں ہے
مجھے دل دکھانے کی عادت نہیں ہے
مجھے اپنے مولا پہ ہے جو بھروسا
کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے
سمجھنے لگا ہوں تمھیں اپنا محسن
مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے

42
جب بھی ماضی کی وہ تصویر سہانی آئی
یاد بھولی ہوئی دلکش وہ کہانی آئی
میرے آنگن کی فضاؤں کو معطر کرنے
صحنِ گلشن سے نکل رات کی رانی آئی
مشق کرنے لگا جب شعر و سخن کا میں بھی
میری غزلوں میں بھی دریا کی روانی آئی

55
جب بھی تنہائی میں تیری یاد تڑپانے لگی
پھر تری تصویر میرے دل کو بہلانے لگی
جان و دل اپنا فدا میں نے کیا جس پر سدا
بے وفائی کرکے وہ مجھ پر ستم ڈھانے لگی
ہوگئی دل کی فضا میرے اچانک خوشگوار
جب تمہاری زلف لہرائی گھٹا چھانے لگی

54
مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر راحت اندوری صاحب کو خراج عقیدت
ایک قطعہ سے
راحت تھے ایک اچھے سخنور چلے گئے
سب کی نگاہوں کے تھے جو محور چلے گئے
جانے سے ان کے بزم بھی تاریک ہو گئی
افسوس ہے وہ ماہِ منور چلے گئے

50
نہیں کھیل بچوں کا کھیتی کوئی
کسانوں کے اوپر ستم کی گھڑی
کسانوں پہ گر ظلم ڈھائے گا تو
نہ ظالم رہے گی تری رہبری
یہ فرقہ پرستوں کا دیکھو کرم
دلوں میں نہ سب کے محبت رہی

62
زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں
دکھ ہی دکھ ہیں آج کل اپنی خوشی کے شہر میں
مشکلیں تو ہیں بہت دنیا کے میلے میں مگر
پاتا ہوں بے حد سکوں میں بندگی کے شہر میں
چلتے پھرتے اب غزل کہنے لگا ہوں دوستو
آگیا ہوں جس گھڑی سے شاعری کے شہر میں

53
فریب ،دھوکا ،دغا سے ہمیں بچا جائے
بہت ہے لازمی عزت سے اب رہا جائے
سخن وروں کی پرکھ کا یہ وقت ہے شاید
جو سچ ہو اس کو قلم سے سدا لکھا جائے
وہی ہے جرم سزا میں نے جس کی کاٹی ہے
سلوک ساتھ تمہارے بھی کیا کیا جائے

52
خوب تعریف کی غزلوں کی پزیرائی کی
شکریہ تم نے سدا میری شناسائی کی
جس کے بارے میں بتایا تھا مجھے لوگوں نے
بات نکلی مرے لب سے اسی ہرجائی کی
انجمن میں میں انہیں دیکھوں مجھے وہ دیکھیں
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

102
فرض اپنا بھی نبھاؤں گا چلا جاؤں گا
پیار دنیا کو سکھاؤں گا چلا جاؤں گا
کوئی بھٹکے گا نہیں راستہ اپنا ہر گز
میں پتہ سب کو بتاؤں گا چلا جاؤں گا
زندگی اپنی میں جیتا ہوں سہارے کے بغیر
بارِ غم اپنا اٹھاؤں گا چلا جاؤں گا

74
پیغام کتنے دن سے تمہارا ملا نہیں
کیا حال ہے تمہارا مجھے کچھ پتہ نہیں
ان کی حسین یاد مرے دل پہ نقش ہے
ان کا خیال دل سے کبھی بھی جدا نہیں
تعریف کر رہے ہیں سبھی آپ کی بہت
سب نے سنا ہے آپ کو میں نے سنا نہیں

37
کیا تجھ کو پتہ جانَ ادا ہے کہ نہیں ہے
ہر شخص کی آنکھوں میں دغا ہے کہ نہیں ہے
جو ہیں بڑے ان کی کبھی عزت نہیں کرتا
آنکھوں میں تری شرم و حیا ہے کہ نہیں ہے
تم چھوڑ کے الفت مری پردیس چلے ہو
میرے لئے دلبر یہ سزا ہے کہ نہیں ہے

76
مجھے اپنوں سے کچھ کہنا نہیں ہے
کسی کا ظلم بھی سہنا نہیں ہے
بسا لوں گا الگ دنیا میں اپنی
تری دنیا میں اب رہنا نہیں ہے
پھٹے کپڑوں میں رہتا ہوں ہمیشہ
لباسِ فاخرہ پہنا نہیں ہے

46
مرا جنون محبت مہان لگتا ہے
صنم کا گھر مجھے اپنا مکان لگتا ہے
ستم گروں تمہیں بلکل ترس نہیں آتا
وطن میں کتنا پریشاں کسان لگتا ہے
مدد ہماری وہ کرتا ہے وقتِ مشکل میں
عدو وہ میرا نہیں مہربان لگتا ہے

52
ہر بات کیوں انوکھی ہوتی ہے عاشقی کی
مجنوں ہوا کسی کا لیلیٰ ہوئی کسی کی
مہلت ملی ہے ہم کو تھوڑی سی اس جہاں میں
اتنی سی ہے کہانی اے یار زندگی کی
حیوان بن گیا ہے نفرت کی زہر پی کر
اس دور میں نہیں کچھ اوقات آدمی کی

1
173
یکجا کلام
نہیں زور اتنا بلاؤں میں ہے
اثر جتنا ماں کی دعاؤں میں ہے
وہ صندل بدن تھا بڑا ماہرو
مہک جس کی شامل فضاؤں میں ہے
کیا کرتے ہیں جملہ بازی بہت

5
107
ایک ادنیٰ کبھی اعلیٰ نہیں ہونے والا
اور گورا کبھی کالا نہیں ہونے والا
زیر جو کر نہیں سکتا ہے عدو کو اپنے
وہ تو سردارِ قبیلہ نہیں ہونے والا
اس قدر گہرا اندھیرا ہوا حاوی ہم پر
ایسا لگتا ہے اجالا نہیں ہونے والا

61
زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں
دکھ ہی دکھ ہیں آج کل اپنی خوشی کے شہر میں
مشکلیں تو ہیں بہت دنیا کے میلے میں مگر
پاتا ہوں بے حد سکوں میں بندگی کے شہر میں
چلتے پھرتے اب غزل کہنے لگا ہوں دوستو
آگیا ہوں جس گھڑی سے شاعری کے شہر میں

37
تمہارے کاموں کا پورا حساب رکھتے ہیں
ہر اک سوال کا مسکت جواب رکھتے ہیں
سبھوں سے ملتے ہیں ہم اپنے دوستوں کی طرح
کتابِ دل میں محبت کا باب رکھتے ہیں
کچھ ایسے لوگ ہیں دنیا میں آج بھی یارو
"دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں"

113
جب سے آنکھوں میں کوئی خواب حسیں رکھا ہے
اس کی تعبیر کا تحفہ بھی کہیں رکھا ہے
جس کی فطرت ہے سدا لوگوں کو دھوکا دینا
کیوں اسے آپ نے پھر اپنا امیں رکھا ہے
سب کو دیتا ہوں محبت کا حسیں گلدستہ
جزبہ نفرت کا کبھی دل میں نہیں رکھا ہے

55
دو قدم ساتھ میں چلنے نہیں دیتا کوئی
مجھ کو کچھ کام بھی کرنے نہیں دیتا کوئی
فون کرتا ہوں تو سنتا نہیں کوئی لیکن
ملنا چاہوں بھی تو ملنے نہیں دیتا کوئی
پہلے تو ملنے پہ پابندی لگا رکھی ہے
بات بھی اس سے تو کرنے نہیں دیتا کوئی

113