کسی کو ستانے کی فطرت نہیں ہے
مجھے دل دکھانے کی عادت نہیں ہے
مجھے اپنے مولا پہ ہے جو بھروسا
کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے
سمجھنے لگا ہوں تمھیں اپنا محسن
مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے
مدد کیا کروں گا تمہاری بتاؤ
مرے پاس اتنی تو دولت نہیں ہے
تمہیں جانتے ہیں سبھی اہل دانش
مگر میری اتنی تو شہرت نہیں ہے
ملے گی بھلا کیسے توقیر ہم کو
ہماری یہاں قدر و قیمت نہیں ہے
ثمرؔ ہر جگہ شور و غل ہے یہاں پر
ہمارے لئے کوئی راحت نہیں ہے

28